ریاست کی اصل طاقت محض طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ قانون کی بالادستی، انصاف کی غیر جانب داری اور عوام کے اعتماد میں ہوتی ہے۔ کسی بھی مہذب اور آئینی ریاست کے لیے سب سے بنیادی ضرورت یہ ہے کہ حکومت کی رِٹ قائم ہو، مگر رِٹ سے مراد یہ نہیں کہ ریاستی ادارے اپنی مرضی سے شہریوں کو گرفتار کریں، ان کے خلاف مقدمات قائم کریں یا اختلافِ رائے کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کریں۔

حقیقی ریاستی رِٹ دراصل اس وقت قائم ہوتی ہے جب قانون سب کے لیے یکساں ہو، مجرم اور بے گناہ میں واضح فرق رکھا جائے، کسی بااثر شخص کو قانون سے بالاتر نہ سمجھا جائے اور کسی کمزور یا عام شہری کو محض اس لیے نشانہ نہ بنایا جائے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہا ہے۔

گلگت بلتستان میں حالیہ حالات، نوجوانوں کی گرفتاریوں، ان گرفتاریوں کے خلاف احتجاج، قائدِ ملتِ جعفریہ آغا سید راحت حسین الحسینی کی جانب سے علماء کرام کے ہمراہ اجتماعی گرفتاری دینے کے لیے سٹی تھانے پہنچنے، مختلف علاقوں میں احتجاجی دھرنوں اور علماء کی اجتماعی گرفتاری کے مطالبے نے ایک مرتبہ پھر ریاست، حکومت، پولیس، عدلیہ اور عوام کے درمیان اعتماد کے بنیادی سوال کو سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

یہ معاملہ محض چند افراد کی گرفتاری یا رہائی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ اہم سوال قانون کی حکمرانی، شہری آزادیوں، ریاستی اختیارات کے استعمال اور انصاف کے بنیادی اصولوں کا ہے۔

میری اصولی رائے میں حکومت کی رِٹ ہر حال میں قائم رہنی چاہیے اور کسی بھی فرد، جماعت، مذہبی گروہ یا سیاسی تنظیم کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر کوئی شخص جرم کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کے خلاف بلاامتیاز قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے، چاہے وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو۔

لیکن اسی اصول کا دوسرا اور زیادہ اہم حصہ یہ بھی ہے کہ ریاستی اداروں کو بھی قانون کا پابند ہونا چاہیے۔ پولیس، انتظامیہ اور دیگر ادارے قانون سے ماورا نہیں ہیں۔ ریاستی رِٹ کا مطلب ریاستی اداروں کی من مانی نہیں بلکہ آئین اور قانون کی رِٹ ہے۔

اگر کسی شہری کے خلاف کوئی قابلِ دست اندازی جرم موجود ہے، اس کے خلاف قابلِ اعتماد شواہد موجود ہیں اور قانون کے تحت اس کی گرفتاری ضروری ہے تو پولیس کو بلاخوف و رعایت کارروائی کرنی چاہیے۔ لیکن گرفتاری کے ساتھ ہی آئین اور قانون کی طرف سے عائد ذمہ داریاں بھی پوری کرنا ضروری ہے۔

کسی شخص کو گرفتار کرکے اسے غیر معینہ مدت تک پولیس کی تحویل میں رکھنا یا محض تفتیش کے نام پر اس کی آزادی سلب کیے رکھنا بنیادی قانونی اصولوں کے منافی ہے۔ آئینی اصول کے مطابق گرفتار شخص کو چوبیس گھنٹے کے اندر، سفر کے ضروری وقت کو چھوڑ کر، مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے اور اس کے بعد مزید حراست صرف قانون اور مجسٹریٹ کے اختیار کے مطابق ہونی چاہیے۔

یہ ضمانت کسی مجرم کو تحفظ دینے کے لیے نہیں بلکہ ریاستی اختیار کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ہے۔

