ہم میں سے تقریباً ہر شخص روزانہ اپنے گھر کا کچرا ایک تھیلے میں جمع کرتا ہے، اسے گھر کے دروازے سے باہر رکھتا ہے اور پھر اطمینان سے سمجھ لیتا ہے کہ ہماری ذمہ داری ختم ہوگئی۔ کچھ دیر بعد وہ تھیلا کسی خاکروب کے ہاتھ میں ہوتا ہے، کسی گاڑی میں ڈال دیا جاتا ہے یا گلی کے کسی کونے، خالی پلاٹ، نالے یا شہر سے باہر کسی مقام پر پہنچ جاتا ہے۔

لیکن کیا واقعی کچرا وہاں پہنچ کر ختم ہو جاتا ہے؟ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ کچرا ختم نہیں ہوتا، صرف ہماری نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ وہی پلاسٹک جو ہم چند منٹ استعمال کرکے پھینک دیتے ہیں، برسوں تک زمین اور پانی میں موجود رہ سکتا ہے۔ کھانے کا بچا ہوا حصہ اگر مناسب طریقے سے تلف نہ ہو تو ماحول پر اثر انداز ہو سکتا ہے، جبکہ بیٹری، بلب، موبائل فون، کمپیوٹر اور دیگر برقی آلات عام کچرے کے ساتھ پھینکے جائیں تو ان میں موجود بعض مضر اجزا مٹی اور پانی کو متاثر کرسکتے ہیں۔ اس لیے کچرے کا مسئلہ محض صفائی کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی صحت، ماحول، معیشت، شہری منصوبہ بندی اور ہماری اجتماعی ذمہ داری کا ایک اہم سوال ہے۔

دنیا میں کچرے کی بڑھتی ہوئی مقدار اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں بلدیاتی ٹھوس کچرے کی پیداوار 2023 میں تقریباً 2.1 ارب ٹن تھی، جو موجودہ رجحانات برقرار رہنے کی صورت میں 2050 تک 3.8 ارب ٹن تک پہنچ سکتی ہے۔ 2020 میں دنیا بھر میں کچرے کے انتظام پر براہ راست لاگت تقریباً 252 ارب ڈالر تھی، لیکن جب آلودگی، صحت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے بالواسطہ نقصانات کو شامل کیا جائے تو یہ لاگت تقریباً 361 ارب ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 2050 تک یہ سالانہ بوجھ تقریباً 640.3 ارب ڈالر تک بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

پاکستان میں بھی صورتحال کسی طور معمولی نہیں۔ فروری 2024 میں امریکی محکمہ تجارت کے پاکستان سے متعلق سالڈ ویسٹ پروفائل کے مطابق ملک میں سالانہ ٹھوس کچرے کی مقدار تقریباً 49.6 ملین ٹن ہے اور اس میں ہر سال 2.4 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کچرے کا ایک بڑا حصہ کھلے مقامات پر پھینک دیا جاتا ہے، جلایا جاتا ہے یا غیر مناسب طریقے سے دفن کیا جاتا ہے۔ یہ اعداد صرف کچرے کے بڑھتے ہوئے حجم کی نشاندہی نہیں کرتے بلکہ اس بنیادی سوال کو بھی ہمارے سامنے رکھتے ہیں کہ کیا ہماری شہری آبادی، بڑھتی ہوئی کھپت اور بدلتے طرزِ زندگی کے ساتھ کچرا سنبھالنے کا ہمارا نظام بھی اسی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے؟

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے کہ کچرا اٹھانا اور کچرے کا مناسب انتظام کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ کسی محلے سے کچرا اٹھا کر شہر سے باہر کسی کھلے مقام پر پھینک دینا مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسئلے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ہے۔

حقیقی کچرا انتظام وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں کچرا پیدا ہوتا ہے، یعنی گھر، دکان، دفتر، بازار، اسکول، اسپتال اور صنعتی ادارے۔ اگر کچرے کو ابتدا ہی میں مختلف اقسام میں تقسیم کر دیا جائے تو اس کا ایک بڑا حصہ دوبارہ استعمال یا قابلِ استعمال وسائل میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ کاغذ، گتا، شیشہ، دھات، پلاسٹک اور کپڑے جیسی اشیا کو الگ کرکے ری سائیکل کیا جاسکتا ہے، جبکہ کھانے کے بچے ہوئے اجزا اور دیگر نامیاتی کچرے سے کھاد یا بایوگیس تیار کی جاسکتی ہے۔

