1940 کی قراردادِ لاہور کو اگر صرف قیامِ پاکستان کی طرف جانے والی ایک تاریخی دستاویز سمجھا جائے تو سندھ کے مفادات کا ایک اہم پہلو نظرانداز ہوجاتا ہے۔ سندھ کے نقطۂ نظر سے اس قرارداد کا بنیادی سوال یہ ہے کہ پاکستان کا تصور کن اکائیوں کے سیاسی اختیار، خودمختاری اور رضامندی پر قائم ہونا تھا۔

1940 کی قراردادِ لاہور کا بنیادی تصور

قرارداد 22 تا 24 مارچ 1940 کو آل انڈیا مسلم لیگ کے لاہور اجلاس میں منظور ہوئی۔ اس میں 1935 کے ایکٹ کے تحت مجوزہ وفاق کو مسلمانوں کے لیے ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے یہ اصول پیش کیا گیا کہ مسلم اکثریتی علاقوں کو جغرافیائی طور پر مربوط خطوں میں منظم کرکے “Independent States” قائم کیے جائیں اور ان کے “constituent units” یعنی تشکیل دینے والی اکائیوں کو خودمختار اور مقتدر بنایا جائے۔

یہاں ایک بنیادی نکتہ بہت اہم ہے:

1940 کی قرارداد میں سندھ کو کسی مرکز کے ماتحت محض انتظامی ڈویژن بنانے کی بات نہیں کی گئی تھی؛ اس کا تصور ایسی سیاسی اکائیوں کا تھا جنہیں اپنی خودمختاری حاصل ہو۔

سندھ کا براہِ راست کردار کیا تھا؟

یہاں تاریخ کا ایک دلچسپ پہلو سامنے آتا ہے۔ 1940 کی قرارداد پیش کرنے والے اے کے فضل الحق تھے، جبکہ اس کی تائید کرنے والوں میں سندھ کے سر عبداللہ ہارون بھی شامل تھے۔

لیکن سندھ کا کردار صرف لاہور میں قرارداد کی حمایت تک محدود نہیں تھا۔

یکم اپریل 1936 کو سندھ بمبئی پریزیڈنسی سے الگ ہوکر ایک علیحدہ صوبہ بنا اور 1937 میں سندھ کی اپنی قانون ساز اسمبلی وجود میں آئی۔

یعنی 1940 میں جب مسلم لیگ مسلم اکثریتی علاقوں کی سیاسی خودمختاری کی بات کررہی تھی، سندھ پہلے ہی اپنی جداگانہ صوبائی حیثیت اور سیاسی ادارے رکھتا تھا۔

لیکن سندھ کے مفاد کی اصل تاریخی دستاویز 1943 ہے

یہاں ایک بہت اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔

1940 کی قرارداد لاہور میں منظور ہوئی، لیکن پاکستان کے قیام کے حق میں کسی ہندوستانی قانون ساز اسمبلی کی پہلی باقاعدہ قرارداد سندھ اسمبلی نے 3 مارچ 1943 کو منظور کی۔

اس قرارداد کو جی۔ایم۔سید نے سندھ اسمبلی میں پیش کیا۔ اس میں مسلمانوں کو ایک الگ قوم تسلیم کرتے ہوئے مسلم اکثریتی علاقوں میں آزاد قومی ریاستوں کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ سندھ نے صرف پاکستان کے تصور کی حمایت نہیں کی بلکہ اپنی منتخب قانون ساز اسمبلی کے ذریعے اس تصور کو سیاسی جواز بھی فراہم کیا۔

سندھ کے مفادات کے لیے 1940 کی قرارداد کا مطلب

اگر قرارداد کو سندھ کی نظر سے پڑھیں تو اس کے کم از کم چار بڑے اصول سامنے آتے ہیں:

اول: سندھ ایک سیاسی اکائی تھا۔

قرارداد کا تصور “constituent units” کی خودمختاری تھا۔ لہٰذا سندھ کو محض انتظامی ضلع یا مرکز کے ماتحت یونٹ سمجھنا اس اصل تصور سے مختلف ہے۔

دوم: خودمختاری قرارداد کا بنیادی لفظ ہے۔

قرارداد میں constituent units کے لیے autonomous and sovereign کے الفاظ استعمال ہوئے۔ بعد کے آئینی ارتقا میں “sovereign” کی عملی تعبیر تبدیل ہوئی، لیکن یہ تاریخی حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ قرارداد کا اصل تصور مضبوط صوبائی اختیار پر مبنی تھا۔

