اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں سب سے زیادہ بلیو (آفیشل) پاسپورٹ بیوروکریٹس کے پاس ہیں۔

سینیٹ میں پاسپورٹ کے مراعاتی قانون اور اجرا سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت نے واضح کیا کہ بلیو اور ڈگری پاسپورٹ کے بے جا اجرا سے ملکی پاسپورٹ کی بین الاقوامی رینکنگ متاثر ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاسپورٹ کے اجرا کے طریقہ کار میں شفافیت اور ضوابط کی سخت پابندی وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ کسی بھی قسم کے غلط استعمال کا سدباب کیا جا سکے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ نے زور دیا کہ پاسپورٹ کے نظام میں شفافیت اور قواعد و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد کے ذریعے پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی کریڈیبلٹی کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