اسلام آباد، 29 اگست: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے بعد سی ڈی اے کے کیپٹل اسپتال میں بھی فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات کا انکشاف ہوا ہے۔ اسپتال کے فائر سیفٹی آڈٹ کی رپورٹ میں متعدد سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر دور کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق اسپتال میں آگ لگنے کی صورت میں بروقت اطلاع دینے کے لیے مؤثر فائر الارم سسٹم اور فائر کنٹرول روم موجود نہیں، جبکہ متعدد بلاکس میں دھواں خارج کرنے کا مناسب انتظام بھی نہیں کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہنگامی اخراج کے راستوں پر حفاظتی فائر ڈورز، مناسب ایمرجنسی سیڑھیاں اور محفوظ راستے ناکافی ہیں۔ آئی سی یو اور آپریشن تھیٹرز جیسے حساس شعبوں میں بھی فائر سیفٹی انتظامات تسلی بخش نہیں پائے گئے۔

آڈٹ کے دوران متعدد فائر ایکسٹنگوشرز کی مدت ختم ہونے اور ان کی تعداد ضرورت سے کم ہونے کی نشاندہی کی گئی، جبکہ پرانا فائرفائٹنگ سسٹم بھی غیر فعال قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسپتال میں آگ بجھانے کے لیے پانی کا مناسب نظام، تمام بلاکس میں خودکار اسپنکلر سسٹم اور مکمل ایمرجنسی لائٹنگ بھی موجود نہیں۔ تربیت یافتہ فائر فائٹنگ عملے کی کمی اور سرورز و اہم ریکارڈ رومز کے لیے ناکافی حفاظتی انتظامات بھی سامنے آئے ہیں۔

آڈٹ رپورٹ میں اسپتال انتظامیہ کو تمام خامیوں اور کوتاہیوں کو فوری اور ترجیحی بنیادوں پر دور کرنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