نئی دہلی: بھارت کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر کئی ہفتوں سے جاری ملک گیر احتجاج کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جسے وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے مظاہرین کے سامنے پہلی بڑی پسپائی قرار دیا جا رہا ہے۔
دھرمیندر پردھان نے ہفتہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر اپنا استعفیٰ وزیرِاعظم نریندر مودی کو ارسال کر دیا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ نئی دہلی کے جنتر منتر سمیت ملک بھر میں جاری احتجاج سے "ملک دشمن عناصر" فائدہ اٹھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک کے نوجوانوں کی خواہشات، جذبات اور جائز توقعات کا احترام کرتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ طلبہ اپنی تعلیم اور مستقبل کے بجائے قانونی پیچیدگیوں میں الجھ جائیں۔
دوسری جانب احتجاج کی قیادت کرنے والی طنزیہ سیاسی تحریک "کاکروچ جنتا پارٹی (CJP)" کے کارکنوں نے استعفے کے بعد نئی دہلی کے جنتر منتر اور ملک کے دیگر شہروں میں جشن منایا۔ تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "ہم کامیاب ہو گئے، یہ جمہوریت کی فتح ہے۔"
تحریک نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ "کاکروچ جیت گئے، جمہوریت جیت گئی۔" تاہم تنظیم نے واضح کیا کہ اس کے مزید تین مطالبات اب بھی باقی ہیں، جن میں امتحانی اسکینڈل سے متعلق خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہلِ خانہ کو ایک کروڑ بھارتی روپے معاوضہ، احتجاج میں شریک افراد کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی، اور دہلی پولیس و ریپڈ ایکشن فورس کی جانب سے مظاہرین پر مبینہ تشدد پر عوامی معافی شامل ہیں۔
وزیرِ تعلیم کے استعفے سے چند گھنٹے قبل نئی دہلی میں پولیس نے احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا، جبکہ جنتر منتر کے اطراف انٹرنیٹ سروس محدود اور 18 میٹرو اسٹیشنز بند کر دیے گئے تھے۔
گزشتہ پیر پولیس کی لاٹھی چارج، آنسو گیس اور مبینہ طور پر پیلٹ گن کے استعمال کے بعد احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا تھا، جس میں متعدد طلبہ زخمی ہوئے۔
مودی حکومت اس سے قبل امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے مقدمات کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام اور امتحانی نظام میں نقل، بدعنوانی اور پرچہ لیک کے خلاف سخت قانون سازی کا اعلان بھی کر چکی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ احتجاج حالیہ برسوں میں مودی حکومت کے خلاف عوامی ناراضی کی نمایاں مثال بن کر سامنے آیا، جس میں نوجوانوں نے بے روزگاری، بدعنوانی، امتحانی نظام کی شفافیت اور حکومتی جوابدہی کے مطالبات کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔




