پاکستان نے حکومتیں، نظام اور ادارے تبدیل کیے ہیں، لیکن اصل امتحان اب بھی یہی ہے کہ کیا عام شہری اقتدار میں موجود لوگوں سے انصاف کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔

پاکستان کو نظام کی اصلاح کے لیے کسی اور فارمولے کی ضرورت نہیں۔ اسے صرف ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں عام شہریوں کو انصاف فراہم کیا جائے اور اقتدار میں موجود لوگوں کو جواب دہ بنایا جائے۔

جمہوری ریاست وہ ہوتی ہے جہاں اختیار عوام کے پاس ہوتا ہے، لیکن ایک عام پاکستانی کے لیے جمہوریت کا کیا مطلب ہے جو انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑک پر نکلے اور ریاست کو اپنے خلاف کھڑا پائے؟ اپنے مردہ بچے کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنے والے خاندان کے لیے احتساب کا کیا مطلب ہے؟ اگر لوگوں کے پاس نہ اختیار ہو اور نہ ہی کسی سے سوال کرنے کا حق، تو ایسی ریاست کو ’’جمہوری ریاست‘‘ کہنے کا کیا مطلب رہ جاتا ہے؟

یہ سوالات میرے ذہن میں اس وقت آئے جب سرحد یونیورسٹی میں احتجاج کرنے والے طلبہ اور نرسری اسٹاپ پر میر رضا کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنے والے لوگوں کو خطرہ سمجھا گیا۔ مظاہرین کے خلاف ایف آئی آرز درج کی گئیں اور انصاف کا مطالبہ کرنے والے لوگوں کو روکنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی، جبکہ سرحد یونیورسٹی کے طلبہ کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا۔ اگر عوام اپنے جمہوری حقوق استعمال نہیں کر سکتے تو وہ اپنی شکایات آخر کہاں لے کر جائیں؟

میں اس خیال سے اتفاق نہیں کرتا کہ پاکستان کے مسائل صرف نظام کے ڈھانچے میں تبدیلیاں لا کر حل کیے جا سکتے ہیں۔ حال ہی میں وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ طرزِ حکمرانی کا نظام تباہ ہو چکا ہے۔ ان کے بیان کے بعد نئے صوبوں اور وفاقی کنٹرول میں اضافے کے حوالے سے کھلے مباحثے شروع ہو گئے۔ ماضی میں ہم صدارتی حکومتیں، پارلیمانی حکومتیں، مارشل لا، ہائبرڈ نظام، ون یونٹ فارمولا اور آئینی ترامیم دیکھ چکے ہیں، لیکن مسائل وہی رہے۔

تو سوال یہ ہے کہ اصل مسئلہ ڈھانچہ ہے یا یہ کہ ہم اس کے ساتھ کیا کرتے ہیں؟ میرے نزدیک ایک جمہوری ریاست دو اصولوں پر قائم ہوتی ہے—انصاف اور احتساب۔ عام شہری کو معلوم ہونا چاہیے کہ انصاف کا مطالبہ کرنا اس کا جمہوری حق ہے، جبکہ دوسری طرف اقتدار میں موجود لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ عوام کے سامنے جواب دہ ہیں۔ ان دونوں اصولوں پر عمل کے بغیر بہترین نظام بھی تباہ ہو سکتا ہے۔

حال ہی میں اسلام آباد کے پمز اسپتال کے نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں آگ لگنے سے 14 نومولود زندہ جل گئے۔ حکومت نے سیکریٹری صحت کو عہدے سے ہٹا دیا اور واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی۔ جن خاندانوں نے اپنے بچے کھوئے ہیں، وہ یہ جاننے کے حق دار ہیں کہ کیا غلط ہوا، ذمہ دار کون تھا اور اس کے بعد کیا تبدیلی آئے گی۔ حکومت محض ایک کمیٹی تشکیل دے کر احتساب سے نہیں بچ سکتی۔

پھر ہری پور کا وہ واقعہ ہے جہاں پانچ سالہ لاپتا بچی 14 دن بعد مردہ پائی گئی۔ اس کے خاندان نے اسے تلاش کرنے میں کئی دن گزارے اور ناقابلِ بیان اذیت برداشت کی۔ تاہم پولیس نے مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ لیکن ایسے واقعات یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کی ذمہ داری کس کی ہے؟

یہ احساس اس وقت مزید گہرا ہو جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ اختیار مختلف لوگوں کے لیے مختلف انداز میں کام کرتا ہے۔ عام شہری کسی بنیادی مسئلے کے حل کے لیے برسوں کوشش کرتے رہتے ہیں، جبکہ دوسری طرف طاقت رکھنے والا کوئی شخص چند منٹوں میں کام کروا لیتا ہے۔ یہی صورتِ حال عوامی خدمات پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ ٹوٹی ہوئی سڑکیں، ناکام محکمے اور تباہ شدہ عوامی سہولیات—لوگ شکایات کرتے رہتے ہیں، لیکن انہیں حقیقتاً معلوم نہیں ہوتا کہ ذمہ دار کس کو ٹھہرایا جائے۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہر فرد بدعنوان ہے، بلکہ ذمہ داری اس قدر بکھر جاتی ہے کہ احتساب ختم ہو جاتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں پُرامن احتجاج ضروری ہو جاتا ہے۔ احتجاج حکومت کے لیے براہِ راست خطرہ نہیں بلکہ ایک جمہوری حق ہے۔ تاہم پاکستان میں پُرامن احتجاج سے بھی سختی سے نمٹا جاتا ہے۔

حال ہی میں ہم نے بھارت میں دیکھا کہ پرچے لیک ہونے کے خلاف جنریشن زی کی جانب سے کیے گئے احتجاج کے دباؤ نے احتساب کا عمل پیدا کیا اور وزیرِ تعلیم کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔ میں یہ نہیں چاہتا کہ ہر احتجاج کی نقل کی جائے، لیکن میں چاہتا ہوں کہ حکومت عوامی مطالبات کا جواب جمہوری طریقوں سے دے۔

انصاف کا مطالبہ ریاست کے خلاف اقدام کیوں سمجھا جاتا ہے؟ جب کچھ غلط ہو جائے تو لوگ خود کو بے اختیار کیوں محسوس کرتے ہیں؟ لوگ احتساب کا مطالبہ کرنے سے کیوں ہچکچاتے ہیں؟ یہ سب جمہوری سوالات ہیں۔

حکومتِ پاکستان تنقید اور انصاف کے مطالبے کو ریاست سے دشمنی سمجھتی ہے۔ ریاستی ادارے اس وقت مضبوط ہوتے ہیں جب وہ تنقید قبول کرتے ہیں، اپنی خامیوں کو بہتر بناتے ہیں اور اپنے لوگوں کو جواب دہ ٹھہراتے ہیں۔ احتساب اداروں کو مضبوط بناتا ہے۔

جب ریاست عام شہریوں کو انصاف فراہم کرتی ہے اور اپنے اداروں میں احتساب یقینی بناتی ہے، تب جمہوریت کامیاب ہوتی ہے۔


اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آرا صرف مصنف کی ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ اس اشاعت، اس کی انتظامیہ یا ادارتی پالیسی کے خیالات اور آرا کی عکاسی کرتی ہوں۔ اس اشاعت کی انتظامیہ مصنف کے بیان کردہ خیالات کی کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرتی