کراچی: سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں سے متعلق پیپلز پارٹی کی تحریکِ التوا پر گرما گرم بحث ہوئی۔ پیپلز پارٹی کے رکن امداد پتافی نے کہا کہ پیپلز پارٹی سندھ کے ٹکڑے نہیں ہونے دے گی اور کسی بھی قسم کی تقسیم کی کوشش قبول نہیں کی جائے گی۔
امداد پتافی کا کہنا تھا کہ “جس کو گھر میں روٹی نہیں ملتی، اس کو سندھ الگ چاہیے”، ہم عزت سے مر جائیں گے مگر سندھ دھرتی کے ٹکڑے نہیں ہونے دیں گے۔
دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ سندھ توڑنے کی بات نہیں کر رہے بلکہ انتظامی امور اور وسائل کی تقسیم میں بہتری چاہتے ہیں۔ جمال احمد نے مطالبہ کیا کہ کراچی کو بھی آبادی کے تناسب سے وسائل اور نمائندگی کا حق ملنا چاہیے۔
جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر حکومتی بینچوں سے ہوئیں، تاہم اپوزیشن کی جانب سے ایسے بیانات کا جواب نہ دینا قابلِ تحسین ہے۔




