تحریر: آفتاب احمد خانزادہ

عظیم شاعر پرسی بیش شیلی کی نظم “Ozymandias” تاریخ، طاقت، وقت اور انسانی انا کے تصادم پر ایک گہرا فلسفیانہ مکالمہ ہے۔ نظم ایک شکستہ مجسمے سے شروع ہوتی ہے، مگر اس کے ذریعے اقتدار کے انجام، انسانی غرور اور تاریخ کی بے رحمی کو بے نقاب کرتی ہے۔ شاعر خود منظر نہیں دیکھتا؛ وہ ایک مسافر سے سنتا ہے، گویا طاقت کا سچ براہِ راست نہیں بلکہ وقت اور تاریخ کی چھلنی سے سامنے آتا ہے۔

صحرا میں کھڑی پتھر کی دو عظیم مگر بے سر ٹانگیں اس طاقت کی علامت ہیں جو خود کو قائم رکھنا چاہتی ہے، مگر روح، شعور اور اخلاق سے خالی ہے۔ ٹوٹا ہوا چہرہ، جھریوں والے ہونٹ اور سرد حکم دینے والی مسکراہٹ صرف ایک بادشاہ کی نفسیات نہیں بلکہ ہر اس نظام کی تصویر ہے جو خود کو سوال سے بالاتر سمجھ لیتا ہے۔ مجسمہ ساز نے حاکم کے غرور کو پتھر میں محفوظ کر دیا؛ یوں طاقت ختم ہوئی مگر اس کی نفسیات تاریخ میں زندہ رہ گئی۔

پیڈسٹل پر کندہ اعلان—“میرا نام اوزیمینڈیاس ہے، بادشاہوں کا بادشاہ”—اقتدار کے اس زعم کی علامت ہے جو سمجھتا ہے کہ طاقت ہی حقیقت اور دوام کی ضمانت ہے۔ مگر فوراً بعد نظم اس دعوے کو ویرانی میں بدل دیتی ہے: دیکھنے کے لیے کوئی عظیم سلطنت باقی نہیں، صرف ٹوٹا ہوا مجسمہ اور اس کے گرد بے کنار ریت ہے۔ یہی شیلی کا سب سے بڑا طنز ہے: جو اقتدار اپنی یادگاروں کو ابدیت سمجھتا ہے، وقت انہیں ریت میں دفن کر دیتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب تاریخ فاتح نہیں، منصف بن جاتی ہے۔

صحرا محض جغرافیہ نہیں بلکہ وجودی خلا ہے۔ وقت نہ کسی کا دشمن ہے نہ دوست؛ وہ صرف بے رحم اور غیر جانب دار ہے۔ وہ سلطنتوں اور طاقتور ناموں کو اسی خاموشی سے مٹا دیتا ہے جیسے ریت قدموں کے نشان مٹا دیتی ہے۔ اس لیے اصل بقا طاقت میں نہیں بلکہ اخلاق، شعور اور انسانیت میں ہے۔

پاکستانی سماج آج ایک زندہ اوزیمینڈیاس معلوم ہوتا ہے؛ مجسمہ ابھی مکمل نہیں ٹوٹا، مگر دراڑیں نمایاں ہو چکی ہیں۔ اقتدار، ریاست، ادارے اور اشرافیہ اپنے اپنے پیڈسٹل پر کھڑے ہو کر اعلان کرتے ہیں: ہماری طاقت کو دیکھو اور مان لو۔ مگر نیچے حقیقت کی ریت مسلسل سرک رہی ہے۔ غربت، خوف، بے بسی، ناانصافی اور مایوسی اس دعوے کی تردید کر رہے ہیں۔

یہاں بھی مجسمہ ساز موجود ہیں: نصاب، میڈیا، خطبات اور قومی بیانیے۔ وہ طاقت کے جذبے کو پتھر میں ڈھالتے ہیں؛ تاریخ کبھی شکست کو فتح اور خاموشی کو رضامندی بنا کر پیش کرتی ہے۔ مگر تاریخ سچ کو مکمل دفن نہیں ہونے دیتی۔ چہرہ آدھا مٹی میں دبا ہو سکتا ہے، غائب نہیں۔ جھوٹ کتنا ہی طاقتور ہو، اس کے آثار آنے والی نسلوں کے لیے الزام بن جاتے ہیں۔

پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ پیڈسٹل پر لکھے آئین، قانون، جمہوریت اور انصاف کے الفاظ اور زمین پر موجود حقیقت میں فاصلہ بڑھ گیا ہے۔ ریاست سلامتی کی بات کرتی ہے، مگر عوام کی سلامتی غیر محفوظ رہتی ہے؛ معیشت ترقی کے دعوے کرتی ہے، مگر عام آدمی مہنگائی اور محرومی میں پستا ہے؛ ادارے استحکام کا نام لیتے ہیں، مگر سماج عدمِ استحکام سے گزرتا ہے۔

سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ہم نے زوال کو معمول سمجھ لیا ہے۔ خوف، مایوسی اور بے حسی نے اجتماعی شعور کو ڈھانپ لیا ہے۔ لوگ سوال نہیں کرتے کیونکہ سوال کی قیمت زیادہ ہے، اور یاد نہیں رکھتے کیونکہ یاد رکھنا تکلیف دہ ہے۔ طاقت اسے رضامندی سمجھنے لگتی ہے، حالانکہ خاموشی ہمیشہ وفاداری نہیں ہوتی۔

مگر تاریخ کا صحرا سب سے بڑا گواہ ہے۔ اقتدار گرتا ہے تو اس کے ملبے کے گرد صرف ویرانی باقی رہتی ہے۔ اگر پاکستان اس انجام سے بچنا چاہتا ہے تو اسے افراد نہیں، اس ذہنیت کے پیڈسٹل توڑنے ہوں گے جو خود کو مطلق سمجھتی ہے۔ ورنہ وقت فیصلہ کرے گا، اور آنے والی نسلیں ہمارے نعروں کو اسی طنز سے پڑھیں گی جس طنز سے ہم آج اوزیمینڈیاس کے الفاظ پڑھتے ہیں۔ طاقت چلی جاتی ہے، ریت باقی رہتی ہے، اور ریت ہمیشہ سچ یاد رکھتی ہے۔