دوسری طرف جب ہر چیز ایک ہی تھیلے میں ڈال دی جائے تو قابلِ استعمال مواد بھی آلودہ ہو جاتا ہے اور اسے دوبارہ حاصل کرنا مشکل اور مہنگا ہو جاتا ہے۔ بیٹریاں، بلب، موبائل فون، کمپیوٹر، الیکٹرانک آلات، طبی اشیا اور کیمیائی نوعیت کا کچرا مزید احتیاط کا تقاضا کرتا ہے، کیونکہ انہیں عام گھریلو کچرے میں شامل کرنا ماحول اور انسانی صحت کے لیے خطرات پیدا کرسکتا ہے۔

دنیا اب کچرے کے مسئلے کو ایک واضح ترجیحی ترتیب کے ساتھ دیکھ رہی ہے: سب سے پہلے کچرا پیدا ہی کم کیا جائے، پھر اشیا کو زیادہ عرصے تک استعمال کیا جائے، مرمت اور دوبارہ استعمال کو فروغ دیا جائے، اس کے بعد قابلِ استعمال مواد کو ری سائیکل کیا جائے اور آخر میں صرف اس کچرے کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگایا جائے جو کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں ہوسکتا۔

ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ اس ترتیب کا آغاز ہی اکثر آخری مرحلے سے ہوتا ہے۔ بازار سے خریداری کرتے ہوئے اضافی پلاسٹک بیگ، بوتلیں، کپ، پیکنگ اور ایک بار استعمال ہونے والی بے شمار اشیا معمول بن چکی ہیں۔ گھر میں کسی پرانی چیز کو مرمت کرکے دوبارہ استعمال کرنے کے بجائے نئی چیز خریدنے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہماری کھپت بڑھ رہی ہے اور اس کے ساتھ کچرے کا پہاڑ بھی بلند ہو رہا ہے۔

اگر ہم صرف یہ عادت پیدا کرلیں کہ غیر ضروری چیز نہیں خریدنی، قابلِ استعمال چیز کو فوراً نہیں پھینکنا، گھر کے نامیاتی اور خشک کچرے کو الگ رکھنا اور بیٹری یا برقی آلات کو عام کچرے سے جدا رکھنا ہے تو بظاہر یہ معمولی اقدامات اجتماعی سطح پر بڑی تبدیلی کا آغاز بن سکتے ہیں۔

دنیا کے کئی ممالک نے یہ ثابت کیا ہے کہ کچرے کا مسئلہ ناقابلِ حل نہیں۔ جرمنی میں ری سائیکلنگ اور منظم کچرا انتظام کو فروغ دیا گیا، جنوبی کوریا نے خوراک کے کچرے کو الگ جمع کرنے کے نظام کو وسعت دی، سویڈن نے کچرے سے توانائی حاصل کرنے کے طریقوں کو فروغ دیا، جبکہ جاپان میں صفائی، دوبارہ استعمال اور شہری نظم و ضبط کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانے پر زور دیا گیا۔ جاپان کے بعض شہروں میں کچرے کو مختلف اقسام میں تقسیم کرکے جمع کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مواد دوبارہ استعمال ہوسکے۔

ان مثالوں کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کسی دوسرے ملک کا پورا نظام جوں کا توں نقل کرلے، بلکہ اصل سبق یہ ہے کہ کامیاب کچرا انتظام صرف چند گاڑیوں، خاکروبوں یا صفائی مہمات سے ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے لیے قانون، شہری رویہ، بنیادی ڈھانچہ، مقامی حکومت، صنعت، ری سائیکلنگ کی سہولیات اور مسلسل نگرانی کو ایک مربوط نظام کا حصہ بنانا پڑتا ہے۔

جب شہری کو یقین ہو کہ اس کے گھر سے الگ کیا گیا کچرا واقعی الگ ہی منتقل ہوگا اور مناسب مقام تک پہنچے گا تو اس کا رویہ بھی بدلتا ہے، لیکن اگر اسے معلوم ہو کہ آخرکار سب کچھ ایک ہی ڈھیر میں پھینک دیا جائے گا تو وہ بھی اپنی کوشش ترک کردیتا ہے۔

پاکستان میں پلاسٹک کا بڑھتا ہوا استعمال اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ ایک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک کے تھیلے، بوتلیں، کپ، پیکنگ اور دوسری اشیا ہماری گلیوں، بازاروں، نالوں اور آبی گزرگاہوں کا مستقل حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ پلاسٹک کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ وہ سڑک کنارے یا خالی پلاٹ میں پڑا نظر آتا ہے؛ اس کا تعلق نکاسی آب، شہری سیلاب، مٹی، پانی اور مجموعی ماحولیاتی آلودگی سے بھی ہے۔

اسی طرح کھلے عام کچرا جلانا بظاہر فوری صفائی کا آسان راستہ دکھائی دے سکتا ہے، مگر اس کے نتیجے میں دھواں اور نقصان دہ ذرات فضا میں شامل ہوسکتے ہیں۔ نامیاتی کچرے کے بڑے ڈھیروں سے گلنے سڑنے کے دوران میتھین جیسی گیسیں پیدا ہوسکتی ہیں، جبکہ بارش کے دوران کچرا نالوں میں پہنچ کر نکاسی آب کا نظام متاثر کرسکتا ہے۔ یوں جو کچرا ہم نے اپنے گھر کے دروازے سے باہر پھینکا تھا، وہ دوبارہ آلودہ ہوا، گندے پانی، بند نالے یا شہری سیلاب کی شکل میں ہماری زندگی میں واپس آسکتا ہے۔

اس پورے نظام میں وہ ہزاروں افراد بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں جو روزانہ سڑکوں، بازاروں اور کچرے کے ڈھیروں سے قابلِ استعمال مواد تلاش کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں انہیں عموماً صرف کچرا چننے والے افراد کے طور پر دیکھا جاتا ہے، حالانکہ غیر رسمی شعبے سے وابستہ یہ لوگ وسائل کی بازیافت اور ری سائیکلنگ کے عمل میں عملی کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ ان کا کام اکثر غیر محفوظ حالات میں ہوتا ہے، انہیں صحت کے خطرات لاحق رہتے ہیں اور ان کے لیے سماجی تحفظ کا مؤثر نظام موجود نہیں۔ اگر پاکستان واقعی کچرے کو وسائل میں تبدیل کرنا چاہتا ہے تو ان افراد کو نظرانداز کرنے کے بجائے انہیں محفوظ، منظم اور باعزت نظام کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔ انہیں حفاظتی سامان، بنیادی صحت کی سہولیات، تربیت اور مناسب معاوضے کے ساتھ ری سائیکلنگ کے باقاعدہ نظام سے جوڑا جائے تو ایک طرف ان کی زندگی بہتر ہوسکتی ہے اور دوسری طرف شہروں میں وسائل کی بازیافت اور صفائی کا نظام بھی زیادہ مؤثر ہوسکتا ہے۔

اس پورے نظام میں ریاست اور مقامی حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری ضرور ہے، لیکن اس نظام کی کامیابی شہریوں، صنعت اور کاروباری اداروں کی شرکت کے بغیر ممکن نہیں۔ شہریوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ کچرا الگ کریں، لیکن حکومت انہیں الگ الگ جمع کرنے، منتقل کرنے اور دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کا مؤثر نظام ہی فراہم نہ کرے، عملی طور پر کافی نہیں۔

ہر شہر میں ایسا مربوط نظام درکار ہے جس میں گھر اور کاروباری اداروں سے کچرا الگ جمع ہو، اسے الگ گاڑیوں کے ذریعے منتقل کیا جائے، منتقلی اور چھانٹی کے مراکز قائم ہوں، نامیاتی کچرے کے لیے کمپوسٹنگ یا بایوگیس کی سہولیات ہوں، قابلِ استعمال مواد کے لیے ری سائیکلنگ کا باقاعدہ نظام ہو اور باقی ماندہ کچرے کے لیے محفوظ لینڈ فلز موجود ہوں۔ اسپتالوں، صنعتی اداروں اور خطرناک کچرے کے لیے الگ انتظام ضروری ہے۔

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی اور خطرناک کچرے کے انتظام سے متعلق پالیسیاں اور منصوبے موجود ہیں، لیکن اصل امتحان ان پالیسیوں کے مؤثر نفاذ، مقامی سطح پر منصوبہ بندی اور مسلسل نگرانی کا ہے۔ پالیسی بنانا اہم ہے، لیکن پالیسی کا شہری کی گلی، محلے اور گھر تک پہنچنا اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

اسی تناظر میں دسمبر 2023 میں عالمی بینک کی جانب سے پنجاب کے لیے منظور کیا گیا 400 ملین ڈالر کا پنجاب انکلوسو سٹیز پروگرام بھی قابلِ ذکر ہے، جس کا مقصد 16 ثانوی شہروں میں شہری خدمات کو بہتر بنانا ہے اور اس میں ٹھوس کچرے کے انتظام اور محفوظ تلفی جیسے شعبے بھی شامل ہیں۔

ایسے منصوبے اس وقت حقیقی تبدیلی لاسکتے ہیں جب ان میں صرف یہ نہ دیکھا جائے کہ کتنا کچرا اٹھایا گیا، بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ کچرے کی مقدار میں کتنی کمی آئی، کتنا مواد الگ کیا گیا، کتنا ری سائیکل ہوا، نامیاتی کچرے کا کیا کیا گیا اور باقی کچرے کو کس طرح محفوظ طریقے سے تلف کیا گیا۔

پاکستان کے بڑے شہروں، خصوصاً تیزی سے پھیلتے ہوئے شہری علاقوں، کو طویل مدتی کچرا انتظام کے منصوبوں کی ضرورت ہے۔ ہر بار عید، بارش، کسی بڑے تہوار یا اہم موقع پر خصوصی صفائی مہم چلانا مستقل حل نہیں۔ مستقل حل وہ نظام ہے جو عام دنوں میں بھی اتنی ہی مؤثر طریقے سے کام کرے جتنا کسی خصوصی مہم کے دوران کرتا ہے۔

اس کے ساتھ شہریوں کا کردار بھی کسی صورت کم نہیں۔ حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانا آسان ہے، لیکن اگر ہم اپنے گھر کا کچرا گلی میں پھینکتے ہیں، خالی پلاٹ کو کچرا کنڈی سمجھتے ہیں، نالے میں پلاسٹک ڈال دیتے ہیں یا بازار میں چیز کھا کر اس کا ریپر سڑک پر چھوڑ دیتے ہیں تو ہم خود بھی اسی مسئلے کا حصہ ہیں۔

گھر کی سطح پر خشک قابلِ استعمال مواد، نامیاتی کچرے اور بیٹری، بلب یا برقی آلات جیسی حساس اشیا کو الگ رکھنے کی عادت اپنائی جاسکتی ہے۔ دکاندار اور کاروباری ادارے غیر ضروری پلاسٹک اور اضافی پیکنگ کم کرسکتے ہیں۔ صنعتیں ایسی پیکیجنگ تیار کرسکتی ہیں جو دوبارہ استعمال یا ری سائیکل ہوسکے اور استعمال شدہ مصنوعات واپس لینے کا نظام قائم کرسکتی ہیں۔

دنیا میں اسے صنعت کار کی توسیعی ذمہ داری کہا جاتا ہے، یعنی جو چیز مارکیٹ میں بھیجی جائے اس کے استعمال کے بعد پیدا ہونے والے کچرے کی ذمہ داری بھی کسی نہ کسی حد تک پیدا کرنے والے ادارے پر عائد ہو۔ یہ سوچ صرف حکومت پر انحصار کم نہیں کرتی بلکہ صنعت کو بھی ماحول دوست پیداوار اور ذمہ دارانہ کاروبار کی طرف لے جاتی ہے۔

اس تبدیلی میں اسکولوں، کالجوں اور جامعات کا کردار بھی غیر معمولی ہوسکتا ہے۔ اگر طالب علم کو صرف کتاب میں یہ پڑھایا جائے کہ صفائی اچھی عادت ہے تو بات شاید ایک سبق تک محدود رہے، لیکن اگر اسی تعلیمی ادارے میں کچرے کی درجہ بندی، ری سائیکلنگ، کمپوسٹنگ، پلاسٹک میں کمی اور دوبارہ استعمال کا عملی نظام موجود ہو تو وہی طالب علم یہ عادت اپنے گھر اور معاشرے تک لے جاسکتا ہے۔

