یہ بات بھی انتہائی مایوس کن ہے کہ وہ کیسے کرپشن کرتے ہیں اور جاری رکھے ہوئے ہیں
 
پاکستان میں بیورو بیوروکریسی چار طرح سے کرپشن کرتی ہے ترقیاتی منصوبوں سے غیر ترقیاتی منصوبوں سے ترقیاتی بجٹ ترقی کے لئے مختص رقوم کے ایوارڈ تقسیم میں تنظیمی نظام ڈھانچے  زمین کانیں اور معدنی وسائل سے اور   وسائل کی تقسیم  کے انتظام میں 

 پاکستان کے ٹاپ  سو کرپٹ ترین سول سرونٹس، جن کی کار کردیگی انتہائی مایوس کن تھی وہ کرپشن کرتے تھے اور کرپشن کے بے تاج بادشاہ تھے اور آج بھی انکے چیلے بیور کریٹ انکے نقشے قدم پر چل رھے ہیں 
 
 پاکستان کے ساتھ بیوروکریسی نے پاکستان اور پاکستانیوں کے ساتھ  جو کچھ کیا ہے اس کے بارے میں شاید کسی کو علم نہیں ہے، حتیٰ کہ سول سروسز کو بھی اس کا پوری طرح ادراک نہی ہے
 شاید کسی اور مقتدر  ادارے کی اس بات میں دلچسپی بھی نہی ہے کہ بیور کریٹ کرپٹ ہیں تو معاشرے کیا نقصان ہو رھا ہے
 
یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ پاکستان میں کرپشن زدہ فائلیں خود بولتی ہیں کہ فائل کا انٹرسٹ کیا ہےاور فائل پر دستخط کرنے والے کا انٹرسٹ کیا ہے حیران کن طور پرہر فائل میں یا یوں کہیں کہ شاید کسی بھی فائل میں پبلک انٹرسٹ یا قانون کا مکمل انٹرسٹ نہی دیکھا جاتا بیور کریٹ  کو جس فائل میں صرف ذاتی انٹرسٹ نظر آئے گا وہ اوکے  کرے گا اور بس فائل کا انتظام کرنا اور اس کے ساتھ ذاتی مفاد کی چال چلناہے

 بیورو کریٹ جس طریقے سے  فائل کا انتظام کرتے ہیں یا اسکے ساتھ چالیں چلتے ہیں اس کے  ساتھ  منسلک دستاویزات  میں جس جس  طریقے سے ڈاکومنٹس ڈالتے ہیں پھر نکال دیتے ہیں فائل بدل دیتے ہیں فائل غذائیں کر دیتے ہیں  فائل چوری کرا دیتے ہیں چار چار پانچ پانچ فائلیں ہوتی ہیں

فائل منظور کوئی اور کرواتے ہیں اور کام کوئی اور کرا دیتے ہیں

   پرانے کھلاڑی بیورو کریٹ کی ایک کہاوت مشہور ہے کہ پاکستان میں نئے آنے والے بیورو کریٹس میں ایمانداری کا کیڑا ہے انکو  پرانے بیورو کریٹس  کی شاگر دی اختیار کر کے  فائلوں کے اوپر پی ایچ ڈی کرنے کی اشد ضرورت ہے

 بیوروکریسی اتنی زیادہ مفاد پرست ہے اور ذاتی مفاد رکھتی ہے کہ جہاں ڈیجیٹل سسٹم قائم ہوتا ہے، وہاں بھی ڈیجیٹل فائلنگ کے ساتھ مینوئل فائلنگ بھی چلتی رہتی ہے

 پاکستانی بیوروکریسی کی ایک اور نفسیات وائٹ کالر جرائم کو نارمل کرنا ہے بیورو کریسی اپنے ہی سسٹمز کو اپنے ہی انٹرسٹ کے لیے بریک کرنے کی  صلاحیت رکھتی ہے ہر بیورو کریٹ کی ٹیبل پر 
بنیادی طور پر فائل رو ٹین میں چلتی ہے، لیکن جو فنانشل فائل یا ایڈ منسٹر یٹو فائل ہے وہ ان کا خاص ٹارگٹ ہوتی ہے۔ 

بیورو کریٹ مراعات اور خصوصی حقوق فائدے استحقاق اور وسائل استعمال کرنا اپنا جائیز اور قانونی حق سمجھتے ہیں

مسائل کے انتظام  کے لئے جو غیر ترقیاتی بھاری  بجٹ ہوتا ہے، وہ اسے اپنے حصے کا حق سمجھ کر لوٹ مار کرتے اور استعمال کرتے ہیں اسکے علاؤہ دفاتر کے ہیڈز ہوتے ہیں جو بجلی اور دوسری سہولیات ہیں انکو بھی حاصل اپنی زات کے لئے استعمال کرتے ہیں

پاکستانی بیورو کریٹ جو صبح سے شام تک جب تک دفتر میں بیٹھتا ہےاس کے نیچے سے جو بھی فائل آتی ہے وہ اسے اپنے انٹرسٹ  مفاد کے تناظر میں دیکھ رہا ہوتا ہے

اور پھر جب وہ دفتر سے اٹھ کر سوسائٹی میں جاتا ہے تو وہاں بھی وہ  معاشرتی ثقافتی برتری اپنا حق سمجھ کر لیتا جبکہ وہ عوام کے ٹیکس سے تنخواہ لیتا ہے اور عوام کا خادم ہی رہتا اور کہلواتا ہے

