کراچی: سندھ کابینہ نے صوبے میں کچے کی زمینوں کے جامع سروے اور نقشہ سازی کے منصوبے کی منظوری دے دی، جس کیلئے 70 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

صوبائی کابینہ کے اجلاس میں ’’سروے آف کچا لینڈ اِن سندھ‘‘ منصوبے کی منظوری دی گئی۔ منصوبہ سروے آف پاکستان کے ذریعے جی ٹو جی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا اور اسے تقریباً ساڑھے 15 ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق سروے کے پہلے مرحلے میں کچے کی زمینوں کی حدود اور رقبے کا تعین کیا جائے گا، جبکہ سیٹلائٹ تصاویر، میپنگ، جیوڈیٹک کنٹرول، زمین کے استعمال کی جیو ٹیگنگ اور حدود کی نشاندہی کی جائے گی۔

منصوبے کے تحت زمینوں کی ملکیت اور استعمال سے متعلق ڈیٹا بھی جمع کیا جائے گا، جبکہ سروے مکمل ہونے کے بعد حتمی نقشے اور جامع سروے رپورٹس تیار کی جائیں گی۔

کچے کی زمینوں کا سروے حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور شہید بینظیرآباد ڈویژنز میں کیا جائے گا، جہاں مجموعی طور پر 613 دیہہ اس منصوبے میں شامل ہوں گے۔

سندھ کابینہ کو بتایا گیا کہ صوبے میں کچے کی زمین کا مجموعی رقبہ تقریباً 16 لاکھ 10 ہزار ایکڑ ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ کچے کی زمینوں کی جامع میپنگ سے زمینوں کے بہتر انتظام اور ریونیو مینجمنٹ کے ساتھ ماحولیاتی تحفظ کو بھی فروغ ملے گا۔