بیجنگ: چین نے امریکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے اور ڈیٹا سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سرکاری اداروں کے کمپیوٹرز سے مائیکروسافٹ ونڈوز ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چین کی وزارتِ ریاستی سلامتی نے بعض سرکاری اداروں کو ونڈوز سافٹ ویئر کمپیوٹرز سے ہٹانے کی ہدایت کی ہے، جبکہ اس کے متبادل کے طور پر مقامی کمپنیوں کے تیار کردہ لینکس پر مبنی آپریٹنگ سسٹمز استعمال کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
چینی حکام کے اس اقدام کی بنیادی وجہ ڈیٹا سیکیورٹی سے متعلق خدشات بتائی گئی ہے، تاہم کسی مخصوص سیکیورٹی خامی کی نشاندہی نہیں کی گئی۔
چین میں کائلن سافٹ ویئر اور ٹونگ شن سافٹ ویئر ٹیکنالوجی سمیت کئی مقامی کمپنیاں ونڈوز کے متبادل آپریٹنگ سسٹم تیار کر رہی ہیں۔ کائلن او ایس لینکس پر مبنی ہے، جبکہ ٹونگ شن کا یونٹی او ایس بھی لینکس کے ڈیبین سسٹم پر تیار کیا گیا ہے۔
مائیکروسافٹ کے ترجمان کے مطابق کمپنی کو اس مخصوص پراڈکٹ سے متعلق کسی سیکیورٹی واقعے کا علم نہیں اور اسے معمول کے مطابق سیکیورٹی اپ ڈیٹس فراہم کی جا رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق چین میں حساس سرکاری شعبوں سے غیر ملکی ٹیکنالوجی کو ہٹانے کی کوشش کئی برس سے جاری ہے۔ حکومت پہلے ہی مقامی کمپیوٹرز اور آپریٹنگ سسٹمز کے استعمال کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔
تاہم عام چینی صارفین میں ونڈوز اب بھی سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ڈیسک ٹاپ آپریٹنگ سسٹم ہے۔ جولائی 2026 کے اعداد و شمار کے مطابق چین میں ڈیسک ٹاپ ویب ٹریفک کا تقریباً 87.64 فیصد ونڈوز سے منسلک تھا۔
چین کا حالیہ فیصلہ بیجنگ کی حساس شعبوں میں امریکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے اور مقامی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کی پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔




