پاکستان میں منشیات کا پھیلتا ہوا خطرہ
کسی معاشرے کی اصل کمزوری اس وقت سامنے آتی ہے جب اس کے خواب دیکھنے والی آنکھیں دھندلا جائیں اور اس کے نوجوان اپنے مستقبل کی تلاش میں آگے بڑھنے کے بجائے نشے کی تاریک گلیوں میں بھٹکنے لگیں۔ منشیات خاموشی سے زندگی میں داخل ہوتی ہیں، مگر جب اپنی جگہ بنا لیں تو صرف ایک فرد کو نہیں گھیرتیں؛ ان کے اثرات گھر کی دہلیز سے نکل کر خاندان، تعلیم، صحت، معاشرت اور بالآخر ریاست کے مستقبل تک پھیل جاتے ہیں۔ پاکستان میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان اسی لیے محض ایک سماجی برائی نہیں بلکہ ایک ایسے خطرے کی صورت اختیار کر رہا ہے جسے نظرانداز کرنا آنے والے کل کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہوگا۔
سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ منشیات کا دائرہ اب صرف مخصوص علاقوں، طبقوں یا روایتی نشہ آور اشیا تک محدود نہیں رہا۔ آئس یا کرسٹل میتھ، کینابس، اوپیئڈز اور دیگر منشیات کے ساتھ بعض نسخے والی ادویات کے غیر طبی استعمال کا خطرہ بھی موجود ہے۔ نوجوانوں میں مختلف اقسام کی منشیات کے استعمال، تعلیمی اداروں میں رپورٹ ہونے والے واقعات، بعض نجی محفلوں اور تقریبات میں منشیات کے استعمال کی اطلاعات، جبکہ دوسری طرف گٹکا، مین پوری، ماوا اور زردہ جیسے مضر تمباکو کے استعمال نے اس مسئلے کو ایک وسیع سماجی اور عوامی صحت کے بحران کی شکل دے دی ہے۔
پاکستان میں منشیات کا پھیلتا ہوا خطرہمنشیات کے مسئلے کی سنگینی کا اندازہ صرف اس بات سے نہیں لگایا جا سکتا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کتنی گرفتاریاں کیں یا کتنی مقدار میں منشیات پکڑی۔ اصل سوال اس سے کہیں بڑا ہے: کتنے نوجوان اس جال میں داخل ہو رہے ہیں؟ کتنے خاندان اس کے اثرات برداشت کر رہے ہیں؟ کتنے طلبہ اپنی تعلیم سے دور ہو رہے ہیں؟ اور معاشرہ ہر سال اپنی کتنی انسانی صلاحیت کھو رہا ہے؟
2013 کے قومی سروے نے پاکستان میں منشیات کے استعمال کی ایک تشویش ناک تصویر پیش کی تھی۔ اس سروے کے مطابق 15 سے 64 سال کی عمر کے تقریباً 67 لاکھ افراد نے گزشتہ ایک سال کے دوران غیر قانونی منشیات استعمال کی تھیں، جبکہ تقریباً 42 لاکھ افراد منشیات کے استعمال سے متعلق عارضے یا انحصار کا شکار تھے۔ یہ اعداد و شمار اب ایک دہائی سے زیادہ پرانے ہیں، اس لیے انہیں آج کی مکمل صورت حال کا براہِ راست پیمانہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ تاہم یہ ضرور ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں منشیات کا مسئلہ نہ نیا ہے اور نہ ہی معمولی۔
اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے 2022 سے 2024 کے عرصے کے لیے قومی سطح پر منشیات کے استعمال کا نیا سروے شروع کیا گیا، تاکہ بدلتے ہوئے رجحانات، استعمال کی اقسام اور متاثرہ آبادی کے بارے میں تازہ شواہد حاصل کیے جا سکیں۔ اس نوعیت کے تازہ اور مکمل قومی نتائج صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ مستقبل کی پالیسی کے لیے بنیادی ضرورت ہیں۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ مسئلہ کہاں بڑھ رہا ہے، کون سے عمر کے گروہ زیادہ متاثر ہیں اور کن اقسام کی منشیات کا استعمال تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔
تعلیمی اداروں کی صورت حال اس مسئلے کا شاید سب سے حساس پہلو ہے۔ 2025 کے دوران ملک کے 58 اعلیٰ تعلیمی اداروں میں منشیات سے متعلق 365 رپورٹ شدہ کیسز سامنے آنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ یہ تعداد منشیات استعمال کرنے والے طلبہ کی مجموعی تعداد نہیں بلکہ رپورٹ ہونے والے کیسز ہیں، اس لیے اسے ملک بھر کے طلبہ میں منشیات کے پھیلاؤ کی شرح قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ تاہم تعلیمی اداروں میں اس نوعیت کے واقعات کا سامنے آنا اس حقیقت کی طرف ضرور اشارہ کرتا ہے کہ مسئلہ اب ان مقامات تک پہنچ چکا ہے جہاں نوجوانوں کو علم، کردار اور مستقبل کی تعمیر کے لیے تیار کیا جانا چاہیے۔
یہاں ایک بنیادی سوال ہمارے سامنے آتا ہے: اگر ایک طالب علم منشیات تک پہنچ رہا ہے تو یہ منشیات اس تک پہنچ کون رہا ہے؟ کیونکہ مسئلے کا ایک رخ صارف ہے، لیکن دوسرا رخ وہ پورا نظام ہے جو صارف تک منشیات پہنچاتا ہے۔
سوشل میڈیا نے بھی اس معاملے کو ایک نئی جہت دی ہے۔ وقتاً فوقتاً ایسی ویڈیوز اور تصاویر گردش کرتی رہتی ہیں جن میں نوجوان نجی محفلوں، پارٹیوں یا بعض تفریحی مقامات پر غیر معمولی رویوں کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں اور بعض مناظر میں ایسی اشیا بھی نظر آتی ہیں جو منشیات کے استعمال سے وابستہ سمجھی جا سکتی ہیں۔ ہر ویڈیو کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں، اس لیے ہر منظر کو ثبوت قرار دینا مناسب نہیں؛ تاہم ایسی ویڈیوز کی مسلسل گردش اس بات پر سنجیدہ غور کی متقاضی ہے کہ نوجوانوں کے سماجی ماحول، تفریحی سرگرمیوں اور منشیات کی ممکنہ دستیابی میں کیا تبدیلیاں آ رہی ہیں۔
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ منشیات کہاں فروخت ہو رہی ہیں؛ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ نئی ٹیکنالوجی نے ان کی رسائی کو کس طرح آسان بنایا ہے۔ سوشل میڈیا، خفیہ ڈیجیٹل رابطوں اور آن لائن نیٹ ورکس کے ذریعے خریدار اور فروخت کنندہ ایک دوسرے تک پہنچ سکتے ہیں، جس سے روایتی نگرانی کے طریقے مزید مشکل ہو جاتے ہیں۔ اس لیے منشیات کے خلاف حکمتِ عملی میں سائبر مانیٹرنگ اور متعلقہ اداروں کے باہمی تعاون کو بھی شامل کرنا ہوگا۔
دوسری طرف سندھ میں گٹکا، مین پوری، ماوا، زردہ اور دیگر مضر تمباکو مصنوعات کا استعمال ایک الگ مگر انتہائی سنگین عوامی صحت کا مسئلہ ہے۔ پاکستانی تحقیقی مطالعات میں ان مصنوعات اور منہ کے سرطان سمیت متعدد سنگین صحت کے مسائل کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس مسئلے کو محض ایک روایتی عادت یا معمولی سماجی برائی سمجھ کر نظرانداز کرنا بھی خطرناک ہے۔
یہ تصور بھی درست نہیں کہ نشہ صرف غریب یا کم تعلیم یافتہ طبقے کا مسئلہ ہے۔ غربت، بے روزگاری، ذہنی دباؤ، خاندانی مسائل اور سماجی محرومی بعض افراد کو زیادہ خطرے میں ڈال سکتے ہیں، لیکن مالی طور پر مستحکم اور اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندان بھی اس سے محفوظ نہیں۔ نوجوان خواتین اور طالبات بھی اس خطرے سے مستثنیٰ نہیں، اس لیے prevention، counselling اور treatment کے نظام میں ان کے لیے بھی محفوظ اور رازداری پر مبنی سہولیات ضروری ہیں۔
نوجوانوں تک منشیات پہنچ کون رہا ہے؟جب کوئی نوجوان نشے کی عادت میں مبتلا ہوتا ہے تو عموماً سب سے پہلے اسی نوجوان کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ بلاشبہ فرد اپنے عمل کا ذمہ دار ہے، لیکن صرف اسے موردِ الزام ٹھہرا کر ہم مسئلے کی جڑ تک نہیں پہنچ سکتے۔
