لاہور: پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے دھرنے ختم کروانے کے لیے حکومتی وفد نے وفاقی وزیر احسن اقبال کی سربراہی میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کی، جس کے بعد حکومت اور جماعت اسلامی نے مذاکرات کے لیے اپنی اپنی ٹیمیں تشکیل دے دیں۔

حکومتی وفد میں احسن اقبال، رانا ثنا اللہ اور خواجہ سلمان رفیق شامل تھے، جبکہ جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کریں گے۔

احسن اقبال نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ عوام کو ریلیف ملے، جماعت اسلامی ایسی قابلِ عمل تجاویز دے جن سے پیٹرول کی قیمتوں کا بوجھ کم کیا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں داخلی امن برقرار رکھنا سب کی ذمہ داری ہے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمان کے پاس عوام کو ریلیف دینے سے متعلق تجاویز ہیں اور حکومت قابلِ عمل تجاویز پر عمل درآمد کرے گی۔

دوسری جانب حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ مذاکرات کے ساتھ جماعت اسلامی کے دھرنے بھی جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 19 روز سے ملک کے 30 مقامات پر دھرنے جاری ہیں اور جماعت اسلامی کو دھرنوں کا کوئی شوق نہیں، بلکہ عوام کو درپیش مسائل کے باعث احتجاج کیا جا رہا ہے۔

حافظ نعیم نے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم لیوی ختم اور پیٹرول کی قیمت کم کی جائے۔ ان کے دیگر مطالبات میں آئی پی پیز کے معاملات، بجلی اور روٹی کی قیمتوں میں کمی بھی شامل ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ پیٹرولیم لیوی سے اب تک 8 ہزار ارب روپے جمع ہوچکے ہیں، جبکہ اس سال حکومت نے لیوی کی مد میں مقررہ ہدف سے بھی زیادہ رقم جمع کی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک بھر میں دھرنے جاری رہیں گے اور حکومت کے ساتھ مذاکرات بھی ساتھ ساتھ چلتے رہیں گے۔