اختلافِ رائے کسی بھی زندہ، باشعور اور جمہوری معاشرے کی بنیادی علامت ہے۔ جہاں مختلف ذہن، مختلف تجربات اور مختلف نقطۂ نظر رکھنے والے لوگ موجود ہوں گے، وہاں اختلاف بھی ہوگا، سوال بھی اٹھیں گے، فیصلوں پر تنقید بھی ہوگی اور حکومتوں سے جواب بھی مانگا جائے گا۔ دراصل جمہوریت کا حسن ہی یہ ہے کہ ہر شخص ایک جیسا نہیں سوچتا۔ مسئلہ اختلاف میں نہیں، مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اختلاف دشمنی میں بدل جائے، دلیل کی جگہ الزام لے لے، تنقید کردار کشی بن جائے اور سیاسی و سماجی گفتگو گالم گلوچ، تضحیک اور نفرت تک پہنچ جائے۔

آج پاکستان سمیت دنیا کے کئی معاشروں میں سیاسی گفتگو کا لہجہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ تلخ محسوس ہوتا ہے۔ سماجی ذرائع ابلاغ نے ہر شخص کو اظہارِ رائے کا ایسا پلیٹ فارم دے دیا ہے جہاں چند سیکنڈ میں ایک خیال ہزاروں یا لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ لیکن اسی رفتار نے ایک بنیادی سوال بھی پیدا کر دیا ہے: کیا ہم ایک دوسرے سے زیادہ بات کر رہے ہیں، یا ایک دوسرے کو کم سن رہے ہیں؟

پاکستان میں اس سوال کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ ڈیجیٹل دنیا اب معاشرے کا ایک بہت بڑا حصہ بن چکی ہے۔ ڈیجیٹل 2026 پاکستان رپورٹ کے مطابق 2025 کے اختتام تک پاکستان میں تقریباً 11 کروڑ 70 لاکھ افراد انٹرنیٹ استعمال کر رہے تھے، جبکہ اکتوبر 2025 تک ملک میں تقریباً 7 کروڑ 99 لاکھ سماجی ذرائع ابلاغ کے صارفین موجود تھے، جو مجموعی آبادی کے تقریباً 31.2 فیصد کے برابر تھے۔

اگر ان اعداد کو 2025 کے آغاز کے اعداد و شمار سے ملایا جائے تو صورتحال مزید واضح ہوتی ہے۔ ڈیجیٹل 2025 پاکستان رپورٹ کے مطابق سال کے آغاز پر سماجی ذرائع ابلاغ کے صارفین کی تعداد تقریباً 6 کروڑ 69 لاکھ تھی۔ یعنی اسی سال کے دوران یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 7 کروڑ 99 لاکھ ہو گئی۔ یہ محض ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کا معاملہ نہیں؛ یہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ سیاسی، سماجی اور قومی گفتگو کا ایک بڑا حصہ اب ڈیجیٹل میدان میں ہو رہا ہے۔

یہاں اصل مسئلہ شروع ہوتا ہے۔ سماجی ذرائع ابلاغ نے اظہارِ رائے کو جمہوری ضرور بنایا، لیکن ہر اظہار کو ذمہ دار نہیں بنایا۔ ایک شخص کسی سیاسی رہنما یا جماعت کے بارے میں بغیر تحقیق کے کوئی الزام لگاتا ہے، دوسرا اسے فوراً آگے بڑھا دیتا ہے، تیسرا اس پر مزید سخت تبصرہ کرتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک غیر مصدقہ بات سیاسی حقیقت کا روپ دھار لیتی ہے۔ دلیل آنے سے پہلے فیصلہ ہو جاتا ہے اور تحقیق سے پہلے رائے قائم ہو جاتی ہے۔

پاکستان میں سیاسی تقسیم اور سماجی ذرائع ابلاغ کے کردار پر ہونے والی حالیہ تحقیق بھی اس صورتحال کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ 2026 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق نے پاکستان میں سماجی ذرائع ابلاغ پر سیاسی تقسیم اور سیاسی وابستگیوں کا جائزہ لیتے ہوئے مختلف سیاسی گروہوں کے درمیان الگ الگ آن لائن حلقوں اور سیاسی وابستگیوں کے نمایاں ہونے کی نشاندہی کی ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں سیاسی اختلاف نیا ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت اختلافات پہلے بھی رہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے پر شدید تنقید بھی کی، جلسوں میں سخت زبان بھی استعمال ہوئی اور پارلیمان میں بھی تلخ بحثیں ہوتی رہی ہیں۔ لیکن آج فرق یہ ہے کہ وہ سیاسی تلخی چند جلسوں، اخبارات یا پارلیمانی ایوانوں تک محدود نہیں رہتی۔ موبائل فون کے ذریعے یہ ہر گھر، ہر دفتر، ہر تعلیمی ادارے اور ہر فرد کی ذاتی زندگی میں داخل ہو جاتی ہے۔

نتیجتاً سیاسی اختلاف اب بعض اوقات ذاتی شناخت کا حصہ بن جاتا ہے۔ کوئی شخص ایک جماعت کا حامی ہے تو اس سے اختلاف کرنے والا صرف سیاسی مخالف نہیں رہتا بلکہ بعض اوقات اسے برا، غدار، کرپٹ، جاہل یا ملک دشمن سمجھ لیا جاتا ہے۔ دوسری طرف مخالف گروہ بھی اسی شدت کے ساتھ جواب دیتا ہے۔ یوں سیاست پالیسیوں اور نظریات کے مقابلے سے نکل کر شخصیتوں اور گروہوں کی جنگ بن جاتی ہے۔

یہاں ہمیں یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ کیا ہم اختلافِ رائے برداشت کرنا بھول رہے ہیں؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں۔ اپریل 2026 میں ایک بین الاقوامی تحقیقی مطالعے میں چھ براعظموں کے 30 ممالک میں 15.202 افراد سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مطابق کم جمہوری اور کم معاشی مساوات والے معاشروں میں لوگوں نے آن لائن سیاسی دشمنی زیادہ محسوس کی، جبکہ آن لائن جارحانہ سیاسی رویہ رکھنے والے افراد میں حقیقی زندگی میں بھی مخالفین کے خلاف جارحانہ رویے زیادہ پائے گئے۔

یہ نتیجہ انتہائی اہم ہے، کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سماجی ذرائع ابلاغ خود بخود معاشرے کو تلخ نہیں بناتے؛ بلکہ آن لائن رویوں اور معاشرے کے حقیقی سیاسی و سماجی ماحول کے درمیان گہرا تعلق موجود ہے۔ جہاں عدم اعتماد، معاشی بے چینی، سیاسی عدم استحکام اور اداروں پر اعتماد کا بحران زیادہ ہو، وہاں سماجی ذرائع ابلاغ ان جذبات کو مزید تیز کرنے والا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

دنیا کی بڑی جمہوریتیں بھی اس مسئلے سے محفوظ نہیں۔ امریکا میں سیاسی تقسیم، انتخابی کشمکش اور مخالف سیاسی گروہوں کے درمیان شدید جذباتی فاصلے ایک مستقل موضوع بن چکے ہیں۔ برطانیہ اور یورپ میں بھی برطانیہ کے یورپی اتحاد سے علیحدگی، امیگریشن، معیشت، قومی شناخت اور خارجہ پالیسی جیسے معاملات پر شدید اختلافات موجود ہیں۔ یعنی یہ کہنا درست نہیں کہ دوسرے ممالک میں سیاست ہمیشہ شائستہ اور پاکستان میں ہمیشہ تلخ رہی ہے۔ اصل فرق زیادہ اہم سوال میں ہے: ادارے، سیاسی روایات، ذرائع ابلاغ اور معاشرہ اس اختلاف کو کس حد تک ایک قابلِ برداشت مکالمے میں تبدیل کر پاتے ہیں؟

پاکستان کے لیے یہی اصل سبق ہے

اختلاف کو ختم کرنا ممکن بھی نہیں اور ضروری بھی نہیں۔ ایک مضبوط جمہوریت میں حزبِ اختلاف حکومت سے سوال کرتی ہے، حکومت اپنے فیصلوں کا دفاع کرتی ہے، ذرائع ابلاغ دونوں سے جواب طلب کرتے ہیں اور عوام اپنے ووٹ کے ذریعے فیصلہ کرتے ہیں۔ لیکن اگر حکومت اور حزبِ اختلاف ایک دوسرے کو دشمن سمجھنے لگیں، اگر سیاسی کارکن دلیل سننے کے بجائے صرف اپنی جماعت کی تعریف اور مخالف کی تذلیل کو سیاست سمجھنے لگیں تو جمہوری عمل کمزور ہونے لگتا ہے۔

سماجی ذرائع ابلاغ نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے کیونکہ وہاں غصہ اکثر دلیل سے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔ اشتعال انگیز عنوان، طنزیہ ویڈیو، تضحیک آمیز تصویر یا الزام پر مبنی تحریر چند گھنٹوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کے برعکس ایک متوازن، تحقیقی اور محتاط تحریر کو شاید اتنی فوری توجہ نہ ملے۔ یوں توجہ حاصل کرنے کی دوڑ میں بعض اوقات تلخی خود ایک ابلاغی حکمتِ عملی بن جاتی ہے۔

یہ صورتحال غلط معلومات کے مسئلے سے بھی جڑ جاتی ہے۔ مئی2025 کے پاکستان اور بھارت کے درمیان فوجی تنازع کے دوران سماجی ذرائع ابلاغ پر جعلی تصاویر، پرانی ویڈیوز اور مصنوعی طور پر تیار کردہ مواد بڑے پیمانے پر گردش کرتا رہا۔ ایک تجزیے میں ایکس پر جانچ کی گئی 427 تشویشناک پوسٹس میں سے صرف 73 پر انتباہ درج ہونے کی نشاندہی کی گئی، جبکہ بعض پوسٹس تقریباً ایک کروڑ مرتبہ دیکھی گئی تھیں۔

یہ مثال بتاتی ہے کہ سیاسی اور قومی جذبات جب غلط معلومات کے ساتھ مل جائیں تو مسئلہ محض گالم گلوچ تک محدود نہیں رہتا۔ غلط معلومات عوامی رائے، قومی جذبات اور حتیٰ کہ ریاستوں کے درمیان کشیدگی کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔ اس لیے آج کی سیاسی گفتگو میں صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ کون کیا کہہ رہا ہے؛ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ وہ جو کہہ رہا ہے، وہ درست بھی ہے یا نہیں۔

ذرائع ابلاغ کا کردار

یہاں ذرائع ابلاغ کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ صحافت کا مقصد صرف حکومت اور حزبِ اختلاف کے دو متضاد بیانات نشر کر دینا نہیں۔ صحافت کا اصل کام عوام کو یہ سمجھنے میں مدد دینا ہے کہ دعوے کی حقیقت کیا ہے، اعداد و شمار کیا کہتے ہیں، پس منظر کیا ہے اور کس موقف کے حق میں شواہد موجود ہیں۔

اگر ٹی وی کے سیاسی مباحثوں میں دلیل سے زیادہ شور، ایک دوسرے کی بات کاٹنے، الزام تراشی اور ذاتی حملوں کو زیادہ وقت ملے گا تو ناظرین بھی اسی انداز کو سیاسی گفتگو کا معمول سمجھنے لگیں گے۔ اسی طرح اگر سماجی ذرائع ابلاغ پر صحافتی اصولوں کے بجائے فوری ردعمل کو کامیابی کا معیار بنا دیا جائے تو خبر اور رائے، حقیقت اور افواہ کے درمیان فرق مزید دھندلا ہو جاتا ہے۔

تاہم اس پوری صورتحال کی ذمہ داری صرف سیاستدانوں یا ذرائع ابلاغ پر ڈال دینا بھی درست نہیں۔ عام شہری بھی اس ماحول کا حصہ ہیں۔ ہم جس تحریر کو بغیر پڑھے آگے بڑھاتے ہیں، جس الزام کو بغیر ثبوت دوسروں تک پہنچاتے ہیں، جس شخص کو صرف اس کی سیاسی وابستگی کی وجہ سے برا بھلا کہتے ہیں، ہم اسی سیاسی ماحول کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال رہے ہوتے ہیں۔

اختلافِ رائے کے آداب

تعلیمی اداروں کا کردار بھی بنیادی ہے۔ نوجوانوں کو صرف نصابی علم نہیں بلکہ اختلافِ رائے کے آداب بھی سکھانے کی ضرورت ہے۔ انہیں یہ سمجھانا ہوگا کہ بحث میں مقصد مخالف کو خاموش کرنا نہیں بلکہ اپنے مؤقف کو دلیل کے ساتھ پیش کرنا ہے۔ کسی طالبعلم کا مختلف سیاسی نظریہ رکھنا اس کی کم علمی یا بدنیتی کی دلیل نہیں۔

گھروں میں بھی یہی تربیت ضروری ہے۔ اگر بچے اپنے بڑوں کو ہر سیاسی اختلاف پر ایک دوسرے کی تضحیک کرتے دیکھیں گے تو وہ بھی یہی سیکھیں گے کہ اختلاف کا مطلب دوسرے کو نیچا دکھانا ہے۔ اس کے برعکس اگر گھر میں یہ ماحول ہو کہ “ہم اس سیاسی جماعت سے اختلاف کرتے ہیں، مگر اس جماعت کے حامی کی عزت کرتے ہیں”، تو نئی نسل ایک زیادہ متوازن سیاسی ثقافت سیکھ سکتی ہے۔

ہمیں یہ فرق بھی واضح کرنا ہوگا کہ سخت تنقید اور بدتمیزی ایک چیز نہیں۔ کسی حکومت کی پالیسی کو ناکام کہنا سیاسی حق ہے۔ کسی فیصلے کے خلاف سخت سوال اٹھانا صحافت کا تقاضا ہے۔ کسی سیاسی رہنما کے دعوے کو غلط ثابت کرنا جمہوری عمل ہے۔ لیکن کسی کی تذلیل کرنا، اس کے خاندان کو نشانہ بنانا، جھوٹا الزام لگانا یا مخالف کو انسان کی حیثیت سے کمتر سمجھنا اختلاف نہیں، سیاسی اور سماجی اخلاقیات کی شکست ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ ہم اختلاف کیسے کرتے ہیں؟

آخرکار سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں اختلاف کیوں ہے۔ اختلاف تو ہونا ہی چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اختلاف کیسے کرتے ہیں؟

کیا ہم دلیل سے جواب دیتے ہیں یا گالی سے؟ کیا ہم مخالف کے سوال کا جواب دیتے ہیں یا اس کی نیت پر حملہ کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنے پسندیدہ سیاسی رہنما سے بھی سوال کرنے کی ہمت رکھتے ہیں؟ کیا ہم اپنی غلطی تسلیم کر سکتے ہیں؟ اور کیا ہم ایسے شخص کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں جس کی سیاسی رائے ہم سے مختلف ہے؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو مسئلہ صرف سیاست کا نہیں، ہماری اجتماعی تربیت کا بھی ہے۔

پاکستان کو آج شاید کسی نئے سیاسی نعرے سے زیادہ نئے سیاسی مکالمے کی ضرورت ہے۔ ایسا مکالمہ جس میں سخت سوال ہو مگر بدتمیزی نہ ہو، شدید اختلاف ہو مگر دشمنی نہ ہو، تنقید ہو مگر کردار کشی نہ ہو، سیاسی مقابلہ ہو مگر قومی تقسیم نہ ہو۔

دنیا کے تجربات ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ سیاسی تقسیم کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کا حل اختلاف ختم کر دینا ہو۔ حل یہ ہے کہ معاشرہ اختلاف کو برداشت کرنا سیکھے، ادارے غیر جانبدار رہیں، ذرائع ابلاغ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، سیاسی قیادت اپنے کارکنوں کے لیے بہتر مثال قائم کرے اور شہری معلومات کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تصدیق کریں۔

جمہوریت کی خوبصورتی اس بات میں نہیں کہ سب لوگ ایک جیسا سوچیں۔ اس کی اصل خوبصورتی یہ ہے کہ مختلف سوچ رکھنے والے لوگ ایک ہی معاشرے میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کے اختلاف کو برداشت کر سکیں۔

ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اختلافِ رائے کو اپنی جمہوری طاقت بنائیں گے یا اسے دشمنی میں تبدیل کرکے اپنی اجتماعی قوت کو کمزور کرتے رہیں گے۔ کیونکہ جب مکالمہ ختم ہوتا ہے تو اختلاف دشمنی بن جاتا ہے، اور جب اختلاف دشمنی بن جائے تو معاشرہ دلیل سے نہیں، جذبات سے چلنے لگتا ہے۔

اور شاید آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت اسی بات کی ہے کہ ہم دوبارہ ایک دوسرے سے بات کرنا سیکھیں اور اس سے بھی زیادہ اہم، ایک دوسرے کو سننا سیکھیں۔

“اختلافِ رائے معاشرے کی خوبصورتی ہے، دشمنی اس کی کمزوری۔ دلیل وہ راستہ ہے جو دلوں اور ذہنوں کو قریب لاتی ہے، جبکہ گالی اور الزام فاصلے بڑھاتے ہیں۔ ہمیں اپنے مخالف کو شکست دینے سے پہلے اسے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ ہر اختلاف غداری نہیں اور ہر مخالف دشمن نہیں ہوتا۔ جمہوریت میں نظریات ٹکراتے ہیں، انسان نہیں۔ سیاست میں مقابلہ ہونا چاہیے، نفرت نہیں؛ سوال ہونا چاہیے، تضحیک نہیں؛ اور اختلاف ہونا چاہیے، مگر احترام کے ساتھ۔ کیونکہ جس معاشرے میں مکالمہ زندہ رہتا ہے، وہاں امید بھی زندہ رہتی ہے۔”