اسلام آباد: معروف تجزیہ کار عدنان عادل نے سرکاری اداروں کی مسلسل بدانتظامی اور نجکاری کے عمل پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اداروں کو پہلے غلط فیصلوں اور سیاسی بھرتیوں کے ذریعے جان بوجھ کر مالی خسارے میں دھکیلا جاتا ہے، جس کے بعد ان کی تباہی کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔

عدنان عادل کے مطابق قومی اداروں میں بدانتظامی کے باعث اربوں روپے کے نقصانات ہوتے ہیں، جن کا براہِ راست اثر عام شہری پر پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کے باعث ملکی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے اور حکومتی معاشی پالیسیوں پر عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ اداروں کو مفلوج کرنے کے بعد آخری مرحلے میں اربوں اور کھربوں روپے کے قیمتی قومی اثاثے من پسند افراد کو اونے پونے داموں فروخت کر دیے جاتے ہیں۔

ان کے مطابق اس عمل سے قومی خزانے کو بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے، جبکہ دوسری جانب عام شہری پر مہنگائی اور ٹیکسوں کا مزید بوجھ بڑھ جاتا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق قومی اداروں کی نجکاری اور معاشی فیصلوں میں شفافیت کو یقینی بنانا ضروری ہے، بصورت دیگر ان مسائل کا پائیدار حل ممکن نہیں ہوگا۔