کراچی: نوجوان تاجر میر رضا علی کی پراسرار موت کے کیس میں ایک نیا موڑ سامنے آ گیا ہے، جہاں ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دستیاب تصاویر میں مبینہ تضاد نے تحقیقات پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے نتائج اور تصاویر ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق تصاویر کچھ اور ظاہر کر رہی ہیں جبکہ رپورٹ میں مختلف نتائج درج ہیں، جس کی مکمل جانچ ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ میت کے جسم کے متعدد حصے سوجے ہوئے اور سیاہ دکھائی دے رہے ہیں، جن کا بغور معائنہ ہونا چاہیے تھا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہاں کسی قسم کی چوٹ کے نشانات موجود تھے یا نہیں۔

ڈاکٹر سمیعہ کے مطابق گولی کی سمت کے حوالے سے بھی تضاد سامنے آیا ہے، جبکہ جسم کے اوپری حصے پر ڈی کمپوزیشن زیادہ ہونے کے باعث متاثرہ حصوں کی مزید فرانزک جانچ ناگزیر ہے۔

دوسری جانب پولیس کو میر رضا علی کی ایپل واچ سے اہم ڈیجیٹل ڈیٹا بھی حاصل ہوا ہے، جس میں لین دین کی تفصیلات سمیت دیگر معلومات شامل ہیں، تاہم تفتیشی ٹیم اب تک ان کے آئی فون کا کوڈ کریک کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

ذرائع کے مطابق پولیس آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران اہم پریس کانفرنس کر سکتی ہے، جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کو گولی پیچھے سے لگی جو جسم سے آرپار ہو گئی تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ لاش برآمد ہونے کے وقت 24 سے 36 گھنٹے پرانی تھی اور جسم میں ڈی کمپوزیشن کے واضح آثار موجود تھے۔