واشنگٹن: امریکا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنا ممکن ضرور ہے، تاہم اس کے نتیجے میں امریکی فوج کے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو سکتے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر جاری حملے عارضی طور پر روکنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق 13 روز سے جاری فوجی کارروائی روکنے کا فیصلہ جمعے کو کیا گیا، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ صرف عارضی وقفہ ہے یا باقاعدہ جنگ بندی۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران نائب صدر جے ڈی وینس اور جنرل ڈین کین نے ایران کے خلاف جنگ میں مزید شدت لانے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ جنرل ڈین کین نے نجی بریفنگ میں خبردار کیا کہ مسلسل بڑے حملے امریکی سینٹرل کمان کے دفاعی میزائل ذخائر پر شدید دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
ایک سینئر امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایران پر حملوں کے نتائج توقعات کے برعکس سامنے آئے ہیں، کیونکہ ان کارروائیوں نے ایران کو اندرونی طور پر مزید متحد ہونے اور بیرونی خطرات پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق حملوں میں وقفہ عمانی حکام کی سفارتی کوششوں کے باعث آیا، جنہوں نے جمعے کے روز ایران کا دورہ کرکے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس ایران کے خلاف حملے جاری رکھنے اور انہیں مزید شدید بنانے کا اختیار موجود ہے، تاہم ان کے بقول "زیادہ دانشمندانہ حکمت عملی ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا ہے۔"
دوسری جانب ایران نے بھی امریکا کے خلاف اپنی جوابی کارروائیاں عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی دفاعی نظام کی کمزوری کے باعث ایرانی ڈرونز اور میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق تہران اس وقت تک حملے روکنے پر آمادہ ہے جب تک امریکا بھی اپنی کارروائیاں معطل رکھے، تاہم ایرانی قیادت امریکی ارادوں پر اب بھی شکوک و شبہات رکھتی ہے اور اس کا مؤقف برقرار ہے کہ حملے کا جواب حملہ ہی ہوگا۔ ایران کا کہنا ہے کہ موجودہ وقفہ مستقل امن نہیں بلکہ ایک عارضی اور حکمتِ عملی پر مبنی اقدام ہے۔




