ممبئی: بالی وڈ کے معروف اداکار عامر خان نے جان سے مارنے کی دھمکیوں کے بعد اپنی تیسری اہلیہ گوری اسپرٹ کے مذہب سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہندو نہیں بلکہ عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مہاراشٹرا کے وزیر نتیش رانے نے عامر خان کی شادیوں کے تناظر میں انہیں ’’لو جہاد کا برانڈ ایمبیسیڈر‘‘ قرار دیا تھا۔ بعد ازاں ایک ہندو انتہا پسند رہنما جگد گرو پرمہنس آچاریہ نے اس بیان کی حمایت کرتے ہوئے عامر خان پر سنگین الزامات عائد کیے اور ان کے خلاف سخت بیانات دیے۔

رپورٹس کے مطابق دھمکیوں کے بعد ایک حالیہ انٹرویو میں عامر خان نے کہا کہ ان کی تیسری اہلیہ گوری اسپرٹ نے شادی کے بعد اپنا مذہب تبدیل نہیں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی پہلی اہلیہ رینا دتہ اور دوسری اہلیہ کرن راؤ نے بھی شادی کے بعد مذہب تبدیل نہیں کیا تھا کیونکہ ان کی تمام شادیاں سول میرجز کے تحت ہوئیں۔

عامر خان نے کہا کہ ان کا خاندان مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگوں کو قبول کرنے والا خاندان ہے۔ ان کے مطابق ان کی دونوں بہنوں کی شادیاں ہندو خاندانوں میں ہوئیں، جبکہ ان کے کزن منصور خان نے ایک عیسائی خاتون سے شادی کی اور ان کی بیٹی نے بھی ایک ہندو شخص کو شریکِ حیات منتخب کیا۔

واضح رہے کہ عامر خان نے رینا دتہ سے 1986 میں شادی کی تھی جو 2002 میں ختم ہوگئی، جبکہ کرن راؤ سے 2005 میں ہونے والی شادی 2021 میں اختتام پذیر ہوئی۔ حال ہی میں اداکار نے گوری اسپرٹ سے شادی کی ہے۔