ارسطو سے منسوب یہ قول کہ ’’اپنے آپ کو جان لینا تمام حکمت کی ابتدا ہے‘‘ دراصل انسانی تہذیب کے سب سے قدیم اور گہرے سوال کی طرف اشارہ ہے: میں کون ہوں؟ انسان نے ستاروں کا حساب کیا، سمندروں کی تہہ میں اترا، ایٹم کو توڑا، مصنوعی ذہانت بنا لی، مگر اپنے باطن کی تاریکی آج بھی اس کے لیے ایک پراسرار براعظم ہے۔

انسانی تاریخ کو اگر ایک فلسفیانہ آئینے میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری بیشتر جنگیں باہر سے پہلے اندر لڑی گئی ہیں۔ سقراط نے ’’اپنے آپ کو جاننے‘‘ کو زندگی کی بنیاد بنایا، افلاطون نے انسان کے باطن کو خواہش، عقل اور جذبے کی کشمکش سمجھا، ارسطو نے کردار کو عادتوں کا نتیجہ قرار دیا، بدھا نے دکھ کی جڑ انسانی خواہش میں تلاش کی، ابنِ خلدون نے فرد اور اجتماعی عصبیت کے تعلق کو سمجھا، جبکہ نطشے نے انسان کو اپنے اندر موجود خوف، خواہش اور طاقت کے تضاد سے مقابلہ کرنے پر مجبور کیا۔ سارتر نے انسان کو اپنی آزادی اور انتخاب کا ذمہ دار ٹھہرایا، کامیو نے ایک بے معنی دنیا میں معنی پیدا کرنے کا سوال اٹھایا، اور فرائیڈ نے انسانی شعور کے نیچے چھپے ہوئے لاشعور کا دروازہ کھولا۔

تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ انسان نے دوسروں کو فتح کرنے کے لیے بے شمار سلطنتیں قائم کیں، مگر اپنے نفس کو فتح نہ کر سکا۔ روم نے دنیا فتح کی مگر اپنے اندر سے زوال پذیر ہوا؛ عظیم سلطنتیں طاقت کے نشے میں اندھی ہوئیں؛ بادشاہوں نے خود کو امر سمجھا، مگر وقت نے ان کے نام بھی مٹی میں ملا دیے۔ انسانی تاریخ دراصل انسان کے علم اور جہالت کے درمیان ایک مسلسل جنگ ہے۔ وہ جتنا باہر کی دنیا کو سمجھتا گیا، اتنا ہی یہ حقیقت سامنے آتی گئی کہ سب سے مشکل سرزمین خود انسان کا وجود ہے۔

نفسیات بھی یہی بتاتی ہے کہ انسان اکثر حقیقت سے زیادہ اپنے بارے میں بنائے ہوئے تصور کا دفاع کرتا ہے۔ وہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے دلیل تراشتا ہے، اپنی کمزوری چھپانے کے لیے دوسروں کو الزام دیتا ہے، اپنے خوف کو غصے میں بدل دیتا ہے اور اپنی شکست کو نظریے کا نام دے دیتا ہے۔ جو شخص خود کو نہیں جانتا، وہ اپنے فیصلوں کو شعوری سمجھتا ضرور ہے، مگر اکثر وہ اپنے ماضی، خوف، محرومی، خواہش، انا اور تعصبات کا قیدی ہوتا ہے۔ اسی لیے خود شناسی محض فلسفیانہ مشغلہ نہیں؛ یہ انسانی آزادی کی پہلی شرط ہے۔

پاکستانی سماج کے تناظر میں یہ سوال اور بھی زیادہ تلخ ہو جاتا ہے۔ ہم نے ملک بنایا، ریاست بنائی، ادارے بنائے، آئین لکھے، انتخابات کرائے، حکومتیں بدلیں، مگر شاید ہم نے کبھی اجتماعی طور پر یہ سوال نہیں پوچھا کہ ہم بحیثیت پاکستانی سماج ہیں کیا؟ ہماری سیاسی گفتگو میں اصول سے زیادہ شخصیات، دلیل سے زیادہ وابستگی، قانون سے زیادہ طاقت، اور کردار سے زیادہ مفاد غالب دکھائی دیتا ہے۔

پاکستانی انسان اکثر اپنی محرومی کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دیتا ہے، مگر اپنے اجتماعی رویوں کا احتساب کرنے سے گریز کرتا ہے۔ سیاست دان عوام کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں، عوام سیاست دانوں کو؛ ادارے سیاست کو، سیاست اداروں کو؛ طاقتور کمزور کو اور کمزور اپنی بے بسی کو قسمت کا نام دے دیتا ہے۔ یوں پورا معاشرہ ذمہ داری کو ایک دوسرے کی طرف منتقل کرتا رہتا ہے۔ ہم کرپشن کی مذمت کرتے ہیں مگر چھوٹے فائدے کے لیے اصول توڑ دیتے ہیں؛ ناانصافی پر احتجاج کرتے ہیں مگر اپنے مفاد میں ہونے والی ناانصافی پر خاموش رہتے ہیں؛ میرٹ کا مطالبہ کرتے ہیں مگر اپنے عزیز کے لیے میرٹ بدلنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ارسطو کا جملہ ہمارے سامنے ایک آئینہ بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ پاکستان کا بحران صرف معیشت، سیاست یا اداروں کا بحران نہیں؛ یہ خود شناسی کے فقدان کا بحران بھی ہے۔ جس معاشرے کو اپنی بیماری کا شعور نہ ہو، وہ علاج کے بجائے بیماری کو اپنا مقدر سمجھ لیتا ہے۔

ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا: ہم انصاف چاہتے ہیں یا صرف اپنے حق میں فیصلہ؟ ہمیں آزادی چاہیے یا صرف اپنی مرضی؟ ہمیں جمہوریت چاہیے یا اپنی پسندیدہ جماعت کی حکومت؟ ہمیں قانون کی حکمرانی چاہیے یا قانون سے اپنے لیے استثنا؟

قومیں صرف سڑکوں، عمارتوں اور معیشت سے عظیم نہیں بنتیں؛ وہ اپنے اجتماعی کردار سے عظیم بنتی ہیں۔ جس دن پاکستانی انسان نے دوسروں کا احتساب کرنے سے پہلے خود کو کٹہرے میں کھڑا کرنا سیکھ لیا، شاید اسی دن ہماری تاریخ کا رخ بدلنے لگے۔

کیونکہ دنیا کو فتح کرنے سے پہلے اپنے خوف، اپنی انا، اپنے تعصبات اور اپنی منافقت کو فتح کرنا ضروری ہے۔ ارسطو کا سوال آج بھی وہیں کھڑا ہے: اگر انسان خود کو نہیں جانتا تو وہ آخر دنیا میں جانتا کیا ہے؟