اسکاٹسڈیل/امریکا: سندھی ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ (SANA) نے سندھ کی تقسیم اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق حالیہ بیانات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مسترد کر دیا ہے۔

سانا کے صدر ڈاکٹر مقبول ہالیپوتا، جنرل سیکریٹری اسد علی شیخ اور مجلسِ عاملہ کے اراکین کی جانب سے جاری مشترکہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ سندھ کی سلامتی، وحدت اور تاریخی شناخت پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ سندھ کے اندر کسی بھی قسم کی انتظامی تقسیم یا تاریخی سرحدوں میں تبدیلی کی تجویز ناقابلِ قبول ہے۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ سندھ ایک تاریخی وطن ہے، جہاں کی زبان، تہذیب، ثقافت اور علاقائی شناخت پاکستان کی وفاقی ہم آہنگی کی بنیاد ہیں، اس لیے ایسے بیانات عوامی اعتماد کو مجروح کرتے ہیں اور تقسیم پیدا کرنے والی سوچ کو فروغ دیتے ہیں۔

سانا نے تمام سیاسی جماعتوں، منتخب نمائندوں، رائے عامہ کے رہنماؤں اور سرکاری عہدیداروں سے اپیل کی کہ وہ سندھ کی علاقائی سالمیت کے حوالے سے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں اور ایسے بیانات سے گریز کریں جو صوبے میں بے چینی اور انتشار کا باعث بن سکتے ہیں۔

تنظیم نے اپنے بیان کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ سندھ کی وحدت، سلامتی، تاریخی شناخت اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے جمہوری اور آئینی طریقے سے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