پاکستان کا سب سے بڑا معاشی مرکز کراچی اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ سندھ آج بھی تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، بنیادی انفراسٹرکچر، بلدیاتی خدمات، امن و امان اور روزگار جیسے بنیادی مسائل سے دوچار ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر سندھ کی اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا صرف سیاست دان؟ کیا صرف بیوروکریسی؟ یا پھر پورا حکومتی اور انتظامی نظام؟

یہ سوال کئی دہائیوں سے عوام، ماہرین، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے درمیان زیر بحث ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کا جواب سادہ نہیں، کیونکہ گورننس ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔

سیاست دانوں کی ذمہ داری

جمہوری نظام میں عوام منتخب نمائندوں کو اس لیے منتخب کرتے ہیں کہ وہ قانون سازی کریں، ترقیاتی منصوبے بنائیں، بجٹ کی ترجیحات طے کریں اور عوامی مسائل حل کریں۔

اگر صحت، تعلیم، بلدیات، آبپاشی، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبے مطلوبہ نتائج نہ دے سکیں تو حکومت سے سوال کرنا جمہوری حق ہے۔ عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ ترقیاتی فنڈز شفاف انداز میں خرچ ہوں، میرٹ کو ترجیح دی جائے اور عوامی مفاد ہر فیصلے کی بنیاد ہو۔

بیوروکریسی کا کردار

بیوروکریسی ریاست کا مستقل انتظامی ڈھانچہ ہے۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں لیکن سرکاری افسران اداروں کو چلاتے ہیں، قوانین پر عمل درآمد کراتے ہیں، منصوبوں کی نگرانی کرتے ہیں اور سرکاری وسائل کی حفاظت کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔

اگر قواعد و ضوابط پر مؤثر عمل نہ ہو، نگرانی کمزور ہو یا شکایات کا بروقت ازالہ نہ ہو تو گورننس متاثر ہوتی ہے۔ اسی لیے ایک مضبوط، پیشہ ور اور جوابدہ سول سروس کسی بھی کامیاب ریاست کی بنیادی ضرورت سمجھی جاتی ہے۔

کیا مسئلہ صرف سیاست دان اور بیوروکریٹس ہیں؟

اگر تمام تر ذمہ داری صرف انہی دو طبقات پر ڈال دی جائے تو تصویر مکمل نہیں ہوگی۔

گورننس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں: احتسابی ادارے مقننہ عدلیہ مقامی حکومتیں ریگولیٹری ادارے میڈیا سول سوسائٹی اور خود شہری

جب کسی نظام میں نگرانی کمزور ہو، معلومات تک رسائی محدود ہو، اور احتساب مؤثر نہ ہو تو بدانتظامی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

کرپشن: صرف مالی نہیں، انتظامی بھی

کرپشن صرف رشوت لینے یا مالی خردبرد کا نام نہیں۔

کرپشن اس وقت بھی ہوتی ہے جب: میرٹ کو نظر انداز کیا جائے۔ اقربا پروری کو فروغ دیا جائے۔ عوامی وسائل غیر مؤثر منصوبوں پر خرچ ہوں۔ سرکاری اختیارات ذاتی یا سیاسی مفاد کے لیے استعمال ہوں۔ قانون کا اطلاق سب پر یکساں نہ ہو۔

ایسی صورت حال عوام کے اعتماد کو کمزور کرتی ہے اور ریاستی اداروں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

سب سے زیادہ نقصان کس کو؟

خراب گورننس کا سب سے بڑا نقصان عام شہری اٹھاتا ہے۔

وہ شہری: جو سرکاری اسپتال میں علاج کے انتظار میں ہوتا ہے۔ جو ٹوٹی ہوئی سڑک پر سفر کرتا ہے۔ جو صاف پانی سے محروم ہوتا ہے۔ جو سرکاری اسکول میں معیاری تعلیم چاہتا ہے۔ جو میرٹ پر ملازمت کا خواہش مند ہوتا ہے۔

یہی وہ لوگ ہیں جو نظام کی کمزوریوں کی سب سے بڑی قیمت ادا کرتے ہیں۔

اصلاحات کہاں سے شروع ہوں؟

سندھ میں بہتر گورننس کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں:

تمام سرکاری اداروں میں میرٹ پر تقرریاں۔ مالی معاملات کا آزاد اور باقاعدہ آڈٹ۔ سرکاری خریداری اور ٹینڈرز میں مکمل شفافیت۔ ترقیاتی منصوبوں کی عوامی نگرانی۔ مؤثر احتسابی نظام۔ مقامی حکومتوں کو آئینی اختیارات اور وسائل کی فراہمی۔ ڈیجیٹل گورننس اور اوپن ڈیٹا کے ذریعے شفافیت۔ سرکاری افسران اور منتخب نمائندوں کی کارکردگی کی باقاعدہ جانچ۔ میڈیا کا کردار

آزاد اور ذمہ دار صحافت کسی بھی جمہوریت کی طاقت ہوتی ہے۔

تحقیقی صحافت کا مقصد کسی فرد یا ادارے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ حقائق سامنے لانا، عوام کو باخبر رکھنا اور ریاستی اداروں کو جوابدہ بنانا ہے۔ جہاں میڈیا آزاد، ذمہ دار اور پیشہ ور ہو، وہاں گورننس بہتر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

نتیجہ

سندھ کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار کسی ایک فرد، ایک جماعت، ایک افسر یا ایک ادارے کو قرار دینا حقیقت کا مکمل عکس نہیں ہوگا۔

اگر منتخب حکومت مؤثر قانون سازی اور پالیسی نہ دے، بیوروکریسی قوانین پر عمل درآمد میں ناکام رہے، احتسابی ادارے کمزور ہوں، مقامی حکومتیں غیر فعال ہوں اور شفافیت کا فقدان ہو تو نتیجہ بیڈ گورننس کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ الزام تراشی کے بجائے اصلاحات کی بات کی جائے۔ سندھ کو سیاسی نعروں سے زیادہ مؤثر گورننس، مضبوط اداروں، شفاف احتساب، میرٹ، قانون کی حکمرانی اور عوامی خدمت کی ضرورت ہے۔

سندھ کے مسائل کا حل کسی ایک شخصیت کی تبدیلی میں نہیں بلکہ اداروں کی مضبوطی، قانون کی بالادستی اور جوابدہی کے ایسے نظام میں ہے جہاں ہر صاحبِ اختیار اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داری کے مطابق جوابدہ ہو۔ یہی راستہ عوام کا اعتماد بحال کر سکتا ہے اور سندھ کو ترقی کی نئی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