امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان غزہ کے معاملے پر اختلافات مزید نمایاں ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
اگرچہ نیتن یاہو نے غزہ میں حماس کو غیر مسلح کرنے سے متعلق بورڈ آف پیس کے نئے منصوبے کو واضح طور پر مسترد کردیا ہے، تاہم امکان ہے کہ ان کا یہ مؤقف حتمی نہ ہو۔
رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس نیتن یاہو کے بیان سے زیادہ پریشان نہیں اور اسے اسرائیل میں ممکنہ سخت انتخابی مقابلے سے قبل انتخابی مہم کا حصہ سمجھتا ہے۔
اسرائیلی صحافی باراک راوِد نے ایک سینیئر امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ واشنگٹن نیتن یاہو کی سیاسی ضروریات کو سمجھتا ہے۔
امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا کو نیتن یاہو کے سیاسی مؤقف پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ وہ واشنگٹن کی ہدایات پر عمل کرتے رہیں، خصوصاً غزہ میں اسرائیلی حملوں کو محدود رکھنے کے حوالے سے۔
حالیہ دنوں میں غزہ پر اسرائیلی حملوں میں بظاہر کمی یا وقفہ دیکھا گیا ہے۔ یہ ان اہم مطالبات میں شامل تھا جن کی بنیاد پر حماس نے امریکا کی حمایت یافتہ 15 نکاتی روڈ میپ پر اتفاق کیا تھا۔
ایک اور اشارہ یہ بھی مل رہا ہے کہ اسرائیل ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہوسکتا ہے۔ اس سلسلے میں بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) کی تعیناتی کی تیاریاں جاری ہیں۔
مجوزہ فورس میں مختلف ممالک کے فوجی شامل ہوں گے، جو غزہ میں سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے ایک نئی فلسطینی پولیس فورس کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔
اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کان نیوز کے مطابق جنوبی غزہ میں رفح کے تباہ شدہ علاقے میں بین الاقوامی استحکام فورس کے پہلے اڈے کی تعمیر رواں ماہ کے آخر میں شروع ہونے کا امکان ہے۔
یہ پیش رفت بالآخر غزہ کی تعمیرِ نو کے عمل کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔




