انسانی تاریخ دراصل سچ اور جھوٹ کے درمیان جاری ایک طویل جنگ کی تاریخ بھی ہے۔ ہر دور میں انسان نے صرف حقیقت جاننے کی کوشش نہیں کی بلکہ کئی مرتبہ حقیقت کو اپنے مفاد، خوف، عقیدے، اقتدار اور اجتماعی تعصب کے مطابق بدلنے کی کوشش بھی کی۔ سچ ہمیشہ موجود رہا، مگر اسے قبول کرنے کی انسان کی صلاحیت ہمیشہ کمزور رہی۔ اسی لیے تاریخ میں سچ بولنے والا شخص اکثر صرف ایک فرد نہیں رہتا، وہ اپنے عہد کے اجتماعی فریب کے سامنے کھڑا ہوا ایک آئینہ بن جاتا ہے، اور معاشرے آئینے سے اکثر محبت نہیں کرتے۔

قدیم یونان میں سقراط کا قصہ انسانی تاریخ کی اسی نفسیات کا بنیادی استعارہ ہے۔ سقراط نے ایتھنز کے لوگوں سے ان کے یقینوں پر سوال کیے۔ اس نے یہ نہیں کہا کہ میرے پاس تمام جوابات ہیں؛ اس نے صرف یہ پوچھنے کی جرأت کی کہ جن چیزوں کو تم سچ سمجھتے ہو، کیا تم نے کبھی ان کی حقیقت جانچنے کی کوشش بھی کی ہے؟ نتیجہ یہ نکلا کہ سوال کرنے والا خود معاشرے کے لیے خطرہ بن گیا۔ اسے زہر کا پیالہ پینا پڑا۔ مسئلہ اس کا سوال نہیں تھا؛ مسئلہ یہ تھا کہ اس کے سوال نے لوگوں کے یقین کو بے لباس کر دیا تھا۔

تاریخ میں مذہبی، سیاسی اور بادشاہی طاقتوں نے بارہا سچ کو اپنے مفاد کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی۔ گلیلیو کا واقعہ اس کشمکش کی ایک بڑی مثال ہے۔ جب مشاہدے اور تحقیق نے پرانے تصور کو چیلنج کیا تو مسئلہ صرف فلکیات کا نہیں رہا؛ سچ اقتدار کے لیے خطرہ بن گیا۔ کیونکہ جب حقیقت انسان کے بنائے ہوئے نظام سے ٹکرا جائے تو نظام اکثر حقیقت کو نہیں، حقیقت بیان کرنے والے کو مجرم بناتا ہے۔

قرونِ وسطیٰ سے لے کر جدید دنیا تک یہی سلسلہ مختلف شکلوں میں جاری رہا۔ بادشاہوں نے اپنی شکست کو فتح کے الفاظ دیے، فاتحوں نے اپنے ظلم کو تہذیب کا نام دیا، نوآبادیاتی طاقتوں نے استحصال کو ترقی کا لباس پہنایا، اور آمریتوں نے خوف کو قومی سلامتی کا نام دے دیا۔ انسانی تاریخ کا ایک تلخ سبق یہ ہے کہ جھوٹ صرف زبان سے نہیں بولا جاتا؛ کبھی پورا نظام جھوٹ بولنے لگتا ہے۔

جدید دور میں یہ مسئلہ اور پیچیدہ ہوگیا۔ نازی جرمنی اور سوویت آمریتوں نے دکھایا کہ اگر ریاست اطلاعات، زبان، تاریخ اور خوف پر قبضہ کرلے تو وہ صرف لوگوں کے جسموں پر نہیں بلکہ ان کے ذہنوں پر بھی حکمرانی کرسکتی ہے۔ آرویل نے 1984 میں اسی خطرے کو ادبی صورت دی، جہاں طاقت صرف یہ نہیں چاہتی کہ انسان جھوٹ بولے، بلکہ یہ چاہتی ہے کہ انسان حقیقت کو پہچاننے کی صلاحیت ہی کھو دے۔ آرویل کے ہاں زبان پر قبضہ دراصل ذہن پر قبضے کی کوشش ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ انسان جھوٹ کو قبول کیوں کرتا ہے؟

نفسیات اس کا ایک تکلیف دہ جواب دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ حقیقت کی تلاش نہیں کرتا؛ وہ اکثر ایسی حقیقت تلاش کرتا ہے جو اس کے پہلے سے موجود عقیدے، شناخت اور مفاد کو محفوظ رکھے۔ اسے motivated reasoning کہا جاتا ہے، یعنی انسان معلومات کو غیر جانب دارانہ انداز میں پرکھنے کے بجائے کبھی کبھی اس نتیجے تک پہنچنے کے لیے سوچتا ہے جسے وہ پہلے ہی درست سمجھنا چاہتا ہے۔

اسی طرح cognitive dissonance انسان کے اندر اس وقت بے چینی پیدا کرتی ہے جب حقیقت اس کے یقین سے ٹکرا جائے۔ اس بے چینی سے بچنے کے لیے انسان حقیقت بدلنے کے بجائے کبھی اپنی تشریح بدل لیتا ہے۔ وہ ثبوت کو جھٹلاتا ہے، سوال کرنے والے کو بدنام کرتا ہے، یا اپنے غلط فیصلے کے لیے کوئی نیا جواز پیدا کرلیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سچ بولنے والا شخص اکثر نفرت کا نشانہ بنتا ہے۔ وہ صرف ایک خبر نہیں دیتا؛ وہ لوگوں کو ان کے اپنے بنائے ہوئے ذہنی گھر سے باہر آنے پر مجبور کرتا ہے۔ اور انسان اپنے قید خانے سے محبت بھی کرسکتا ہے، اگر اسے یقین ہو کہ یہی اس کی آزادی ہے۔

انسانی تاریخ میں انقلاب، سائنسی دریافتیں، فکری تحریکیں اور سماجی اصلاحات اسی لیے اکثر مزاحمت سے گزریں۔ ہر نئی حقیقت نے پرانے مفاد کو چیلنج کیا۔ غلامی کے خلاف آواز، عورتوں کے حقوق کی جدوجہد، مزدوروں کے حقوق، نوآبادیاتی نظام کے خلاف مزاحمت اور جمہوری آزادیوں کی تحریکیں سب نے اپنے اپنے زمانے کے قائم شدہ یقینوں کو چیلنج کیا۔ سچ کبھی صرف معلومات نہیں ہوتا؛ بعض اوقات سچ طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے والی قوت بن جاتا ہے۔

پاکستانی سماج میں بھی سچ کا مسئلہ محض اخلاقی نہیں، سیاسی اور نفسیاتی مسئلہ ہے۔ ہماری تاریخ میں بارہا ایسے مواقع آئے جب اجتماعی طور پر تلخ حقیقت کا سامنا کرنے کے بجائے اسے چھپانا آسان سمجھا گیا۔ سیاسی ناکامیوں کو سازشوں کے نام دیے گئے، ادارہ جاتی کمزوریوں کو افراد کے کردار میں چھپایا گیا، معاشی ناکامیوں کو وقتی بحران کہا گیا اور عوامی محرومیوں کو نعروں کے پردے میں ڈھانپ دیا گیا۔

پاکستانی معاشرے میں بھی آدمی اکثر سچ سے زیادہ اپنی جماعت، گروہ، شخصیت، نظریے یا مفاد کے ساتھ وفاداری کو ترجیح دیتا ہے۔ اگر ایک ہی حقیقت ہمارے مخالف کے خلاف ہو تو وہ ہمیں فوراً سچ نظر آتی ہے، لیکن اگر وہی حقیقت ہمارے پسندیدہ رہنما یا جماعت کے خلاف ہو تو ہم اس کے لیے سو جواز پیدا کر لیتے ہیں۔ یہی motivated reasoning کی وہ نفسیات ہے جس میں انسان حقیقت کا فیصلہ دلیل سے کم اور اپنی شناخت سے زیادہ کرتا ہے۔

اسی لیے ہمارے ہاں سچ بولنے والا اکثر غدار، مخالف، بدخواہ یا دشمن قرار پاتا ہے۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ معاشرے میں سچ نہیں ہوتا؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم سچ کو صرف اس وقت تک پسند کرتے ہیں جب تک وہ ہمارے مفاد کے خلاف نہ جائے۔

قومیں جھوٹ سے ایک دن میں تباہ نہیں ہوتیں۔ وہ اس وقت تباہ ہونا شروع ہوتی ہیں جب انہیں سچ سننے کی عادت ختم ہوجاتی ہے۔ جب آئینہ توڑ دیا جائے تو چہرہ خوبصورت نہیں ہوجاتا، صرف حقیقت نظر آنا بند ہوجاتی ہے۔

اور تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے: جو معاشرہ اپنے زخم دیکھنے سے انکار کردے، وہ علاج کی طرف کبھی نہیں بڑھ سکتا۔