کراچی: میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے سامنے وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار پیش ہوئے اور غیر مشروط معافی مانگ لی۔

جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں ہونے والے کمیشن کے اجلاس کے دوران جسٹس عمر سیال نے کہا کہ میر رضا کے اہلخانہ کا اعتماد بہت کم ہے جبکہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے اپنے رویے سے ’’آگ پر پیٹرول چھڑکنے‘‘ کا کام کیا۔

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ کسی کو یہ تاثر ملے کہ سندھ حکومت تحقیقات نہیں چاہتی۔ حکومت شفاف کارروائی اور لواحقین کو انصاف کی فراہمی چاہتی ہے۔ کمیشن کا نتیجہ سامنے آنا ضروری ہے تاکہ حقائق واضح ہوں اور ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے۔

میر رضا کے والد کے وکیل جبران ناصر نے بزنس پارٹنر کو دوبارہ طلب کرنے کی استدعا کی۔ اجلاس میں شہریوں کی جانب سے میر رضا کے ڈیجیٹل اکاؤنٹس، ڈیجیٹل فٹ پرنٹس اور کلاؤڈ لاگ اِن سے متعلق معلومات بھی کمیشن کو فراہم کی گئیں۔

بعد ازاں جوڈیشل کمیشن نے میر رضا کا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ، ڈاکٹر سمیہ، ایس ایچ او عدیل افضال اور ہیڈ محرر ذیشان کو طلب کرلیا۔