کراچی: پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو (PPHI) سندھ میں مبینہ غیرقانونی تقرریوں کا معاملہ سامنے آگیا، جس پر چیف آپریٹنگ آفیسر ریاض حسین راہوجو کی تقرری کے خلاف عدالت سے رجوع کرلیا گیا۔

ذرائع کے مطابق پی پی ایچ آئی سندھ کے ڈائریکٹر اسرار احمد کی جانب سے دائر درخواست میں ریاض حسین راہوجو کی تعلیمی و پیشہ ورانہ اہلیت، سروس ریکارڈ اور مبینہ طور پر سی ایس ایس افسر ہونے کے دعوے پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ریاض حسین راہوجو مبینہ طور پر ڈسٹرکٹ مینیجر سے چیف آپریٹنگ آفیسر کے عہدے تک پہنچے، جبکہ ان کی تقرری اور مسلسل کنٹریکٹ رینیول میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی اور مبینہ بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

درخواست کے مطابق چیف آپریٹنگ آفیسر کی بھرتی کے عمل میں مبینہ طور پر صرف ایک امیدوار کو شارٹ لسٹ کرکے منتخب کیا گیا، جبکہ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ریاض حسین راہوجو مذکورہ عہدے کے لیے مبینہ طور پر اہل نہیں تھے۔

عدالت نے ریاض حسین راہوجو کی سی ایس ایس حیثیت اور سروس ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے فریقین کو 31 اگست 2026 کو صبح 8:30 بجے پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔

درخواست میں مبینہ غیرقانونی تنخواہوں اور مراعات کی تحقیقات، ناجائز طور پر حاصل کیے گئے فوائد کی واپسی، مبینہ جعلی دستاویزات اور غلط معلومات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کے ساتھ ساتھ مبینہ غیرقانونی تقرری میں سہولت کاری کرنے والے افراد کے خلاف بھی کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