یہاں ایک انتہائی اہم قانونی فرق کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ کسی شخص کو گرفتار کرنا اور اسے سزا دینا دو بالکل مختلف مراحل ہیں۔ گرفتاری محض اس شبہے یا الزام کی بنیاد پر ہو سکتی ہے جو قانون کے مقررہ تقاضے پورے کرتا ہو، لیکن سزا صرف باقاعدہ عدالتی عمل اور جرم ثابت ہونے کے بعد دی جا سکتی ہے۔

پولیس کی تحویل، تفتیش، جے آئی ٹی، جسمانی ریمانڈ اور عدالتی ریمانڈ سب قانون کے تابع ہیں۔ ان اختیارات کو کسی شخص کو ذہنی اذیت دینے، سیاسی دباؤ ڈالنے یا طویل عرصے تک مقدمے کے بغیر قید رکھنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

گلگت بلتستان ایک نسبتاً چھوٹا اور حساس خطہ ہے جہاں معاشرتی، مذہبی، علاقائی اور سیاسی تعلقات ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ ایسے ماحول میں ریاستی اداروں کی معمولی سی غیر جانب داری بھی عوامی اعتماد پر بہت بڑا اثر ڈال سکتی ہے۔

اگر کسی نوجوان کو گرفتار کیا جاتا ہے، اس کے اہل خانہ کو اس کی گرفتاری کی واضح وجہ معلوم نہیں ہوتی، اسے بروقت عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا، اس کے خلاف سنگین نوعیت کے مقدمات قائم کیے جاتے ہیں اور پھر طویل عرصے تک اسے تفتیش کے نام پر زیرِ حراست رکھا جاتا ہے تو اس سے صرف ایک فرد متاثر نہیں ہوتا بلکہ پورے معاشرے میں بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔

دہشت گردی کے قوانین، بالخصوص انسدادِ دہشت گردی ایکٹ، ریاست کو سنگین نوعیت کے جرائم کے خلاف کارروائی کا اختیار دیتے ہیں، لیکن ایسے قوانین کا استعمال بھی قانون میں بیان کردہ شرائط اور جرم کی نوعیت کے مطابق ہونا چاہیے۔

محض کسی شہری کا اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا، حکومت کے کسی فیصلے کے خلاف پرامن احتجاج کرنا، نعرہ لگانا یا کسی اجتماعی احتجاج میں شریک ہونا بذاتِ خود دہشت گردی نہیں بن جاتا۔

اگر کسی مخصوص شخص کے عمل میں قانون کے تحت دہشت گردی کے عناصر موجود ہوں تو اس کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی دفعات لگائی جا سکتی ہیں، لیکن محض اختلافِ رائے یا پرامن سیاسی و شہری احتجاج کو دہشت گردی کے دائرے میں لانا ایک خطرناک قانونی اور انتظامی رجحان ہوگا۔

گلگت بلتستان کے تناظر میں یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ اگر کوئی تنظیم یا گروہ ریاست کی طرف سے کالعدم یا دہشت گرد تنظیم قرار نہیں دیا گیا تو محض اس تنظیم یا اس سے وابستہ افراد کے پرامن سیاسی، مذہبی یا شہری سرگرمیوں کی بنیاد پر ہر شخص کو دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث کرنا کس حد تک قانونی جواز رکھتا ہے؟

اس سوال کا جواب جذبات سے نہیں بلکہ قانون، شواہد اور عدالتی اصولوں کے مطابق دیا جانا چاہیے۔ ہر ایف آئی آر میں لگائی گئی دفعہ کے لیے قانونی بنیاد اور قابلِ قبول شواہد ہونا ضروری ہیں۔ کسی سنگین قانون کا نام استعمال کر دینا بذاتِ خود جرم کو دہشت گردی میں تبدیل نہیں کرتا۔

اسی طرح جے آئی ٹی یا تفتیش کا نام بھی ریاست کو لامحدود اختیار نہیں دیتا۔ جے آئی ٹی تفتیش کا ایک قانونی طریقہ ہے، کسی شخص کو سزا دینے کا متبادل نہیں۔

