ایک شادی کی تقریب ختم ہوتی ہے۔ مہمان اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں، میزیں خالی ہو جاتی ہیں، لیکن کچرے کے ڈبوں میں پڑا ہوا کھانا ایک سوال چھوڑ جاتا ہے: جو خوراک کسی انسان کی بھوک مٹا سکتی تھی، وہ کچرے کے ڈھیر تک کیوں پہنچی؟

یہ منظر صرف شادی ہال یا کسی ایک تقریب کا نہیں۔ ہمارے گھروں، بازاروں، ہوٹلوں، ریستورانوں اور تقریبات میں روزانہ خوراک کی قابلِ ذکر مقدار ضائع ہوتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں غذائی محرومی اب بھی ایک حقیقت ہے، خوراک کا یہ ضیاع صرف ایک سماجی عادت نہیں بلکہ انسانی، معاشی اور ماحولیاتی مسئلہ ہے۔

اس مسئلے کی سنگینی اس وقت زیادہ محسوس ہوتی ہے جب ہم ایک ہی معاشرے کے دو مختلف منظر ایک ساتھ دیکھتے ہیں۔ ایک طرف ایسی تقریبات ہیں جہاں پلیٹیں ضرورت سے زیادہ کھانے سے بھر دی جاتی ہیں اور کچھ دیر بعد یہی خوراک کچرے میں چلی جاتی ہے، دوسری طرف ایسے گھر بھی ہیں جہاں والدین اپنے بچوں کو مناسب اور متنوع غذا فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ یونیسیف کے مطابق پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر 38 فیصد بچے شدید غذائی غربت کا شکار ہیں، یعنی انہیں نشوونما کے لیے درکار مختلف غذائی گروپوں میں سے مناسب تنوع والی خوراک میسر نہیں۔

ذرا اس منظر کا تصور کیجیے: ایک بچے کو اس بات کی فکر ہے کہ اگلا کھانا کہاں سے ملے گا، جبکہ کسی دوسری جگہ چند گھنٹے پہلے تیار کیا گیا قابلِ استعمال کھانا پلیٹوں سے اٹھا کر کچرے کے ڈھیر میں پھینک دیا گیا۔ ہر بچا ہوا لقمہ یقیناً کسی بھوکے انسان کو نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ خراب یا غیر محفوظ خوراک انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ لیکن جہاں خوراک محفوظ اور قابلِ استعمال ہو، وہاں اسے ضائع ہونے سے بچانے کی ذمہ داری صرف معاشی نہیں، انسانی بھی ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ خوراک ضائع ہو رہی ہے؛ مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں فراوانی اور محرومی ایک دوسرے کے ساتھ چل رہی ہیں۔

ہم اکثر خوراک کو صرف اپنی پلیٹ میں موجود ایک تیار شدہ چیز سمجھتے ہیں، حالانکہ ایک لقمہ ہماری میز تک پہنچنے سے پہلے ایک طویل سفر طے کرتا ہے۔ اس کے پیچھے زمین، پانی، بیج، کسان کی محنت، کھاد، بجلی، ایندھن، نقل و حمل، ذخیرہ کاری اور بہت سے انسانوں کی محنت شامل ہوتی ہے۔ جب خوراک ضائع ہوتی ہے تو صرف خوراک نہیں جاتی؛ اس کے ساتھ ان تمام وسائل اور محنت کا ایک حصہ بھی بے معنی ہو جاتا ہے۔ اس لیے خوراک بچانا دراصل پانی، زمین، توانائی، محنت اور پیسے کی قدر کرنا ہے۔

پاکستان میں خوراک کے ضیاع کا ایک معروف تخمینہ تقریباً تین کروڑ ساٹھ لاکھ ٹن سالانہ ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے بھی اس عدد کو اپنے متعلقہ کام میں بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ کم از کم نصف ضیاع ایسا ہے جسے روکا یا دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ ایک پرانا تخمینہ ہے اور پاکستان کے پورے غذائی نظام کے تمام مراحل کو یکجا کرتے ہوئے کوئی نیا جامع قومی تخمینہ دستیاب نہیں، اس لیے اسے موجودہ حتمی قومی عدد کے بجائے ایک اہم سابقہ اندازے کے طور پر دیکھنا زیادہ درست ہوگا۔

