واشنگٹن: ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے درمیان اختلافات کی خبریں سامنے آگئی ہیں۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ گولہ بارود کی شدید کمی پر صدر ٹرمپ نے کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے کابینہ اجلاس کے دوران وزیر دفاع سے سخت بازپرس کی۔
رپورٹ کے مطابق اجلاس سے باخبر دو ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹرمپ نے سوال اٹھایا کہ انہیں فوجی ذخائر کی حقیقی صورتحال سے کیوں لاعلم رکھا گیا، جبکہ ان کا خیال تھا کہ اسلحے کی قلت کا مسئلہ پہلے ہی حل ہو چکا ہے۔
اخبار کے مطابق طویل فاصلے تک مار کرنے والے گائیڈڈ میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام کے انٹرسیپٹرز کی کمی کے باعث ایران کے خلاف امریکہ کے فوجی آپشنز محدود ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے حالیہ دنوں میں بڑے حملوں سے گریز کیا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس کمی اور صدر کو مکمل بریفنگ نہ دینے کی ذمہ داری اپنے نائب اسٹیفن فینبرگ پر عائد کی۔ ذرائع کے مطابق اس واقعے نے صدر ٹرمپ کی وزیر دفاع سے بڑھتی ہوئی ناراضی کو مزید نمایاں کر دیا۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے ان تمام دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ یہ "100 فیصد جعلی خبر" ہے، ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور صدر ٹرمپ کو وزیر دفاع پر مکمل اعتماد حاصل ہے۔
ادھر پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے بھی واضح کیا کہ وزیر دفاع نے نہ تو کسی کو گمراہ کیا اور نہ ہی اپنے نائب کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان کے مطابق گولہ بارود کی کمی، اندرونی اختلافات اور ایران سے متعلق مؤقف کے حوالے سے کیے گئے تمام دعوے بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔




