اسلام آباد: پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث نے اہم رخ اختیار کر لیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق بااثر حلقے ملک کے موجودہ انتظامی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے حامی ہیں، تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ تجویز وفاقی کابینہ کے سامنے غور یا منظوری کے لیے پیش نہیں کی گئی۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے حال ہی میں ملک میں 12 سے 15 نئے صوبے بنانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ تقریباً 26 کروڑ آبادی کے لیے موجودہ چار صوبوں پر مشتمل انتظامی نظام کافی نہیں رہا۔ ان کے مطابق اصولی طور پر چاروں صوبوں کو تین تین چھوٹے صوبوں میں تقسیم کرنے کے امکان پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے ناگزیر ہوگا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ عوام کو بہتر خدمات، مؤثر احتساب اور انصاف تک آسان رسائی فراہم کرنے کے لیے موجودہ نظامِ حکمرانی میں بنیادی اصلاحات ضروری ہیں۔

دوسری جانب سندھ میں اس تجویز کی شدید سیاسی مخالفت سامنے آئی ہے۔ سندھ اسمبلی نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی مخالفت کر چکی ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ سندھ کی تقسیم کی کسی بھی کوشش کی مزاحمت کی جائے گی۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی بحث میں حصہ لیتے ہوئے ملک کے موجودہ 36 ڈویژنز کو ممکنہ نئے انتظامی نظام کی بنیاد بنانے کی تجویز دی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس وقت نئے صوبوں کی تعداد یا حدود طے کرنے کے بجائے سیاسی اور ادارہ جاتی اتفاقِ رائے پیدا کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ مختلف آپشنز میں نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ موجودہ صوبائی حدود برقرار رکھتے ہوئے ضلعی حکومتوں کو زیادہ بااختیار بنانے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔

تاہم نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئینی ترامیم، متعلقہ صوبائی اسمبلیوں اور پارلیمنٹ کی منظوری سمیت وسیع سیاسی اتفاقِ رائے درکار ہوگا۔ فی الحال معاملہ سیاسی طور پر اہم مگر ادارہ جاتی سطح پر ابتدائی مرحلے میں ہے۔