اگر کسی شہری کو نوے نوے دن تک عملی طور پر آزادانہ عدالتی عمل سے دور رکھا جائے، پولیس یا تحقیقاتی اداروں کی تحویل میں رکھا جائے، اور اس دوران اسے مؤثر قانونی تحفظ یا بروقت عدالتی نگرانی میسر نہ ہو تو یہ صورتحال بنیادی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کرتی ہے۔

تفتیش جتنی ضروری ہے، آزادیِ شہری بھی اتنی ہی اہم ہے۔ ریاست کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کی تفتیش قانون کے مطابق، شفاف، ضروری اور متناسب ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مقدمہ درج ہونا جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔ ایف آئی آر الزام کا آغاز ہے، فیصلہ نہیں۔ تفتیشی افسر کا کام شواہد اکٹھے کرنا ہے، جرم ثابت کرنا نہیں۔ استغاثہ کا کام الزام کو عدالت میں ثابت کرنا ہے اور عدالت کا کام آزادانہ طور پر شواہد کا جائزہ لے کر فیصلہ کرنا ہے۔

اگر ریاستی ادارے ایف آئی آر کو ہی جرم کا حتمی ثبوت سمجھنے لگیں تو پھر عدالتی نظام کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔

اسی لیے عدلیہ کا کردار اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ عدالتیں ریاستی اداروں کی مخالف نہیں ہوتیں بلکہ قانون کی محافظ ہوتی ہیں۔ ریاستی ملازم کی حیثیت سے عدالتوں کا کام حکومت یا کسی ادارے کے مفاد کا تحفظ کرنا نہیں بلکہ آئین، قانون اور انصاف کے اصولوں کا تحفظ کرنا ہے۔

اگر کسی مقدمے میں بادی النظر میں بدنیتی، جھوٹے الزامات، غیر قانونی گرفتاری، اختیارات کے ناجائز استعمال یا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نظر آئے تو عدالتوں کو محض اس بنیاد پر خاموش نہیں رہنا چاہیے کہ مقدمہ کسی ریاستی ادارے نے بنایا ہے۔ عدلیہ کی آزادی کا اصل امتحان ایسے ہی معاملات میں ہوتا ہے۔

ریاستی اداروں کے احترام کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ان اداروں کے اہلکار قانون کی خلاف ورزی سے محفوظ نہ ہوں۔ اگر کوئی پولیس افسر جان بوجھ کر کسی بے گناہ شخص کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کرتا ہے، شواہد کو مسخ کرتا ہے، غیر قانونی حراست میں رکھتا ہے یا کسی شہری کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔

اسی طرح اگر کوئی مجسٹریٹ بغیر قانونی بنیاد کے کسی شہری کی آزادی سلب کرنے میں معاون بنتا ہے تو اس کے کردار کا بھی قانونی و عدالتی جائزہ لیا جانا چاہیے۔

ریاستی اختیار ایک مقدس امانت ہے؛ اسے کسی سیاسی، انتظامی یا شخصی خواہش کی تکمیل کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

یہ سوال بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ اگر کوئی پولیس افسر کسی شہری کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کرتا ہے تو اسے یہ اختیار اور حوصلہ کہاں سے ملتا ہے؟ کیا وہ کسی سیاسی دباؤ کے تحت ایسا کرتا ہے؟ کیا کسی اعلیٰ افسر کا زبانی حکم اسے قانون سے بالاتر کر دیتا ہے؟ کیا کسی سیاسی یا انتظامی شخصیت کی خواہش قانون کا متبادل بن سکتی ہے؟

ان سوالات کا جواب تلاش کرنا بھی ریاستی نظام کی ذمہ داری ہے۔ اگر واقعی کسی افسر نے جان بوجھ کر جھوٹا مقدمہ قائم کیا ہے تو صرف متاثرہ شہری کو جیل بھیج دینا مسئلے کا حل نہیں؛ اصل ذمہ دار اہلکار کا احتساب بھی ضروری ہے۔

یہی اصول ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کی بنیاد بنتا ہے۔ جب عوام کو یقین ہو کہ جرم کی صورت میں قانون حرکت میں آئے گا اور بے گناہی کی صورت میں قانون انہیں تحفظ دے گا تو لوگ عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں، ریاستی اداروں پر اعتماد کرتے ہیں اور قانون کا احترام کرتے ہیں۔

لیکن جب لوگوں کو یہ احساس ہونے لگے کہ جھوٹے مقدمات بن سکتے ہیں، پرامن احتجاج پر سنگین دفعات لگ سکتی ہیں، گرفتاری کی وجہ واضح نہیں کی جاتی، عدالت میں بروقت پیش نہیں کیا جاتا اور تفتیش کے نام پر طویل عرصے تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے تو پھر ریاستی نظام پر اعتماد کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

اور جب ریاستی اداروں کی طرف سے غیر قانونی اقدامات کا تاثر پیدا ہو تو اس کا دوسرا خطرناک نتیجہ بھی نکلتا ہے۔ لوگ عدالت کے بجائے سڑک کا راستہ اختیار کرنے لگتے ہیں، احتجاج بڑھتے ہیں، دھرنے شروع ہوتے ہیں، شاہراہیں بند ہوتی ہیں، کاروبار متاثر ہوتا ہے، معمولاتِ زندگی معطل ہوتے ہیں اور بعض اوقات لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی طرف بھی مائل ہو جاتے ہیں۔

اس طرح ایک چھوٹا سا انتظامی یا قانونی مسئلہ پورے معاشرے کے لیے بحران بن سکتا ہے۔

اس لیے حکومت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے ذریعے خاموشی اور قانون کے ذریعے امن میں بنیادی فرق ہے۔ کسی احتجاج کو وقتی طور پر طاقت کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے، لیکن عوام کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کو طاقت سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا جواب صرف شفاف تحقیقات، منصفانہ قانونی کارروائی اور غیر جانب دار عدالتی فیصلوں سے دیا جا سکتا ہے۔

آغا راحت حسین الحسینی اور علماء کرام کی جانب سے اجتماعی گرفتاری دینے کا اقدام بھی اسی وسیع تر تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ احتجاج شہریوں کا قانونی و آئینی حق ہے۔

اسی طرح حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ پرامن احتجاج کو محض اختلافِ رائے سمجھ کر طاقت سے دبانے کے بجائے مذاکرات اور قانون کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کریں۔

علماء کرام کا اجتماعی گرفتاری کا راستہ اختیار کرنا ایک غیر معمولی سیاسی و سماجی ردِعمل ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی سطح پر بے اعتمادی کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔ حکومت کو اسے محض امن و امان کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے اس کے بنیادی اسباب تلاش کرنے چاہئیں۔

اگر گرفتار افراد واقعی کسی سنگین جرم میں ملوث ہیں تو ان کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ چلایا جائے، شواہد پیش کیے جائیں اور عدالت کو فیصلہ کرنے دیا جائے۔ اگر ان کے خلاف کوئی قابلِ اعتماد قانونی بنیاد موجود نہیں تو غیر ضروری حراست ختم کرکے انہیں رہا کیا جانا چاہیے۔ یہی ریاستی وقار کا تقاضا ہے۔

ریاست اور عوام دونوں کو اپنے اپنے دائرۂ کار میں رہنا ہوگا۔ حکومت قانون کے مطابق حکمرانی کرے، پولیس قانون کے مطابق تفتیش کرے، انتظامیہ قانون کے مطابق امن قائم کرے، پراسیکیوشن قانون کے مطابق مقدمہ چلائے، عدالتیں آزادانہ طور پر انصاف کریں اور شہری اپنے حقوق کے لیے آئینی و قانونی ذرائع اختیار کریں۔

اگر ان میں سے کوئی ایک فریق بھی اپنے اختیار سے تجاوز کرے تو پورا نظام متاثر ہوتا ہے۔

گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے پیش نظر یہاں ریاستی پالیسی میں مزید تدبر، تحمل اور قانونی بصیرت کی ضرورت ہے۔ ایک ایسے خطے میں جہاں آئینی، سیاسی اور تاریخی سوالات پہلے ہی موجود ہیں، وہاں اختلافِ رائے رکھنے والے شہریوں پر سنگین نوعیت کے مقدمات قائم کرنا، پرامن سیاسی یا شہری سرگرمیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنا اور ہر احتجاج کو ریاستی خطرہ تصور کرنا مسئلے کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ کر سکتا ہے۔

ریاست کو اپنے شہریوں کو دشمن نہیں بلکہ اپنے نظام کا حصہ سمجھنا چاہیے۔

بالخصوص ایسے خطے میں جہاں عوام اپنے آئینی، سیاسی اور بنیادی حقوق کے حوالے سے پہلے ہی حساس ہیں، غداری یا ریاست دشمنی جیسے سنگین الزامات انتہائی احتیاط کے ساتھ اور صرف واضح قانونی بنیاد و قابلِ اعتماد شواہد کی موجودگی میں استعمال ہونے چاہئیں۔

کسی شخص کا حکومت سے اختلاف، کسی پالیسی پر تنقید یا اپنے حقوق کے لیے پرامن جدوجہد بذاتِ خود ریاست سے غداری نہیں بن سکتی۔ ریاست سے وفاداری کا تقاضا یہ نہیں کہ شہری ہر حکومتی فیصلے پر خاموش رہیں؛ جمہوری ریاست میں اختلافِ رائے بھی سیاسی و آئینی نظام کا حصہ ہے۔

ریاست کو مضبوط کرنے کا راستہ یہ نہیں کہ شہریوں کو زیادہ سے زیادہ گرفتار کیا جائے بلکہ یہ ہے کہ قانون کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کیا جائے۔

ریاستی اداروں کی عزت اس وقت بڑھتی ہے جب عوام کو یقین ہو کہ پولیس کسی بے گناہ کو گرفتار نہیں کرے گی، عدالت کسی بے بنیاد مقدمے میں شہری کی آزادی سلب نہیں کرے گی، انتظامیہ سیاسی دباؤ میں نہیں آئے گی اور حکومت قانون سے بالاتر کسی طاقت کو قبول نہیں کرے گی۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حالیہ گرفتاریوں کے معاملے کا شفاف اور غیر جانب دار قانونی جائزہ لیا جائے۔ ہر گرفتار شخص کے خلاف درج ایف آئی آر، اس میں شامل دفعات، گرفتاری کی وجوہات، دستیاب شواہد، ریمانڈ کے احکامات، تفتیش کی پیش رفت اور زیرِ حراست افراد کی موجودہ قانونی حیثیت واضح کی جائے۔

اگر کسی مقدمے میں قانونی بنیاد موجود ہے تو اسے عدالت کے سامنے پوری قوت سے پیش کیا جائے اور اگر مقدمہ بے بنیاد ہے تو اسے واپس لینے یا قانون کے مطابق ختم کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔

حکومت کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ آئندہ کسی شہری کی گرفتاری محض سیاسی یا انتظامی دباؤ پر نہ ہو۔ پولیس کو پیشہ ورانہ آزادی، قانونی تربیت اور واضح جواب دہی دی جائے۔ ایف آئی آر کے اندراج کے نظام کو شفاف بنایا جائے۔

غیر قانونی حراست، تشدد، جھوٹے مقدمات اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف مؤثر احتسابی نظام قائم کیا جائے۔ کسی اہلکار کے خلاف شکایت آنے پر اسے محض محکمانہ فائلوں میں دفن کرنے کے بجائے قانون کے مطابق آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔

یہ بھی ضروری ہے کہ ریاستی ادارے احتجاج اور جرم کے درمیان فرق کرنا سیکھیں۔ احتجاج ریاست کے خلاف جنگ نہیں ہوتا۔ اختلاف حکومت کی مخالفت ہو سکتا ہے، ریاست کی دشمنی نہیں۔

حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن ریاستی ادارے اور آئینی نظام باقی رہتے ہیں۔ اس لیے کسی حکومت کے خلاف سیاسی یا شہری اختلاف کو ریاست کے خلاف جرم بنا دینا جمہوری معاشرے کے لیے انتہائی نقصان دہ رویہ ہے۔

