پس منظر
ضلع ملیر گزشتہ کئی برسوں سے ایجوکیشن سٹی، سرکاری اراضی، مقامی آبادی کے حقوق اور تعلیمی سہولیات کے فقدان جیسے اہم معاملات کے باعث مسلسل بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایک طرف حکومت کا مؤقف ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے ہزاروں ایکڑ اراضی مختص کی گئی، جبکہ دوسری جانب مقامی آبادی، منتخب نمائندے اور سماجی حلقے قدیم گوٹھوں، قبرستانوں، گرین بیلٹ اور مقامی لوگوں کے مالکانہ حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان تمام معاملات کا غیر جانبدارانہ جائزہ یہی ظاہر کرتا ہے کہ اصل ضرورت ترقی اور عوامی حقوق کے درمیان توازن قائم کرنے کی ہے۔
ایجوکیشن سٹی کی بنیاد
دستیاب دستاویزات اور عوامی بیانات کے مطابق 2006-07 میں اس وقت کی وفاقی حکومت کے دور میں پاکستان اسٹیل ملز اور حکومت سندھ کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MOU) طے پائی، جس کے تحت ضلع ملیر کے مختلف علاقوں کے بدلے دیہہ جوریجی کے ناکلاس نمبر 344، 311، 374 اور دیگر میں تقریباً 1,350 ایکڑ اراضی حکومت سندھ کو ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے لیے منتقل کی گئی۔
اس منصوبے کا مقصد ٹیکنالوجی سٹی اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کا قیام تھا تاکہ مستقبل میں جدید جامعات قائم کی جا سکیں۔
قبضوں اور بے ضابطگیوں کے خدشات
بعد ازاں مختلف حلقوں کی جانب سے یہ تحفظات سامنے آئے کہ اس اراضی کے بعض حصوں پر غیر قانونی قبضے، غیر مجاز ہاؤسنگ اسکیمیں، فارم ہاؤسز، کمرشل سرگرمیاں اور دیگر تعمیرات وجود میں آئیں۔
اگر واقعی تعلیمی مقاصد کے لیے مختص اراضی پر غیر قانونی قبضے ہوئے ہیں تو ان کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آئیں اور قانون کے مطابق کارروائی ہو۔
توسیع پر مقامی تحفظات
دوسری جانب حکومت کی جانب سے ایجوکیشن سٹی کی توسیع کے لیے مزید تقریباً 10 ہزار ایکڑ اراضی مختص کرنے کی تجاویز بھی سامنے آئیں، جس پر مقامی آبادی اور منتخب نمائندوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
ان کا مؤقف ہے کہ کئی دیہات اور گوٹھ کئی دہائیوں سے آباد ہیں، متعدد افراد کے پاس قانونی لیز اور دستاویزات موجود ہیں، لہٰذا کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے نام پر مقامی آبادی کو بے دخل کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
ان نمائندوں کا مطالبہ ہے کہ اگر منصوبے میں توسیع ناگزیر ہے تو غیر آباد سرکاری زمین استعمال کی جائے اور مقامی آبادی کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔
عوامی اعتماد کیوں ضروری؟
حالیہ اجلاسوں میں بھی منتخب نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایجوکیشن سٹی منصوبہ ملیر اور سندھ کے تعلیمی مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے، تاہم اس کی تکمیل مقامی آبادی، تاریخی گوٹھوں، قبرستانوں، گرین بیلٹ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے ساتھ ہونی چاہیے۔
بعض سماجی نمائندوں کے مطابق متعلقہ کمیٹیوں اور مقامی اسٹیک ہولڈرز کو تمام فیصلوں میں اعتماد میں نہیں لیا جا رہا، جس کے باعث بے اعتمادی پیدا ہو رہی ہے۔
سب سے بڑا سوال
ان تمام تنازعات کے درمیان سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر خود ضلع ملیر کے نوجوانوں کو کیا ملا؟
ہزاروں ایکڑ اراضی اعلیٰ تعلیم کے نام پر مختص ہونے کے باوجود آج بھی ضلع ملیر میں ایک مکمل سرکاری یونیورسٹی موجود نہیں۔ ہزاروں نوجوان اعلیٰ تعلیم کے لیے شہر کے دیگر علاقوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ نجی جامعات کی بلند فیسیں عام اور متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہیں۔
درسانہ چھنہ کی مثال
اسی تناظر میں گورنمنٹ ایلیمنٹری کالجز آف ایجوکیشن درسانہ چھنہ کی مثال بھی سامنے آتی ہے، جہاں جدید عمارت، کلاس رومز، ہاسٹلز، آڈیٹوریم اور دیگر بنیادی سہولیات موجود ہونے کے باوجود ادارہ اپنی مکمل استعداد کے مطابق استعمال نہیں ہو پاتا۔
اگر حکومت اس ادارے کو کسی سرکاری یونیورسٹی کے کیمپس یا "ملیر یونیورسٹی" کی بنیاد میں تبدیل کر دے تو ہزاروں نوجوانوں کو براہ راست فائدہ پہنچ سکتا ہے اور برسوں سے موجود تعلیمی محرومی کا ازالہ ممکن ہو سکتا ہے۔
اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟
یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔
اگر ایجوکیشن سٹی کا مقصد واقعی علم، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کا فروغ ہے تو اس کا پہلا فائدہ ملیر کے نوجوانوں کو ملنا چاہیے۔ مقامی طلبہ کو معیاری اور سستی اعلیٰ تعلیم، روزگار کے مواقع، تحقیقی مراکز اور جدید تعلیمی سہولیات فراہم کرنا ہی اس منصوبے کی اصل کامیابی ہوگی۔
شفافیت ہی حل
متعلقہ اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اراضی سے متعلق تمام ریکارڈ، الاٹمنٹس، لیز اور قانونی معاملات مکمل شفافیت کے ساتھ عوام کے سامنے لائیں۔
جہاں غیر قانونی قبضے یا بے ضابطگیاں ثابت ہوں وہاں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، جبکہ جہاں برسوں سے آباد قانونی مکین موجود ہوں وہاں ان کے آئینی اور قانونی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔
ترقیاتی منصوبوں میں عوامی مشاورت، شفافیت اور قانون کی بالادستی ہی دیرپا اور قابلِ قبول حل فراہم کر سکتی ہے۔
اختتامیہ
ملیر کے عوام کی بنیادی خواہش کسی تنازعے کو بڑھانا نہیں بلکہ اپنے علاقے کے لیے معیاری تعلیم، ترقی اور انصاف حاصل کرنا ہے۔
اگر حکومت، عدلیہ، متعلقہ ادارے، منتخب نمائندے اور مقامی آبادی مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو ایجوکیشن سٹی واقعی سندھ کا ایک مثالی تعلیمی مرکز بن سکتا ہے۔
اسی کے ساتھ ملیر کو ایک مکمل سرکاری یونیورسٹی یا کم از کم کسی بڑی سرکاری جامعہ کا مستقل کیمپس فراہم کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلیں بہتر مستقبل کی طرف بڑھ سکیں۔




