دنیا کے کئی ممالک، جیسے جنوبی سوڈان اور روانڈا، جہاں معیشت، بنیادی ڈھانچے اور غربت کے سنگین مسائل موجود ہیں، وہاں بھی تیل و گیس کے منصوبوں سمیت بڑے ترقیاتی معاہدوں میں واضح شرط رکھی جاتی ہے کہ متعلقہ کمپنیاں کم از کم 80 فیصد ملازمتیں مقامی شہریوں کو فراہم کریں گی۔
اس پالیسی کا مقصد صرف روزگار پیدا کرنا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا بھی ہے کہ قدرتی وسائل سے سب سے پہلے فائدہ انہی علاقوں کے لوگوں کو پہنچے جہاں سے یہ وسائل حاصل کیے جا رہے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں اس اصول پر سختی سے عمل درآمد کرایا جاتا ہے۔
اس کے برعکس، سندھ کی آئل اینڈ گیس فیلڈز میں ایسی کسی مؤثر پالیسی کا وجود نظر نہیں آتا۔ اگر کاغذی طور پر کوئی شرط موجود بھی ہو تو اس پر عملی عمل درآمد دکھائی نہیں دیتا۔ گhotکی، خیرپور، بدین، سانگھڑ، دادو، میہڑ اور سندھ کے دیگر وسائل سے مالا مال اضلاع کے مقامی باشندے آج بھی روزگار اور ترقی کے ان مواقع سے محروم ہیں جو ان کا بنیادی حق ہونا چاہیے۔
ایک اور اہم پہلو قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی رائلٹی اور اس کی منصفانہ تقسیم کا ہے۔ عوامی سطح پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ سندھ کے وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد اور رائلٹی کا مناسب حصہ مقامی آبادی تک نہیں پہنچ رہا، جبکہ اس حوالے سے شفافیت اور مؤثر نگرانی کی بھی ضرورت ہے۔
بدقسمتی سے کچھ عناصر معمولی مفادات اور مراعات کے عوض سندھ کے وسائل اور رائلٹی کے معاملات پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، جس کے باعث عام سندھی عوام کے حصے میں صرف محرومی اور افسوس ہی آتا ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ آئل و گیس کے تمام معاہدوں میں مقامی افراد کے لیے روزگار، وسائل میں منصفانہ حصہ اور رائلٹی کی شفاف تقسیم کو لازمی شرط بنایا جائے، تاکہ قدرتی وسائل سے مالا مال علاقوں کے عوام بھی اپنی سرزمین کی دولت سے حقیقی طور پر مستفید ہو سکیں۔
نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔




