تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل پر براہِ راست یا پراکسی گروپوں کے ذریعے کسی بھی حملے کی صورت میں انتہائی سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اس وقت ختم ہو سکتی ہے جب یا تو ایرانی حکومت اپنی پالیسی تبدیل کرے یا خطے میں عدم استحکام اور حملوں کی قیمت چکانے پر آمادہ ہو جائے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران خطے میں سعودی عرب، بحرین، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات، اسرائیل اور اردن سمیت متعدد ممالک کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں، تاہم ان کے بقول ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی معاہدے کے ساتھ یا بغیر، ہر صورت ختم ہونا چاہیے۔

نیتن یاہو نے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کی امریکی تجویز کی بھی حمایت کی۔ ان کے مطابق اس منصوبے کے تحت سعودی عرب کو صرف پرامن اور سویلین مقاصد کے لیے جوہری پروگرام کی اجازت دی جائے گی، جبکہ فوجی نوعیت کا جوہری پروگرام قابل قبول نہیں ہوگا، اور اس کے بدلے دونوں ممالک سفارتی تعلقات قائم کریں گے۔

لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی افواج نے حزب اللہ کو اسرائیل-لبنان سرحد سے 5 سے 8 میل پیچھے دھکیل دیا ہے اور تنظیم کے تقریباً 94 فیصد میزائل اور راکٹ تباہ کر دیے ہیں۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایک مجوزہ سہ فریقی معاہدے کے تحت کئی دہائیوں بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوگا، جس کے مطابق اسرائیل لبنان سے اپنی افواج واپس بلائے گا جبکہ لبنان حزب اللہ کو غیر مسلح کرے گا۔ تاہم نیتن یاہو نے اعتراف کیا کہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ لبنانی فوج اس علاقے پر مؤثر کنٹرول برقرار رکھ پاتی ہے یا نہیں۔