سوم: پاکستان کا تصور اکائیوں کی رضامندی سے جڑا ہوا تھا۔

1940 کا سیاسی تصور کسی ایک مرکزی وحدت کو باقی تمام علاقوں پر مسلط کرنے کا تصور نہیں تھا بلکہ مسلم اکثریتی علاقوں کو ان کی جغرافیائی اور سیاسی حقیقت کے مطابق منظم کرنے کا تھا۔

چہارم: سندھ کا پاکستان میں داخلہ ایک تاریخی سیاسی عمل تھا، محض انتظامی انضمام نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ سندھ اسمبلی کی تاریخ بھی سندھ کو پاکستان کی تحریک میں ایک بنیادی مقام دیتی ہے اور 1943 کی قرارداد کو برصغیر کی پہلی ایسی قانون ساز قرارداد قرار دیتی ہے جس نے پاکستان کے قیام کی حمایت کی۔

پھر 1940 کے تصور اور بعد کے پاکستان میں فرق کیوں پیدا ہوا؟

یہ سب سے اہم سوال ہے۔

1940 میں جس تصور میں خودمختار اکائیوں کی بات تھی، 1947 کے بعد پاکستان کو ایک زیادہ مرکزی ریاستی ڈھانچے میں منظم کیا گیا۔ 1955 میں تو سندھ سمیت مغربی پاکستان کی تمام صوبائی اکائیوں کو ون یونٹ میں ضم کردیا گیا اور سندھ اسمبلی بھی ختم ہوگئی۔

یہ سندھ کے تاریخی سیاسی شعور کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا تھا، کیونکہ جس صوبے نے 1936 میں بمبئی سے علیحدگی حاصل کرکے اپنی جداگانہ سیاسی شناخت بنائی تھی، اسے 1955 میں دوبارہ ایک بڑے انتظامی ڈھانچے میں ضم کردیا گیا۔

اسی تاریخی تجربے کی وجہ سے سندھ میں صوبائی خودمختاری کا سوال محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ تاریخی یادداشت بن گیا۔

سندھ کے مفادات کے تناظر میں حتمی نتیجہ

اگر 1940 کی قرارداد کو سندھ کے زاویے سے دیکھا جائے تو اس کا سب سے مضبوط پیغام یہ نہیں کہ “سندھ نے پاکستان بنایا”؛ بلکہ اس سے زیادہ گہری بات یہ ہے کہ:

سندھ نے پاکستان کے تصور کی حمایت ایک ایسی وفاقی سوچ کے تحت کی جس میں تاریخی اکائیوں کی شناخت، سیاسی اختیار اور خودمختاری بنیادی اہمیت رکھتے تھے۔

اسی لیے اگر کوئی 1940 کی قرارداد کا حوالہ دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے کہ اس قرارداد میں صوبائی خودمختاری کی کوئی گنجائش نہیں تھی تو وہ قرارداد کے اصل تصور کو نظرانداز کررہا ہوگا۔

البتہ تاریخی دیانت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ 1940 کی قرارداد کو موجودہ دور کی صوبائی سیاست پر لفظ بہ لفظ لاگو نہ کیا جائے۔ 1940 کی قرارداد کا “Independent States” والا تصور 1947 کے بعد ایک متحد ریاستِ پاکستان کی صورت میں عملی طور پر تبدیل ہوا۔

اس لیے درست تاریخی مؤقف یہ ہے کہ سندھ کے مفاد کی سب سے مضبوط بنیاد قرارداد کے الفاظ “خودمختار اکائیاں” اور بعد کے وفاقی آئینی ارتقا میں تلاش کی جاسکتی ہے، نہ کہ یہ دعویٰ کہ 1940 کی قرارداد نے موجودہ آئینی پاکستان کی مکمل شکل پہلے ہی طے کردی تھی۔

اور شاید یہی سندھ کے لیے اس پوری تاریخ کا سب سے بڑا سوال ہے:

جس سندھ نے پاکستان کے تصور کو اپنی منتخب اسمبلی میں سب سے پہلے سیاسی سند دی، کیا پاکستان کے وفاقی نظام نے بھی بعد میں سندھ کو وہی سیاسی وقار، اختیار اور خودمختاری دی جس کا تصور تحریکِ پاکستان کے ابتدائی مرحلے میں پیش کیا گیا تھا؟

یہ سوال تاریخی بھی ہے، آئینی بھی، اور سندھ کے مستقبل کے لیے آج بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