سکھر: سندھ ہائیکورٹ سکھر بینچ میں پی پی ایچ آئی سندھ کو سرکاری صحت مراکز اور عوامی وسائل کا انتظام حوالے کرنے سے متعلق آئینی درخواست کی سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے اہم جواب جمع کرایا گیا، جس میں سرکاری اثاثوں، ادویات، طبی سامان، بجٹ اور صحت مراکز کی منتقلی کی قانونی و مالی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
درخواست گزار ابوذر غفاری کے وکیل ایڈووکیٹ سپریم کورٹ غلام شبیر شر کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صرف ایم او یو، معاہدے یا کابینہ کی منظوری کی بنیاد پر سرکاری اثاثوں اور صحت مراکز کی منتقلی خودبخود قانونی نہیں ہوجاتی، بلکہ آئین، متعلقہ قوانین، رولز آف بزنس، مالی ضوابط، خریداری کے قوانین اور آڈٹ کی لازمی شرائط پر عملدرآمد ثابت کرنا ضروری ہے۔
ہائیکورٹ سے مکمل ریکارڈ طلب کرنے کی استدعادرخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ پی پی ایچ آئی سندھ کے حوالے کیے گئے یا مستقبل میں حوالے کرنے کے لیے تجویز کردہ تمام صحت مراکز کا مکمل ریکارڈ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔
اس کے علاوہ صحت مراکز کی منتقلی کا قانونی اختیار، ادویات اور طبی سامان کی تفصیلات اور مالیت، اثاثوں کی تحویل، آڈٹ کا نظام، بجٹ کی تخصیص، مالی اثرات اور عوام کو صحت کی سہولیات مساوی طور پر فراہم کرنے سے متعلق حفاظتی اقدامات کا ریکارڈ بھی طلب کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے جواب میں مالی سال 2021-22 اور 2024-25 کی آڈٹ رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے پی پی ایچ آئی سندھ کے مالی انتظام، خریداری، ادویات، ٹھیکوں، بھرتیوں اور فنڈز کے استعمال سے متعلق مختلف آڈٹ اعتراضات کو عدالت کے ریکارڈ پر لانے کی استدعا کی گئی ہے۔
جواب کے مطابق 2024-25 کی آڈٹ رپورٹ میں 6,896.7776 ملین روپے کے فنڈز کے عدم استعمال اور 4,531.430 ملین روپے کی ادویات کی خریداری میں شفافیت سے متعلق اعتراضات کا حوالہ دیا گیا ہے۔
درخواست گزار کے مطابق آڈٹ میں کم ترین بولی دینے والے کے بجائے دیگر بولی دہندگان کو ٹھیکے دینے، بلیک لسٹ کیے گئے ٹھیکیدار کو کام دینے، ادویات اور طبی سامان کی خریداری، صحت مراکز کے قیام کے لیے فنڈز ملنے کے باوجود سہولیات قائم نہ کرنے اور دیگر مالی معاملات پر بھی اعتراضات سامنے آئے ہیں۔
”یہ معمولی اکاؤنٹنگ غلطیاں نہیں“، شبیر شردرخواست گزار کے وکیل شبیر شر کا مؤقف ہے کہ کئی سالوں پر محیط آڈٹ اعتراضات کو معمولی اکاؤنٹنگ غلطیاں قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ ان کا تعلق عوامی فنڈز، سرکاری اثاثوں، ادویات، صحت مراکز، خریداری اور عوام کو فراہم کی جانے والی صحت کی سہولیات سے ہے۔
NAB ریفرنس کا حوالہ بھی جواب کا حصہجواب میں پی پی ایچ آئی سندھ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سے متعلق NAB Reference No. 8 of 2016 کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق مذکورہ معاملے میں سکھر کی احتساب عدالت نے سزا کا فیصلہ سنایا تھا، جبکہ بعد ازاں سزا معطل کرنے سے متعلق عدالتی حکم جاری ہوا۔
درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ سزا کی معطلی کو ازخود بریت یا سزا کے فیصلے کے خاتمے کے مترادف قرار نہیں دیا جاسکتا اور یہ معاملہ عوامی وسائل کے انتظام سے متعلق عدالتی جانچ میں ایک متعلقہ حقیقت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
درخواست گزار نے عدالت سے مکمل آڈٹ رپورٹس، کمپلائنس رپورٹس، محکمے کے جوابات، آڈٹ سیٹلمنٹ ریکارڈ، وصولیوں کی تفصیلات، ذمہ داری کے تعین سے متعلق ریکارڈ اور آڈٹ اعتراضات پر کی گئی کارروائی عدالت کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی استدعا کی ہے۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اصل سوال پی پی ایچ آئی سندھ کے وجود یا صحت کی خدمات فراہم کرنے کے ماڈل کا نہیں بلکہ سرکاری صحت مراکز، اربوں روپے کے عوامی فنڈز اور اثاثوں کی قانونی منتقلی، شفافیت اور جوابدہی کا ہے۔
درخواست گزار کی جانب سے جواب یکم ستمبر 2026 کو سکھر میں ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان غلام شبیر شر کے توسط سے جمع کرایا گیا۔




