تل ابیب: اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مسجد اقصیٰ کے اندر یہودیوں کو مذہبی عبادت کی باضابطہ اجازت دے دی ہے، جسے موجودہ انتظامی حیثیت (اسٹیٹس کو) میں اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے والے آبادکاروں کو یہودی دعاؤں کی کتابیں اندر لے جانے اور اجتماعی عبادت کرنے کی اجازت دی۔
یروشلم اسلامی وقف کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی اس نوعیت کی سرگرمیاں ہوتی رہی ہیں، تاہم زیادہ تر یہ سرکاری اجازت کے بغیر کی جاتی تھیں۔ اب باضابطہ اجازت ملنا ایک اہم اور تشویشناک تبدیلی ہے۔
وقف کے مطابق مسجد اقصیٰ میں بطور زائر داخل ہونا اور وہاں باقاعدہ عبادت کرنا دو مختلف امور ہیں، جبکہ عبادت کی اجازت دینے سے اس مقام پر نئے قواعد کے قیام کا راستہ کھل سکتا ہے۔
مسجد اقصیٰ کے احاطے کو کئی دہائیوں سے قائم اسٹیٹس کو کے تحت اسلامی مقدس مقام تسلیم کیا جاتا ہے اور اس کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری یروشلم اسلامی وقف کے پاس ہے۔
1967 میں مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد سے اسرائیل پر مسجد اقصیٰ کی موجودہ انتظامی حیثیت کو بتدریج کمزور کرنے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ حالیہ اقدام کو اسی سلسلے کی تازہ پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔




