کھٹمنڈو: نیپال میں شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 543 تک پہنچ گئی، جبکہ سیکڑوں افراد تاحال لاپتا ہیں۔ امدادی اداروں ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ نے متاثرہ علاقوں کی صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دے دیا ہے۔

حکام کے مطابق سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے متعدد سڑکیں اور پل تباہ ہونے کے باعث متاثرہ علاقوں تک رسائی انتہائی مشکل ہوگئی ہے اور بعض مقامات پر صرف ہیلی کاپٹر کے ذریعے امداد پہنچائی جا سکتی ہے۔

نیپالی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ فی الحال امدادی کارروائیوں کے لیے کسی دوسرے ملک کی مدد درکار نہیں، جبکہ سکیورٹی ادارے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔

دوسری جانب دریائے بھوٹے کوشی کا راستہ ملبے سے بند ہونے کے باعث بننے والی جھیل کے اوورفلو ہونے سے نیپال اور تبت کے سرحدی علاقوں میں مزید سیلاب کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ ضلعی حکام کے مطابق صورتحال کے پیش نظر امدادی آپریشن بھی عارضی طور پر روکنا پڑا۔

حکام کا کہنا ہے کہ گلیشیئر کا بڑا حصہ گرنے سے برف، چٹانوں، کیچڑ اور ملبے کا بڑا ریلا ہمالیائی دریاؤں میں پھیل گیا ہے، جس کے باعث مزید تباہی کا خدشہ برقرار ہے۔