امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جبکہ دنیا بھر کی بڑی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی خطرات نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا ہے، جس کے باعث توانائی کی قیمتوں میں تیزی اور مالیاتی منڈیوں میں دباؤ بڑھ رہا ہے۔

جمعے کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت 3.10 ڈالر (3.68 فیصد) اضافے کے بعد 87.33 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 3.14 ڈالر (3.98 فیصد) اضافے کے ساتھ 82.09 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ اسی طرح مربان خام تیل 80.77 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی مڈلینڈ 81.81 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔

توانائی کی دیگر مصنوعات بھی مہنگی ہو گئیں۔ امریکی گیسولین فیوچرز میں 3.86 فیصد، ڈچ ٹی ٹی ایف نیچرل گیس میں 3.41 فیصد، امریکی نیچرل گیس میں 1.01 فیصد جبکہ جاپان-کوریا ایل این جی بینچ مارک میں 0.92 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق قیمتوں میں یہ تیزی اس خدشے کے باعث سامنے آئی ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھی تو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جہاں سے دنیا کی خام تیل کی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد سرمایہ کاروں نے حصص کی مارکیٹ سے سرمایہ نکال کر نسبتاً محفوظ اثاثوں کا رخ کیا، جس کے باعث امریکا میں ایس اینڈ پی 500، ناسڈیک اور ڈاؤ جونز سمیت اہم اسٹاک انڈیکسز منفی زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔ تاہم توانائی کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں کے حصص میں اضافہ دیکھنے میں آیا کیونکہ خام تیل مہنگا ہونے سے ان کی آمدنی بڑھنے کی توقعات مضبوط ہوئیں۔

یورپ میں جرمنی کے ڈیکس اور فرانس کے کیک 40 انڈیکس میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 100 نسبتاً بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہا، جسے شیل اور بی پی جیسی بڑی تیل کمپنیوں کے حصص میں اضافے سے سہارا ملا۔

ایشیائی مارکیٹوں میں بھی جاپان کے نکی 225، جنوبی کوریا کے کوسپی اور چین کے بڑے اسٹاک انڈیکسز دباؤ کا شکار رہے۔ ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جبکہ بھارت میں بھی سرمایہ کار مہنگائی، درآمدی بل میں اضافے اور مانیٹری پالیسی پر ممکنہ اثرات کے باعث محتاط دکھائی دیے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی فروخت کا دباؤ دیکھنے میں آیا کیونکہ سرمایہ کار تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ملکی معیشت پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیتے رہے۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے خام تیل کی قیمت اگر 90 ڈالر فی بیرل کے قریب برقرار رہی تو درآمدی بل، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ روپے کی قدر اور حکومتی مالیات پر بھی دباؤ بڑھے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال اس وقت تک برقرار رہ سکتی ہے جب تک یہ واضح نہ ہو جائے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی محدود رہتی ہے یا وسیع تر علاقائی تنازع کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے اور عالمی معیشت پر منفی اثرات کا باعث بن سکتی ہے۔