  خادم ہونے کے باجود معاشرے نے اسکو حاکم کا فتنہ دے رکھا ہے وہ کھانوں پر  بلوایا جاتا ہے لوگوں سے ملتا ہے اور اس پورے سماجی تعلق کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتا ہے بیورو کریٹ کی  سارا دن کی مصروفیات سرکاری امور سے بڑھ کر اپنی دلچسپی اور مفاد ارد گرد گھوم رہی ہوتی ہےیہ نہیں کہ وہ ایک دو فائلوں میں اپنا  فایدہ دیکھ رہا ہوتا ہے عہ ہر چیز میں اپنا حق د یکھ رھا ہوتا ہے
 
 یورو کریٹ ناصرف  ذاتی مفاد کے لئے ریاستی  اداروں کو کرپٹ کر رہا ہوتا ہے بلکہ سوسائٹی کو بھی کرپٹ کر رہا ہوتا ہے بیوروکریسی  مسائل اور وسائل کو ذاتی مفاد حساب کتاب سے چلا کر دیکھتی بیوروکریسی نے ریاست کو تباہ کیا ہے ریاست کو کرپٹ کیا ہے اور نا صرف  باقی اداروں کو اپنے پیچھے لگایا ہے بلکہ اس نے معاشرے کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔

پاکستان میں پیسوں کے بغیر کام نہیں ہوتا جب فائلز رکتی ہیں تو معاشرے میں لوگوں نے بھی وہی چیزیں سیکھ لی ہیں کی پیسے دو اور غلط  کام کی بھی منظوری کروا لوں
 
بیور و کریسی نے  نے  پچھلے 79 سالوں میں نہ صرف ریاست اور ریاستی اداروں کو کرپشن پر لگایا ہے بلکہ سوسائٹی کو بھی کرپشن پر لگایا ہے
مثال کے طور پر وفاقی سیکرٹری کو یا  کرپشن کے باشاہوں کے صوبے  سندھ کا  کوئی سیکرٹری  ڈپٹی سیکرٹری  سیکشن آفیسر کمیشنر  ڈپٹی کمشنر  یا اسسٹنٹ کمیشنر کے آفس میں بغیر پیسوں کے کام نہیں ہوتا یہ میرا  پاکستانی شہری بطور صحافی ہیومن رائٹس ایکٹیویٹیس ذاتی تجربہ ہے تو کیا پورا ضلع پورا صوبہ اور پورا ملک  کرپشن پر نہیں چلے گا یا  لگے گا کیا سوسائٹی کرپٹ نہیں ہوگی

 بنیادی طور پر پاکستانی ریاستی اداروں نے معاشرے کو تباہ کیا ہے جس کے بارے میں ہم ہر وقت ویلو سسٹم پر  بحث کرتے ہیں اس میں بنیادی کردار بیوروکریسی نے ادا کیا ہےکیونکہ زیادہ تر اختیارات اس کے پاس ہیں منتخب عوامی نمائیندے  درجہ بدرجہ کرپشن کے مرکزی کردار ہیں  
  
 بیوروکریسی نے اپنے اوپر ایک  (ماسک) لبادہ اوڑھ رکھا ہے سارا  کام خود کرتی ہے دوسرے لوگوں کو پیچھے لگا رکھا ہے اور انکو ہی آگے کر دیتی ہے 

پاکستانی عوام کو بتا بی ہے کہ اصل معاشرتی بگاڑ کی جڑ بیورو کریسی ہیں اس کے باوجود ہماری قوم کا المیہ یہ ہے کہ  جب بیوروکریسی یا اس طرح کے لوگ معاشرے میں جاتے ہیں تو معا شرہ ان کو گرم جوشی سے خوش آمدید  کرتا ہے صرف مفاد پرستی کے لئے ان کو  اپنا مسیحا مانتا اور بناتا ہے لوگ ان کے ساتھ تصویریں کھنچو اتے ہیں ان کو کھانوں میں دعوتیں دیتے ہے ان کو شادیوں پر بلاتے ہیں 
 انکو عزت دی جاتی ہے بجائے اسکے کہ لوگ   معاشرہ انکا احتساب  کرے لوگ انکو عزت  دیتے ہیں انکا والہانہ استقبال کرتے ہیں انکو پھولوں یار پہناتے ہیں
   بیورو کریٹ حکومت کا ملازم ہے  سوسائٹی کا ایک اہم حصہ ہے جب وہ بطور  بیورو کریٹ ایک سوسائٹی سے عزت اکرام انعام حاصل کررہے ہونگے تو وہ اوپر  کی کمائی والا کام کیوں چھوڑیں گے جبکہ اسے سے تو انہی عزت اکرام مل رھا ہے 
 اگر عوام انکی کرپشن  کی چالوں کے آگے کھڑے ہو جائیں گے تو بھر کوئی کرپشن نہی ہوگی 
 اور پھر انکو بھی دیکھنا سوچنا  ہوگا کہ وہ ایسے رویے کو کیسے جاری رکھتے ہیں 

یہ حقیقت ہے کہ ہم سب نےہماری ریاست اور معاشرے کو کھوکھلا کیا ہے۔پاکستانی یونیورسٹیز کو بیوروکریسی اور بیوروکریٹس پر ریسرچ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