مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیل کے وزیر قومی سلامتی اور انتہائی دائیں بازو کے رہنما اتمار بن گویر نے غزہ میں روزانہ 30 سے 40 افراد کو نشانہ بنانے اور ہلاکتوں میں اضافے کی وکالت کردی۔

امریکی خبر ایجنسی کے مطابق اتمار بن گویر نے یہ بیان غزہ میں حماس کی قید سے رہا ہونے والے سابق اسرائیلی یرغمالی روم براسلاوسکی کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران دیا۔

بن گویر نے غزہ میں اسرائیلی حملوں میں کمی پر وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے اختلاف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں روزانہ 30 سے 40 افراد کو نشانہ بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی صرف ان افراد تک محدود نہیں ہونی چاہیے جو فوری خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔

اسرائیلی وزیر کے ماضی میں بھی غزہ کے حوالے سے سخت بیانات سامنے آچکے ہیں، جن پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی گئی۔ ان کے بعض بیانات کو عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے مبینہ ارادے کے شواہد کے طور پر بھی پیش کیا جا چکا ہے، تاہم اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کی تردید کرتا ہے۔

اتمار بن گویر نے اسی گفتگو کے دوران غزہ سے فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر ہجرت اور بے دخلی کی حمایت بھی کی اور علاقے میں اسرائیلی آبادکاری کی بات کی۔

واضح رہے کہ بن گویر کو اسرائیلی فوج کو براہ راست احکامات دینے کا اختیار حاصل نہیں، تاہم وہ اسرائیلی پولیس اور جیلوں کے نگران وزیر ہیں اور وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت میں انتہائی دائیں بازو کے بااثر رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔

امریکی خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیل میں اکتوبر میں انتخابات متوقع ہیں، جبکہ حالیہ عرصے میں بن گویر جیسے انتہائی دائیں بازو کے رہنماؤں کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