ماحولیات کی تعلیم کو صرف تقریروں، سیمینارز اور عالمی دنوں تک محدود کرنے کے بجائے اسے روزمرہ کے طرزِ عمل سے جوڑنا ہوگا۔ میڈیا کا کردار بھی اسی طرح اہم ہے۔ ہمیں صرف گندگی کی تصاویر دکھا کر چند دن کے لیے عوامی توجہ حاصل کرنے کے بجائے مسلسل یہ بحث کرنی ہوگی کہ ہمارے شہروں کا کچرا کہاں جاتا ہے، اس سے کیا بنتا ہے، اس کے انتظام کی ذمہ داری کس کی ہے اور شہری اس پورے عمل میں کس طرح شریک ہوسکتے ہیں۔ رویوں میں تبدیلی کسی ایک دن کی مہم سے نہیں بلکہ مسلسل آگاہی اور عملی مثال سے آتی ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں کچرے کو صرف بوجھ سمجھنے کے بجائے ایک ممکنہ وسیلہ بھی سمجھنا ہوگا۔ کاغذ، شیشہ، دھات، پلاسٹک، کپڑا اور نامیاتی مواد میں معاشی قدر موجود ہے۔ اگر مناسب نظام قائم ہو تو کچرے سے روزگار پیدا ہوسکتا ہے، ری سائیکلنگ کی صنعت ترقی کرسکتی ہے، نامیاتی کچرے سے کھاد اور توانائی حاصل کی جاسکتی ہے اور خام مال پر ہونے والے اخراجات میں کمی لائی جاسکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے مطابق مکمل سرکلر معیشت، یعنی ایسی معیشت جس میں وسائل کو زیادہ دیر تک استعمال میں رکھا جائے، کچرے کی پیداوار کم ہو اور قابلِ استعمال مواد کو دوبارہ معیشت میں شامل کیا جائے، 2050 تک سالانہ 108.5 ارب ڈالر کے خالص معاشی فائدے کا امکان پیدا کرسکتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کچرے کا مسئلہ صرف صفائی پر آنے والے اخراجات کا نام نہیں بلکہ اس میں روزگار، کاروبار، صنعت اور معاشی ترقی کے امکانات بھی پوشیدہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس میں صرف بوجھ دیکھتے رہیں گے یا وسائل کی وہ قدر بھی پہچانیں گے جو ہماری آنکھوں کے سامنے روزانہ ضائع ہو رہی ہے؟

پاکستان کو اب کچرے کے مسئلے پر وقتی صفائی مہمات، نعروں اور ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے کی روش سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ہمیں ایک ایسا مربوط قومی نظام درکار ہے جس میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں، بلدیاتی ادارے، صنعت، کاروباری طبقہ، تعلیمی ادارے، میڈیا اور عام شہری اپنے اپنے حصے کی ذمہ داری قبول کریں۔

ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ گھر سے نکلنے والے کچرے کا سفر کہاں ختم ہوگا اور اس سفر کے ہر مرحلے پر کون ذمہ دار ہوگا۔ جس دن ہم نے یہ سمجھ لیا کہ کچرے کا تھیلا گھر کے دروازے سے باہر رکھتے ہی ہماری ذمہ داری ختم نہیں ہوجاتی، اسی دن اصل تبدیلی کا آغاز ہوگا۔

کیونکہ حقیقت بہت سادہ مگر اہم ہے کہ جو ہم پھینک دیتے ہیں، وہ ختم نہیں ہوتا؛ وہ صرف ہماری نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ وہ زمین میں رہتا ہے، پانی میں پہنچتا ہے، ہوا کو متاثر کرتا ہے، ہمارے شہروں کے نالوں کو بند کرتا ہے اور بالآخر کسی نہ کسی شکل میں دوبارہ ہماری زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔

مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ہمارا شہر کتنا صاف ہے، اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری کو کہاں تک سمجھتے ہیں اور اسے عملی طور پر ادا کرنے کے لیے کتنے تیار ہیں۔ اگر گھر سے شروع ہونے والی ذمہ داری ریاست، صنعت اور معاشرے کے ہر ادارے تک پہنچ جائے تو یہی کچرا ہمارے لیے ایک مستقل ماحولیاتی خطرے کے بجائے معاشی وسیلہ بھی بن سکتا ہے۔ لیکن اگر ہم نے اسے صرف کسی دوسرے کی ذمہ داری سمجھ کر گلی کے باہر پھینک دیا تو یاد رکھنا ہوگا کہ کچرے کا سفر ختم نہیں ہوا، صرف ہماری نظروں سے دور ہوا ہے۔

Disclaimer

ڈس کلیمر: اس آرٹیکل میں بیان کیے گئے خیالات، آرا اور تجزیہ مصنف کے ذاتی ہیں۔ ان کا ادارے کی پالیسی یا مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ آرٹیکل میں شامل اعداد و شمار اور معلومات متعلقہ حوالہ جات اور دستیاب ذرائع کی بنیاد پر پیش کی گئی ہیں۔