کسی بھی مسلک کے علماء ہوں یا کوئی عام شہری، کسی سیاسی جماعت کا کارکن ہو یا کسی مذہبی تنظیم سے وابستہ شخص، قانون کا بنیادی اصول سب کے لیے ایک ہونا چاہیے۔

اگر کوئی جرم کرتا ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے، اور اگر کوئی بے گناہ ہے تو اسے قانون کے مطابق تحفظ ملنا چاہیے۔ یہی حقیقی مساوات ہے، یہی قانون کی حکمرانی ہے اور یہی ریاستی رِٹ کا اصل مفہوم ہے۔

ریاست کو طاقت ضرور استعمال کرنی چاہیے، مگر صرف وہاں جہاں قانون اسے اجازت دیتا ہے اور جہاں واقعی ضرورت ہو۔ ریاست کی سب سے بڑی طاقت اس کا قانون ہے، اس کی پولیس یا جیل نہیں۔

ایک ایسا نظام جہاں شہری کو یقین ہو کہ اس کے حقوق محفوظ ہیں، عدالت آزاد ہے، پولیس جواب دہ ہے اور حکومت قانون کی پابند ہے، وہی مستحکم ریاست بنتی ہے۔

اگر ہم واقعی گلگت بلتستان میں امن، استحکام اور ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں گرفتاریوں، مقدمات اور احتجاجات کے وقتی ردِعمل سے آگے بڑھ کر اس بحران کی بنیادی وجوہات کو حل کرنا ہوگا۔

عوامی شکایات کو سنا جائے، جائز مطالبات کو تسلیم کیا جائے، غیر قانونی اقدامات کی اصلاح کی جائے، بے بنیاد مقدمات کا خاتمہ کیا جائے اور حقیقی مجرموں کے خلاف بلاامتیاز قانون حرکت میں لایا جائے۔

کیونکہ جب قانون مجرم کو سزا دیتا ہے تو معاشرہ محفوظ ہوتا ہے، لیکن جب قانون بے گناہ کو سزا دینے لگے تو معاشرہ بے چین ہو جاتا ہے۔

جب پولیس قانون کی محافظ بنے تو ریاست مضبوط ہوتی ہے، لیکن جب پولیس پر قانون شکنی کا الزام آنے لگے تو ریاستی اداروں پر اعتماد کمزور ہوتا ہے۔

جب عدالت انصاف کرے تو عوام عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں، لیکن جب عوام کو انصاف کی امید کم ہونے لگے تو سڑکیں عدالتوں کا متبادل بننے لگتی ہیں۔

اس لیے آج سب سے بڑی ضرورت کسی فرد یا گروہ کی فتح یا شکست نہیں بلکہ قانون کی فتح ہے۔

حکومت کی رِٹ بھی قائم رہنی چاہیے، مگر آئین اور قانون کے ذریعے؛ پولیس کا اختیار بھی برقرار رہنا چاہیے، مگر قانونی حدود کے اندر؛ عدالت کا اختیار بھی محترم رہنا چاہیے، مگر مکمل آزادی اور غیر جانب داری کے ساتھ؛ اور عوام کا احتجاج بھی تسلیم کیا جانا چاہیے، مگر پرامن اور قانونی حدود میں۔

گلگت بلتستان کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں کسی بے گناہ کو جھوٹے مقدمے کا خوف نہ ہو، کسی مجرم کو اس کے اثر و رسوخ کی وجہ سے تحفظ نہ ملے، کسی پولیس اہلکار کو غیر قانونی کارروائی کی آزادی نہ ہو، کسی مجسٹریٹ کو قانون سے تجاوز کا اختیار نہ ہو اور کسی شہری کو اپنے جائز حقوق کے لیے سڑکوں پر آنے سے پہلے یہ خوف نہ ہو کہ اس کی آواز کو دہشت گردی یا ریاست دشمنی کے الزام میں دبا دیا جائے گا۔

یہی ریاست کی حقیقی طاقت ہے، یہی قانون کی بالادستی ہے اور یہی ایک پرامن، مضبوط اور باوقار گلگت بلتستان کی بنیاد بن سکتی ہے۔