یہ عدد صرف ایک خبر نہیں بلکہ ایک سوال ہے۔ اگر محض ریاضی کی ایک مثال کے طور پر تین کروڑ ساٹھ لاکھ ٹن خوراک کو سامنے رکھا جائے اور ایک شخص کی روزانہ اوسط خوراک پانچ سو گرام فرض کی جائے تو یہ مقدار تقریباً سات کروڑ بیس لاکھ افراد کی ایک سال کی خوراک کے برابر بنتی ہے۔ یہ عملی طور پر اتنے لوگوں کو کھانا فراہم کرنے کا دعویٰ نہیں، کیونکہ ضائع ہونے والی تمام خوراک انسانی استعمال کے قابل نہیں ہوتی اور اس میں مختلف مراحل پر ہونے والا نقصان بھی شامل ہے۔ لیکن یہ حساب ہمیں یہ ضرور بتاتا ہے کہ جس ضیاع کو ہم روزمرہ کی معمولی بات سمجھتے ہیں، اس کا مجموعی حجم کتنا بڑا ہو سکتا ہے۔

دنیا کی صورتحال بھی مختلف نہیں۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی 2024 کی رپورٹ، جو 2022 کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، کے مطابق گھریلو سطح، خوراک فراہم کرنے والے شعبے اور پرچون فروشی کے مرحلے پر دنیا بھر میں ایک ارب پانچ کروڑ ٹن خوراک ضائع ہوئی۔ اس کا تقریباً 60 فیصد حصہ گھروں، 28 فیصد خوراک فراہم کرنے والے شعبے اور 12 فیصد پرچون فروشی سے متعلق تھا۔ اقوام متحدہ کے مطابق اسی عرصے میں دنیا بھر میں تقریباً 78 کروڑ 30 لاکھ افراد بھوک سے متاثر تھے۔ یعنی دنیا میں ایک طرف خوراک ضائع ہو رہی ہے اور دوسری طرف کروڑوں انسان مناسب خوراک سے محروم ہیں۔

پاکستان میں خوراک کے ضیاع کی ایک نمایاں تصویر شادی بیاہ اور بڑی تقریبات میں سامنے آتی ہے۔ مہمانوں کی تعداد سے کہیں زیادہ خوراک تیار کرنا، بوفے میں ضرورت سے زیادہ پکوان رکھنا اور پھر پلیٹ میں اپنی ضرورت سے کہیں زیادہ کھانا ڈال لینا عام مشاہدہ ہے۔ کئی لوگ سب کچھ چکھنے کی خواہش میں اپنی پلیٹ بھر لیتے ہیں، مگر کھانا ختم ہونے سے پہلے ہی پلیٹ میں خاصی مقدار بچ جاتی ہے۔ بوفے یا فکس کے حساب سے کھانے والی تقریبات میں اگر پہلے کم مقدار لی جائے اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ حاصل کی جائے تو پلیٹ میں بچنے والی خوراک کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اصل مسئلہ کھانے کی فراوانی نہیں، ضرورت اور استعمال کے درمیان توازن کا فقدان ہے۔

لیکن خوراک کا ضیاع پلیٹ تک پہنچنے سے بہت پہلے شروع ہو جاتا ہے۔ ضرورت سے زیادہ خریداری، گھروں میں نامناسب ذخیرہ کاری، پھلوں اور سبزیوں کا خراب ہو جانا، ترسیل کے دوران نقصان اور بازار میں محض ظاہری شکل کی بنیاد پر قابلِ استعمال اشیا کو رد کر دینا بھی اسی سلسلے کا حصہ ہے۔ اقوام متحدہ کے خوراک و زراعت کے ادارے کے مطابق 2023 میں فصل کی کٹائی کے بعد اور خوردہ فروشی سے پہلے عالمی سطح پر خوراک کے نقصان کی شرح 13.3 فیصد تھی، جبکہ پھلوں اور سبزیوں میں یہ شرح 25.4 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس کا مطلب ہے کہ مسئلہ صرف صارف کی پلیٹ کا نہیں بلکہ پورے غذائی نظام کا ہے۔

