(کراچی مانیٹرنگ ڈیسک)ایکس پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی دو رخی پالیسی کے پیچھے انہیں کچھ اور دکھائی دیتا ہے۔ 18ویں ترمیم کے ذریعے اختیارات کی منتقلی طے ہوئی، مگر اس پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوسکا۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام اختیارات کے ارتکاز کے باعث متروک ہوچکا ہے، صوبے یا انتظامی یونٹس کو کوئی بھی نام دیا جائے، اختیارات کی حقیقی منتقلی ناگزیر ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مسلم لیگ ن سمجھتی ہے کہ اس وقت نئے صوبوں کے معاملے پر بات قبل از وقت ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے سندھ اسمبلی میں ہونے والی تقاریر کو غیر ضروری قرار دیا اور کہا کہ صوبوں کے معاملے پر پیدا کی گئی حدت اور شدت بلاوجہ تھی۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی سیاست میں رہنے کے لیے یہ سب کچھ کررہی ہے، تاہم سندھ کی تقسیم پیپلزپارٹی کی سیاست کے لیے ایک انتہائی اہم معاملہ ہے۔




