کراچی، 17 اگست 2026: سابق وفاقی وزیر اور سینئر سیاست دان اسد عمر نے ملکی سیاسی نظام، حکومت کی کارکردگی، نئے صوبوں کے قیام اور مقامی حکومتوں کے اختیارات سمیت کراچی کے مسائل پر کھل کر اظہارِ خیال کیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ زندگی میں ایسا دن آئے گا جب وہ کہیں گے کہ محسن نقوی کی باتوں سے مکمل اتفاق ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام بیٹھ چکا ہے اور جب نظام سے عوام کا اعتماد اٹھ جائے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ نظام زمیں بوس ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ اقتدار میں شامل دونوں خاندان عوام کے فیصلے کی بنیاد پر اقتدار میں نہیں آئے۔
پی ٹی آئی کی حکومتی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ بالخصوص پنجاب کے عوام پارٹی کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے، جس کے نتیجے میں پارٹی ضمنی انتخابات اور خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں پشاور تک میں شکست سے دوچار ہوئی۔
نئے صوبوں کی حمایت
اسد عمر نے ملک میں مزید صوبے بنانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ آئین میں نئے صوبوں کے قیام اور اس کے طریقہ کار کا واضح ذکر موجود ہے۔ جنوبی پنجاب اور ہزارہ صوبے کی قراردادیں بھی منظور ہو چکی ہیں، لہٰذا جہاں اتفاقِ رائے موجود ہے، وہیں سے نئے صوبوں کے قیام کا عمل شروع ہونا چاہیے۔
بلدیاتی نظام میں آئینی اصلاحات کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ اس وقت اختیارات اور وسائل صوبائی حکومتوں نے اپنے کنٹرول میں لے رکھے ہیں، جبکہ سندھ میں مقامی حکومتوں کے پاس موجود محدود اختیارات بھی صوبائی حکومت نے واپس لے لیے ہیں۔
اسد عمر کے مطابق اصل ضرورت بلدیاتی آئینی ترمیم کی ہے تاکہ مقامی حکومتوں کے اختیارات کو آئین میں تحفظ حاصل ہو۔ آئین میں یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ مقامی حکومتیں کون سے ٹیکس وصول کر سکیں گی۔
انہوں نے تجویز دی کہ قومی مالیاتی کمیشن میں صرف وفاق اور صوبوں کا حصہ طے کرنے کے بجائے مقامی حکومتوں کے لیے بھی براہِ راست فنڈز مختص کیے جائیں۔
وزرائے اعلیٰ کو ’’بادشاہ سلامت‘‘ قرار دے دیا
سابق وفاقی وزیر نے صوبائی حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی صوبے کا وزیراعلیٰ اختیارات اور وسائل چھوڑنے کو تیار نہیں۔ ان کے بقول یہ لوگ سیاسی لیڈر نہیں بلکہ ’’بادشاہ سلامت‘‘ ہیں، جو سمجھتے ہیں کہ ہر کام کے لیے ان کے پاس آنا چاہیے، اسی لیے نچلی سطح تک اختیارات منتقل نہیں کیے جاتے۔
انہوں نے موجودہ نظام کو ’’ہوا میں معلق جمہوریت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک مقامی حکومتوں کو بااختیار نہیں بنایا جاتا، اگلے 50 سال میں بھی کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔
کراچی کے مسائل پر سخت مؤقف
کراچی کے حوالے سے اسد عمر نے کہا کہ شہر کے مسائل کا حل مقامی حکومت کو بااختیار بنانے میں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی کا پانی کا منصوبہ کے فور 2023 میں مکمل ہونا تھا، لیکن موجودہ رفتار سے فنڈز ملنے کی صورت میں یہ منصوبہ 2029 تک بھی مکمل نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے تمام وسائل وزیراعلیٰ اور ایک پارٹی کے چیئرمین کے پاس ہیں، جبکہ مرتضیٰ وہاب کے پاس نہ وسائل ہیں اور نہ ہی اختیارات، تو وہ شہر کیسے چلا سکتے ہیں۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ ایک ہزار میل دور اسلام آباد میں بیٹھی حکومت کو کراچی کا درد نہیں، کراچی کے مسائل حل کرنے کے لیے اسلام آباد یا راولپنڈی کے بجائے خود کراچی کو بااختیار بنانا ہوگا