اس صورتحال کا ایک بہتر راستہ یہ ہے کہ جو خوراک صاف، محفوظ اور انسانی استعمال کے قابل ہو، اسے کچرے میں پھینکنے کے بجائے ضرورت مند افراد تک پہنچایا جائے۔ گھروں، ہوٹلوں، شادی ہالوں اور تقریبات میں بچ جانے والی محفوظ خوراک کو فلاحی اداروں، کمیونٹی مراکز اور مستحق خاندانوں تک پہنچانے کے منظم طریقے بنائے جا سکتے ہیں۔ پاکستان میں اجتماعی فریج جیسے منصوبوں کا تصور بھی اسی سوچ کے تحت سامنے آیا ہے کہ اضافی مگر محفوظ خوراک کسی ایسے شخص تک پہنچ سکے جسے اس کی ضرورت ہو۔ تاہم اس پورے عمل میں صفائی، درجہ حرارت، تازگی، محفوظ پیکنگ اور بروقت استعمال کے اصولوں کی پابندی بنیادی شرط ہے۔

جو خوراک انسانی استعمال کے قابل نہیں، وہ بھی لازماً بے کار نہیں ہوتی۔ سبزیوں کے چھلکے، پھلوں کے باقی حصے اور دیگر نامیاتی فضلے کو الگ جمع کرکے نامیاتی کھاد تیار کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح نامیاتی فضلے کو آکسیجن کے بغیر حیاتیاتی عمل سے گزار کر حیاتی گیس پیدا کی جا سکتی ہے، جبکہ اس عمل کے بعد بچنے والا مادہ زمین کی زرخیزی بہتر بنانے میں معاون ہو سکتا ہے۔ یوں ایک طرف محفوظ خوراک انسان تک پہنچ سکتی ہے اور دوسری طرف ناقابلِ استعمال نامیاتی مواد دوبارہ کھاد یا توانائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

خوراک کے ضیاع کا تعلق ماحول سے بھی براہِ راست ہے۔ جب خوراک پیدا کرنے کے لیے استعمال ہونے والی زمین، پانی اور توانائی ضائع ہو جاتی ہے تو ان وسائل کے استعمال کا مقصد بھی فوت ہو جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق خوراک کے ضیاع اور نقصان کا تعلق عالمی گرین ہاؤس گیس اخراج کے تقریباً 8 سے 10 فیصد حصے سے ہے۔ خوراک جب کچرے کے ڈھیروں میں پہنچ کر گلتی سڑتی ہے تو میتھین جیسی گیسوں کے اخراج کا مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے خوراک بچانا صرف بھوک کم کرنے کی کوشش نہیں بلکہ ماحول اور قدرتی وسائل کے تحفظ کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔

اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے صرف حکومت یا کسی ایک ادارے کی کوشش کافی نہیں ہوگی۔ گھر میں خریداری کرنے والا فرد، خوراک پکانے والا شخص، تقریب منعقد کرنے والا منتظم، ہوٹل اور ریستوران، سبزی و پھل فروش، مارکیٹ انتظامیہ اور بلدیاتی ادارے، سب کی اپنی ذمہ داری ہے۔ گھروں میں ضرورت کے مطابق خریداری، بہتر ذخیرہ کاری اور بچی ہوئی خوراک کا بروقت استعمال شروع کیا جا سکتا ہے۔ تقریبات میں خوراک کی مقدار کا حقیقت پسندانہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بوفے میں چھوٹی مقدار پہلے لینے اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ لینے کی عادت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ محفوظ اضافی خوراک کے لیے تقسیم کا منظم نظام اور نامیاتی فضلے کے لیے الگ جمع کرنے کا طریقہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔

سب سے اہم ضرورت رویے کی تبدیلی ہے۔ جب تک ہم خوراک کو صرف خریدنے، پکانے اور کھانے کی ایک معمول کی چیز سمجھتے رہیں گے، ضیاع کم کرنا مشکل ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہماری پلیٹ تک پہنچنے والی خوراک کے پیچھے ایک کسان کا دن، ایک خاندان کی آمدنی، پانی کا ایک حصہ، زمین کا ایک ٹکڑا، توانائی کا ایک مصرف اور بے شمار ہاتھوں کی محنت شامل ہے۔ کسی تقریب میں پلیٹ میں ضرورت سے زیادہ کھانا ڈالنا ایک معمولی عمل محسوس ہو سکتا ہے، لیکن جب یہی معمولی عمل لاکھوں لوگوں کے رویوں کا حصہ بن جائے تو اس کا نتیجہ ایک بہت بڑے اجتماعی نقصان کی صورت میں نکلتا ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ ہم روزانہ کتنی خوراک ضائع کرتے ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم خوراک کی قدر کتنی کرتے ہیں۔ ایک طرف وہ بچے ہیں جنہیں مناسب اور متنوع غذا میسر نہیں، دوسری طرف ایسی تقریبات، گھر اور بازار ہیں جہاں ضرورت سے زیادہ خوراک تیار، خریدی یا پیش کی جاتی ہے اور پھر اس کا ایک حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ اس تضاد کو صرف اعداد و شمار سے نہیں سمجھا جا سکتا؛ اسے اپنے روزمرہ رویوں میں محسوس کرنا ہوگا۔

خوراک بچانا صرف ایک لقمہ بچانا نہیں۔ یہ کسان کی محنت، پانی کے ایک حصے، زمین کے ایک ٹکڑے، توانائی کے ایک مصرف اور کسی ضرورت مند انسان کے حق کی قدر کرنا ہے۔ ہماری ایک پلیٹ میں صرف کھانا نہیں ہوتا؛ اس کے ساتھ کئی ہاتھوں کی محنت، کئی قدرتی وسائل اور کسی نہ کسی امید کا حصہ بھی جڑا ہوتا ہے۔ جب ہم ضرورت سے زیادہ لیتے ہیں اور پھر اسے ضائع کر دیتے ہیں تو دراصل اس پوری زنجیر کی قدر کم کر دیتے ہیں۔

شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ دیکھنا شروع کریں کہ ہماری دعوت کتنی بڑی تھی، میز پر کتنے پکوان تھے یا پلیٹ کتنی بھری ہوئی تھی، اس کے بجائے یہ سوچیں کہ اس خوراک کا کتنا حصہ واقعی استعمال ہوا، کتنا محفوظ طریقے سے کسی ضرورت مند تک پہنچا اور کتنا نامیاتی فضلہ دوبارہ کسی مفید شکل میں تبدیل کیا جا سکتا تھا۔ دسترخوان کی خوبصورتی صرف فراوانی میں نہیں، قدردانی میں بھی ہے۔ کیونکہ جس معاشرے میں رزق کی قدر پیدا ہو جائے، وہاں صرف خوراک نہیں بچتی، بلکہ وسائل، محنت اور انسانوں کی قدر بھی بڑھتی ہے۔

“ہماری پلیٹ سے کچرے کے ڈھیر تک پہنچنے والا ہر لقمہ صرف خوراک نہیں، کسی کی محنت، کسی کا حق اور کسی کی بھوک سے جڑا ہوا سوال ہے۔”

Disclaimer

یہ مضمون مصنفہ کی تحقیق، معلومات اور ذاتی تجزیے پر مبنی ہے۔ مضمون میں پیش کیے گئے اعداد و شمار متعلقہ اداروں اور دستیاب رپورٹس سے لیے گئے ہیں۔ ادارہ یا اشاعتی پلیٹ فارم مضمون میں بیان کیے گئے خیالات، آرا اور اعداد و شمار کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