اصل سوال یہ ہے کہ منشیات اس کے ہاتھ تک پہنچی کیسے؟کس نے فراہم کی؟ کہاں سے آئی؟ کس نے فروخت کی؟ کس نیٹ ورک نے اسے تقسیم کیا؟ اور ان تمام مراحل پر نگرانی کرنے والے ادارے کہاں تھے؟ اگر ایک نوجوان کو گرفتار کر لیا جائے، لیکن وہ شخص یا نیٹ ورک بدستور موجود رہے جو درجنوں دوسرے نوجوانوں کو منشیات فراہم کر رہا ہے، تو مسئلہ ختم نہیں ہوتا۔ صرف ایک نام تبدیل ہوتا ہے۔
اسی لیے منشیات کے خلاف کارروائی میں صارف اور سپلائر کے درمیان واضح فرق ضروری ہے۔ اصل توجہ ان عناصر پر ہونی چاہیے جو منشیات تیار، اسمگل، ذخیرہ اور فروخت کرتے ہیں، خصوصاً وہ نیٹ ورک جو نوجوانوں اور تعلیمی اداروں کے قریب اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ اگر کسی تعلیمی ادارے کے گرد منشیات کی فروخت کا نیٹ ورک موجود ہو تو صرف طالب علم یا اس کے والدین سے جواب طلبی کافی نہیں۔ ادارے کی انتظامیہ، مقامی انتظامیہ اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے نظام کو بھی یہ دیکھنا ہوگا کہ سپلائی کا ذریعہ کہاں ہے، نگرانی میں کہاں خلا پیدا ہوا اور اس خلا کو دور کرنے کی ذمہ داری کس کی ہے۔
یہاں ادارہ جاتی جواب دہی بنیادی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک ماحول فراہم کرنا صرف ایک اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ انتظامی ذمہ داری بھی ہے۔ محض کمیٹیاں بنا دینا کافی نہیں؛ ان کی کارکردگی، نگرانی اور نتائج بھی باقاعدگی سے جانچنے ہوں گے۔
آج منشیات کا غیر قانونی کاروبار محض روایتی جرائم پیشہ گروہوں تک محدود نہیں۔ عالمی سطح پر منشیات کی مارکیٹ زیادہ متنوع، منظم اور ٹیکنالوجی سے جڑی ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم کی 2026 کی عالمی رپورٹ کے مطابق 2024 میں دنیا بھر میں تقریباً 33 کروڑ 10 لاکھ افراد نے منشیات استعمال کیں، جو 2014 کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق کینابس تقریباً 25 کروڑ 60 لاکھ صارفین کے ساتھ دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی منشیات ہے، جبکہ غیر طبی طور پر اوپیئڈز استعمال کرنے والوں کی تعداد تقریباً 6 کروڑ 30 لاکھ رہی۔
عالمی سطح پر نئی psychoactive substances بھی تیزی سے سامنے آ رہی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ منشیات کے خلاف روایتی نگرانی اور قانونی فریم ورک کو بھی مسلسل اپ ڈیٹ کرنا ہوگا۔ پاکستان اس عالمی تبدیلی سے الگ نہیں رہ سکتا۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت بھی اسے اس معاملے میں خاص طور پر حساس بناتی ہے۔ خطے میں منشیات کی پیداوار، اسمگلنگ اور مختلف بین الاقوامی راستوں کی موجودگی کے باعث پاکستان کو ایک طرف سرحدی اسمگلنگ سے نمٹنا ہے اور دوسری طرف ملک کے اندر بڑھتی ہوئی طلب کو بھی روکنا ہے۔
اس ذمہ داری میں پولیس، اینٹی نارکوٹکس فورس، کسٹمز، صحت، تعلیم، سائبر کرائم سے متعلق اداروں اور ضلعی انتظامیہ سمیت تمام متعلقہ اداروں کو ایک مربوط نظام کے تحت کام کرنا ہوگا۔ ایک ادارہ دوسرے کو ذمہ دار ٹھہراتا رہے اور مسئلہ بڑھتا رہے تو اس کا نقصان بالآخر معاشرے کو ہی اٹھانا پڑے گا۔ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کی ذمہ داری بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اداروں میں صرف حاضری، امتحانات اور نتائج کی نگرانی کافی نہیں۔ طلبہ کے رویوں میں اچانک تبدیلی، تعلیمی کارکردگی میں غیر معمولی کمی، تنہائی، ذہنی دباؤ، مشکوک سرگرمیوں یا حلقۂ احباب میں تبدیلی جیسے اشاروں کو بھی سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
اس مقصد کے لیے بڑے تعلیمی اداروں میں تربیت یافتہ کونسلرز، نفسیاتی معاونت اور رازداری پر مبنی رپورٹنگ کا مؤثر نظام ہونا چاہیے۔ نوجوان کو مجرم سمجھنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ وہ کس مرحلے پر اور کیوں اس راستے پر پہنچا۔ گھر بھی اسی نظام کی بنیادی اکائی ہے۔ والدین کو بچوں کی سرگرمیوں، دوستوں، ذہنی کیفیت اور روزمرہ معمولات سے باخبر رہنا چاہیے۔ لیکن نگرانی اور اعتماد میں توازن ضروری ہے۔ صرف ڈانٹ، سزا اور سختی ہمیشہ مسئلے کا حل نہیں بنتی۔ بعض اوقات نوجوان کو سننے، سمجھنے اور بروقت مدد فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اب صرف کارروائی نہیں، مکمل حکمتِ عملی چاہیےپاکستان میں منشیات کے خلاف سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہم اس مسئلے کو صرف پولیسنگ یا گرفتاریوں کا معاملہ سمجھنا چھوڑ دیں۔ گرفتاری ضروری ہے۔ اسمگلنگ کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔ سپلائی چین توڑنا ضروری ہے۔ لیکن اگر ہم روک تھام، علاج اور بحالی کو نظرانداز کر دیں تو مسئلہ دوبارہ سامنے آتا رہے گا۔ ایک جامع قومی حکمتِ عملی کے چار بنیادی ستون ہونے چاہئیں: روک تھام، قانون کا مؤثر نفاذ، علاج اور بحالی۔
پہلا ستون روک تھام ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں منشیات کے خلاف صرف رسمی تقریری مقابلے یا سال میں ایک آگاہی پروگرام کافی نہیں۔ نوجوانوں کے لیے مستقل کونسلنگ، کھیل، ہنر، تخلیقی مصروفیات اور ذہنی صحت سے متعلق معاونت کے پروگرام ضروری ہیں۔ نوجوان کو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ "نشہ برا ہے"۔ اسے یہ سمجھانا ہوگا کہ نشہ اس کی تعلیم، صحت، تعلقات، خود اعتمادی، روزگار اور مستقبل کو کس طرح متاثر کر سکتا ہے۔ Peer pressure، تنہائی، ذہنی دباؤ اور مستقبل کے بارے میں بے یقینی جیسے عوامل کو بھی prevention programmes کا حصہ بنانا ہوگا۔
دوسرا ستون قانون کا مؤثر نفاذ ہے۔ قانون کا اصل دباؤ ان لوگوں پر ہونا چاہیے جو منشیات کا کاروبار کرتے ہیں۔ سپلائی چین، بڑے ڈیلرز، اسمگلنگ نیٹ ورکس، ذخیرہ کرنے والوں اور نوجوانوں کو ہدف بنانے والے عناصر تک پہنچنا ہوگا۔
تیسرا ستون علاج ہے۔ منشیات استعمال کرنے والے ہر شخص کو صرف مجرم سمجھنا مسئلے کی مکمل تصویر نہیں۔ منشیات کا انحصار ایک پیچیدہ طبی اور نفسیاتی مسئلہ بھی ہو سکتا ہے اور بہت سے افراد علاج، مشاورت اور مسلسل معاونت کے ذریعے دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف آ سکتے ہیں۔
اس کے لیے سرکاری اور نجی سطح پر معیاری، قابلِ رسائی اور سستے علاج کے مراکز کی ضرورت ہے۔ علاج صرف جسمانی انحصار ختم کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ذہنی صحت، خاندانی مسائل اور دوبارہ نشے کی طرف واپسی کے خطرے کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔
چوتھا ستون بحالی ہے، کیونکہ علاج کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ اگر ایک شخص نشہ چھوڑنے کے بعد دوبارہ اسی ماحول میں چلا جائے جہاں سے وہ اس عادت کا شکار ہوا تھا تو دوبارہ مبتلا ہونے کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔
اس لیے بحالی کو تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع سے جوڑنا ہوگا۔ نشے سے نکلنے والے نوجوان کو دوبارہ معاشرے میں باعزت مقام دینا صرف انسانی ہمدردی نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت بھی ہے۔ اگر اسے تعلیم یا روزگار کا راستہ نہ ملے تو وہ دوبارہ اسی ماحول کی طرف لوٹ سکتا ہے جس سے نکلنے کے لیے اس نے علاج حاصل کیا تھا۔
اس پورے عمل میں تازہ قومی ڈیٹا بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان میں کون سی منشیات زیادہ استعمال ہو رہی ہیں، کون سے عمر کے گروہ زیادہ متاثر ہیں، کون سے علاقے زیادہ خطرے میں ہیں، تعلیمی اداروں کی صورت حال کیا ہے اور علاج کی سہولیات کہاں ناکافی ہیں۔
ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ صحت، تعلیم، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور rehabilitation centres سے دستیاب معلومات کو مناسب رازداری کے ساتھ ایک مربوط national monitoring system سے جوڑا جائے۔ اس سے حکومت کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ مسئلہ کہاں بڑھ رہا ہے اور وسائل کہاں زیادہ درکار ہیں۔
اس کے ساتھ محلے، یونین کونسل، والدین، اساتذہ، سماجی تنظیمیں اور کمیونٹی لیڈرز بھی روک تھام کے عمل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ منشیات کے خلاف جنگ صرف بڑے سرکاری اداروں کے ذریعے نہیں جیتی جا سکتی؛ اس کے لیے معاشرے کی سطح پر بھی مسلسل مزاحمت ضروری ہے۔
میڈیا کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ منشیات کے مسئلے کو سنسنی خیزی کے بجائے ذمہ داری سے اجاگر کرے۔ نوجوانوں کی شناخت ظاہر کرنا، محض گرفتاری کی خبر کو کامیابی سمجھنا یا نشے کو گلیمرائز کرنا مسئلے کو حل نہیں کرتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ میڈیا سپلائی نیٹ ورک، ادارہ جاتی کمزوریوں، علاج کی سہولیات اور متاثرہ خاندانوں کے مسائل کو بھی سامنے لائے۔
آخرکار یہ سمجھنا ہوگا کہ منشیات کے خلاف جنگ صرف ریاست کی جنگ نہیں۔ یہ ہر گھر، ہر تعلیمی ادارے، ہر محلے اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ایک نوجوان جب نشے کی طرف جاتا ہے تو صرف ایک فرد کمزور نہیں ہوتا۔ ایک گھر کا سکون متاثر ہوتا ہے، والدین کی امیدیں ٹوٹتی ہیں، تعلیم کا سفر رک سکتا ہے اور معاشرہ ایک ممکنہ ڈاکٹر، استاد، انجینئر، کاروباری شخص، محقق یا رہنما سے محروم ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے پاس نوجوان آبادی کی صورت میں ایک بڑی انسانی طاقت موجود ہے۔ یہی نوجوان ملک کی معیشت، اداروں، سائنس، ٹیکنالوجی، صنعت اور معاشرتی ترقی کو آگے لے جا سکتے ہیں۔ لیکن اگر یہی انسانی سرمایہ منشیات کی لپیٹ میں آتا رہا تو اس کا نقصان صرف آج کے خاندانوں کو نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی ہوگا۔
اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ منشیات کے مسئلے کو وقتی خبروں، چند گرفتاریوں یا سوشل میڈیا کے شور سے آگے بڑھ کر دیکھا جائے۔ ہمیں ایسی قومی حکمتِ عملی چاہیے جس میں ریاست کی طاقت بھی ہو، قانون کی گرفت بھی، تعلیمی اداروں کی جواب دہی بھی، والدین کی توجہ بھی، معاشرے کی حساسیت بھی اور علاج و بحالی کا انسانی پہلو بھی۔ کیونکہ یہ جنگ صرف منشیات کے خلاف نہیں۔ یہ جنگ پاکستان کے مستقبل کے لیے ہے۔
اور اس جنگ میں ایک نوجوان کو نشے سے بچانا محض ایک فرد کو بچانا نہیں؛ یہ ایک خاندان کو بچانا، ایک مستقبل کو بچانا اور پاکستان کے انسانی سرمایہ کو بچانا ہے۔




