گزشتہ ہفتے ہونے والے ایکنک اجلاس میں لاہور-ساہیوال-بہاولنگر موٹروے اور خوازہ خیلہ-بشام ایکسپریس وے کی منظوری اور ترجیح دی گئی، جبکہ اس سے قبل کھاریاں-راولپنڈی موٹروے کو بھی ترقیاتی ترجیحات میں شامل کیا گیا تھا۔ ان منصوبوں کی اپنی تزویراتی، معاشی اور علاقائی اہمیت ضرور ہو سکتی ہے، لیکن پاکستان کو متبادل یا فاصلے کم کرنے والے راستوں اور ملک کی بنیادی شمال-جنوب موٹروے شریان کے درمیان فرق کرنا ہوگا۔

اس تناظر میں سکھر-حیدرآباد ایم-6 کی تکمیل سب سے اہم قومی ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے۔ تقریباً 306 کلومیٹر طویل یہ منصوبہ طویل عرصے سے تاخیر کا شکار ہے، حالانکہ یہ پشاور-کراچی موٹروے نیٹ ورک کا ایک اہم حصہ ہے۔ تقریباً 1,150 کلومیٹر پر محیط یہ شمال-جنوب موٹروے رابطہ پاکستان کی اقتصادی سرگرمیوں، اندرونِ ملک تجارت اور بندرگاہوں تک رسائی کی بنیادی شریان کی حیثیت رکھتا ہے۔

سکھر-حیدرآباد ایم-6 کوئی عام سڑک نہیں بلکہ قومی اقتصادی راہداری کی گمشدہ کڑی ہے۔

کراچی پاکستان کا دنیا کے ساتھ بنیادی تجارتی دروازہ ہے۔ ملک کی بڑی بندرگاہیں بین الاقوامی تجارت کا بڑا حصہ سنبھالتی ہیں، جبکہ کراچی میں پیدا ہونے والی اقتصادی سرگرمیاں ملک بھر کے صارفین، صنعتوں، تاجروں اور کاروباری اداروں سے جڑی ہوئی ہیں۔ کراچی سے پنجاب، خیبر پختونخوا اور شمالی بلوچستان کی جانب سامان کی ترسیل کے لیے مؤثر، محفوظ اور قابلِ اعتماد زمینی رابطہ ناگزیر ہے۔ اسی طرح زرعی پیداوار، تیار شدہ مصنوعات اور اندرونِ ملک پیدا ہونے والی برآمدی اشیا کو بھی کراچی کی بندرگاہوں تک بروقت پہنچنا چاہیے۔

اس وقت طویل فاصلے کی ٹریفک کو این-5 کے ذریعے سندھ کے پرانے اور گنجان راستوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسا سفر جسے چند گھنٹوں میں مکمل ہونا چاہیے، اکثر غیر متوقع، مہنگا اور تکلیف دہ حد تک سست ہو جاتا ہے۔ اس کا نقصان محض مسافروں یا ٹرانسپورٹ آپریٹرز تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ پوری قومی معیشت پر براہِ راست لاجسٹک بوجھ بن جاتا ہے۔

اس مسئلے کے اثرات خاص طور پر خراب ہونے والی زرعی اجناس کے لیے سنگین ہیں۔ سڑک پر ضائع ہونے والا ہر اضافی گھنٹہ اشیائے خورونوش اور زرعی پیداوار کے خراب ہونے کے امکانات بڑھاتا اور ان کی مارکیٹ ویلیو کم کرتا ہے۔ دوسری جانب مال بردار گاڑیوں کے مالکان کو اضافی ایندھن، ٹائروں، مرمت، ڈرائیوروں کے اوقاتِ کار اور گاڑیوں کی قدر میں کمی کی صورت میں زیادہ اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ تاخیر سے ترسیل کاروباری اداروں کے لیے انوینٹری کی لاگت بڑھاتی ہے، جبکہ ٹریفک کا دباؤ ایندھن کے زیادہ استعمال اور غیر ضروری کاربن اخراج کا سبب بھی بنتا ہے۔

ایم-6 کی تعمیر سے طویل فاصلے کی بھاری ٹریفک کو مقامی ٹریفک سے ایک کنٹرولڈ ایکسیس موٹروے کے ذریعے الگ کیا جا سکے گا۔ اس سے موجودہ قومی شاہراہ پر دباؤ کم ہوگا، سفر کا وقت قابلِ پیش گوئی بنے گا اور ملک کے شمالی علاقوں اور کراچی کے درمیان مال برداری زیادہ مؤثر ہو سکے گی۔

یہی وجہ ہے کہ حکومت کی ترقیاتی ترجیحات کا ازسرِنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ لاہور-ساہیوال-بہاولنگر موٹروے، کھاریاں-راولپنڈی موٹروے اور خوازہ خیلہ-بشام ایکسپریس وے اپنے اپنے علاقوں میں اہم علاقائی فوائد، متبادل روابط یا فاصلے میں کمی فراہم کر سکتے ہیں۔ تاہم یہ منصوبے ملک کی بنیادی شمال-جنوب موٹروے شریان کو مکمل کرنے کا متبادل نہیں ہو سکتے۔

پاکستان کو ایک ایسے وقت میں اپنی قومی راہداری کے بنیادی گمشدہ حصے کو ادھورا چھوڑ کر مختلف علاقوں میں متبادل راستوں یا نسبتاً کم فاصلے کے منصوبوں پر ترجیح نہیں دینی چاہیے، جب ملک کو کراچی کی بندرگاہوں، صنعتی مراکز، بڑے تجارتی شہروں اور قومی منڈیوں کے درمیان مؤثر مال بردار رابطے کی شدید ضرورت ہے۔

تقریباً تین دہائیوں پر محیط وعدوں کے بعد پاکستان کو محض ایک اور اعلان سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو ایم-6 کے لیے واضح، قابلِ عمل اور وقت کے پابند مالیاتی، خریداری اور تعمیراتی منصوبے مرتب کرنے چاہییں۔ پورے کوریڈور کی تکمیل کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی ضروری ہے، نہ کہ ایسے انفرادی ذیلی منصوبے جن کے درمیان قومی سطح پر کوئی واضح تکمیلی ترتیب موجود نہ ہو۔

اس منصوبے کا معاشی سوال بھی نئے انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ "ایم-6 کی تعمیر پر کتنی لاگت آئے گی؟" بلکہ یہ بھی حساب کرنا چاہیے کہ "ایم-6 کی عدم تکمیل کی وجہ سے پاکستان کو ہر سال کتنا معاشی نقصان ہو رہا ہے؟"

اس نقصان میں اضافی ایندھن کا استعمال، مال برداری میں تاخیر، گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات، ٹریفک حادثات، زرعی پیداوار کا ضیاع، سڑکوں پر بھیڑ اور تجارت کے ضائع ہونے والے مواقع سب شامل ہیں۔ اگر ان تمام عوامل کو قومی معیشت کے مجموعی نقصان میں شمار کیا جائے تو ایم-6 کی لاگت کو صرف تعمیراتی اخراجات کے تناظر میں دیکھنا ایک ادھورا معاشی تجزیہ ہوگا۔

پاکستان کو مزید بکھری ہوئی موٹروے منصوبہ بندی کی ضرورت نہیں، جبکہ اس کی بنیادی اقتصادی شریان ابھی تک نامکمل ہے۔ ایم-6 کو فوری قومی بنیادی ڈھانچے کی ترجیح بنایا جانا چاہیے، جبکہ نئے ایم-10 سمیت کراچی سے منسلک دیگر منصوبوں کی منصوبہ بندی اس انداز میں ہونی چاہیے کہ وہ اس قومی کوریڈور کے ساتھ مؤثر طور پر مربوط ہوں۔

پشاور-کراچی موٹروے کوریڈور کو مکمل کرنا محض ایک اور سڑک تعمیر کرنے کا معاملہ نہیں۔ یہ اس بنیادی رابطے کو مکمل کرنے کا سوال ہے جس پر پاکستان پہلے ہی کئی دہائیوں اور اربوں روپے خرچ کر چکا ہے۔ ملک کو پہلے اپنی بنیادی اقتصادی شریان مکمل کرنی ہوگی، اپنے سب سے بڑے تجارتی گیٹ وے کو قومی منڈی سے مؤثر طور پر جوڑنا ہوگا، اور اس کے بعد متبادل یا فاصلے کم کرنے والے راستوں کو تقابلی ترجیح دینی چاہیے۔

ایم-6 صرف ایک موٹروے نہیں؛ یہ پاکستان کے شمال اور جنوب، پیداوار اور منڈی، صنعت اور بندرگاہ، اور قومی معیشت کو ایک مؤثر زمینی رابطے میں جوڑنے والی گمشدہ کڑی ہے۔ اب ضرورت ایک اور وعدے کی نہیں، بلکہ اسے مکمل کرنے کے واضح فیصلے کی ہے۔