تعارف
اعلیٰ تعلیم کسی بھی ملک کی ترقی، سائنسی تحقیق، معاشی استحکام اور فکری ارتقا کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ جامعات وہ مراکز ہیں جہاں مستقبل کے سائنس دان، ڈاکٹر، انجینئر، جج، بیوروکریٹس، صحافی، اساتذہ اور قومی رہنما تیار ہوتے ہیں۔ لیکن جب انہی اداروں کی گورننس، انتظامی شفافیت، میرٹ اور احتساب پر مسلسل سوالات اٹھنے لگیں تو یہ صرف تعلیمی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ قومی اہمیت کا معاملہ بن جاتا ہے۔
سندھ، جو پاکستان کا دوسرا بڑا صوبہ ہے، سرکاری اور نجی شعبے کی متعدد جامعات کا مرکز ہے۔ ان اداروں میں ہزاروں اساتذہ تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں جبکہ لاکھوں طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ ان جامعات میں بے شمار قابل، دیانت دار اور محنتی اساتذہ اور محققین موجود ہیں جنہوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔
تاہم گزشتہ کئی برسوں سے مختلف حلقوں کی جانب سے بعض جامعات کے انتظامی معاملات، تقرریوں، امتحانی نظام، مالی نظم و نسق اور مجموعی گورننس کے حوالے سے سوالات اور تحفظات سامنے آتے رہے ہیں۔
یہ رپورٹ کسی ایک جامعہ یا شخصیت کے خلاف الزام نہیں بلکہ ایسے مسائل کا جائزہ ہے جو مختلف ادوار میں عوامی، تعلیمی اور پالیسی سطح پر زیرِ بحث رہے ہیں، اور جن پر اصلاحات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
جامعات: علم کے مراکز یا انتظامی بحران؟
کسی بھی یونیورسٹی کی کامیابی کا پیمانہ صرف اس کی عمارتیں، بجٹ یا طلبہ کی تعداد نہیں ہوتی بلکہ اس کا تحقیقی معیار، شفاف نظام، قابل اساتذہ، میرٹ پر مبنی تقرریاں اور طلبہ کا اعتماد ہوتا ہے۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق جب اداروں میں فیصلہ سازی پر غیر تعلیمی عوامل اثرانداز ہونے لگیں تو تحقیق، تدریس اور اختراع متاثر ہوتی ہے۔
اس کے نتیجے میں:
تحقیقی معیار کمزور ہونے لگتا ہے۔ قابل اساتذہ کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ نوجوان محققین بیرونِ ملک مواقع تلاش کرتے ہیں۔ طلبہ کا اداروں پر اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ وائس چانسلر: ایک عہدہ نہیں، ادارے کی سمت کا تعین
وائس چانسلر کسی بھی جامعہ کا صرف انتظامی سربراہ نہیں بلکہ اس کے علمی وژن، تحقیقی سمت اور ادارہ جاتی مستقبل کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق وائس چانسلرز کی تقرری میں درج ذیل اصول بنیادی اہمیت رکھتے ہیں:
مکمل میرٹ آزاد اور بااختیار سرچ کمیٹی تحقیقی خدمات اور انتظامی تجربہ شفاف اور قابلِ جانچ انتخابی عمل
اگر تقرری کے عمل پر سوالات اٹھیں تو ادارے کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے، اسی لیے دنیا کی ممتاز جامعات میں قیادت کے انتخاب کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔
سفارشی کلچر: میرٹ کے لیے خاموش خطرہ
سفارش وقتی طور پر کسی ایک فرد کو فائدہ پہنچا سکتی ہے، لیکن طویل مدت میں یہ پورے ادارے کے میرٹ اور انصاف کے نظام کو متاثر کرتی ہے۔
جب نوجوانوں کو یہ محسوس ہو کہ محنت سے زیادہ تعلقات اہم ہیں تو ان کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ اسی طرح جب قابل اساتذہ خود کو نظرانداز محسوس کریں تو تدریسی ماحول بھی متاثر ہونے لگتا ہے۔
تعلیم میں سفارش کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ میرٹ کو خاموشی سے کمزور کرتی ہے، اور میرٹ کمزور ہونے کے بعد ادارے کی ساکھ، تحقیق اور معیار بھی متاثر ہوتے ہیں۔
گورننس کا بحران
جامعات صرف کلاس رومز سے نہیں بلکہ مؤثر گورننس سے چلتی ہیں۔
اگر انتظامی نظام کمزور ہو تو:
فیصلوں میں غیر ضروری تاخیر ہوتی ہے۔ ترقیاتی منصوبے متاثر ہوتے ہیں۔ مالی نگرانی کمزور پڑ جاتی ہے۔ احتساب کا نظام غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔
اسی لیے دنیا بھر میں یونیورسٹی گورننس کو اعلیٰ تعلیم کا بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے۔
تحقیق یا نمائشی ترقی؟
کسی بھی جامعہ کی اصل شناخت اس کے تحقیقی جرائد، جدید لیبارٹریوں، ڈیجیٹل لائبریریوں، بین الاقوامی اشتراک، اختراعات اور پیٹنٹس سے ہوتی ہے۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق اگر وسائل کا بڑا حصہ ایسے منصوبوں پر خرچ ہو جن سے تدریس اور تحقیق میں واضح بہتری نہ آئے تو یہ پالیسی سازی پر سوالات کو جنم دیتا ہے۔
عوامی وسائل کا بنیادی مقصد تحقیق، تدریس، طلبہ کی سہولیات اور علمی ترقی ہونا چاہیے۔
احتساب کیوں ضروری ہے؟
احتساب کسی ادارے کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط بناتا ہے۔
اگر کسی جامعہ کے بارے میں عوامی سطح پر سوالات یا شکایات موجود ہوں تو ان کا مؤثر جواب شفاف تحقیقات، آزاد آڈٹ اور معلومات تک رسائی کے ذریعے دیا جا سکتا ہے۔
اگر بے ضابطگیاں نہ ہوں تو تحقیقات ادارے کی ساکھ مضبوط کرتی ہیں، اور اگر خامیاں موجود ہوں تو اصلاحات کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔
وہ سوالات جو جواب چاہتے ہیں کیا وائس چانسلرز کی تقرریوں کا نظام مزید شفاف بنایا جا سکتا ہے؟ کیا جامعات کے مالی معاملات کا باقاعدہ آزاد آڈٹ ہونا چاہیے؟ کیا بھرتیوں اور ترقیوں کے عمل کو مزید شفاف اور قابلِ نگرانی بنایا جا سکتا ہے؟ کیا امتحانی نظام کو جدید اور محفوظ بنانے کی ضرورت ہے؟ کیا تحقیق اور اختراع کو نمائشی منصوبوں پر ترجیح دی جا رہی ہے؟
یہ سوال کسی ایک ادارے کے نہیں بلکہ پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کے مستقبل سے متعلق ہیں۔
اگلی قسط میں...
دی پوسٹ ڈیجیٹل کی خصوصی تحقیق کے دوسرے حصے میں جائزہ لیا جائے گا کہ جامعات میں بھرتیوں، ترقیوں، خریداری، ٹینڈرز، امتحانی نظام، مالی نظم و نسق اور انتظامی شفافیت کے حوالے سے مختلف حلقوں میں کن چیلنجز پر بحث ہوتی رہی ہے، اور ان کے ممکنہ اثرات طلبہ، اساتذہ اور اعلیٰ تعلیم کے معیار پر کس طرح مرتب ہو سکتے ہیں۔
(جاری ہے…)




