ریاض: یمن میں سعودی عرب کے سفیر محمد آل جابر نے کہا ہے کہ حوثی ملیشیا نے یمن کو بیرونی طاقتوں کے ہاتھوں میں ایک ایسا مہرہ بنا دیا ہے جسے اپنے مفادات کے حصول کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ اس کی قیمت یمن کے عوام امن، استحکام اور شدید انسانی مشکلات کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں محمد آل جابر نے کہا کہ حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں رہنے والے یمنی عوام ظلم، بھوک اور مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ حوثی اپنی ناکامیوں اور پیدا ہونے والے انسانی بحران کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے جھوٹے دعوے اور پروپیگنڈا پھیلا کر اس کا الزام بیرونی فریقوں پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ خود کو اس المیے سے بری الذمہ ظاہر کر سکیں۔
سعودی سفیر نے کہا کہ سعودی عرب یمنی عوام کی ہر ممکن حمایت جاری رکھے گا اور صنعاء بین الاقوامی ہوائی اڈے کو تجارتی پروازوں کے لیے دوبارہ کھولنے کی تمام کوششوں کی حمایت کرے گا تاکہ یمنی شہری آزادانہ سفر کر سکیں۔ ان کے مطابق حوثیوں نے بلاجواز وہاں سے پروازیں معطل کر رکھی ہیں۔
محمد آل جابر نے مزید کہا کہ سعودی عرب الحدیدہ کی بندرگاہوں پر بحری جہازوں کی آمد و رفت جاری رکھنے کی حمایت بھی کرتا رہے گا تاکہ یمنی عوام تک خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی متاثر نہ ہو۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حوثی ملیشیا بحیرۂ احمر میں شہری تجارتی جہازوں پر حملے کر کے بین الاقوامی بحری تجارت اور خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ یمن میں پائیدار امن صرف نعروں یا سیاسی چالوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ایسا مخلص عزم درکار ہے جو یمن اور اس کے عوام کے مفاد کو ہر چیز پر مقدم رکھے، تشدد، بیرونی مداخلت اور ان خارجی ایجنڈوں کو مسترد کرے جنہوں نے تنازع کو طول دیا اور لاکھوں یمنیوں کی مشکلات میں اضافہ کیا۔
آخر میں محمد آل جابر نے کہا کہ سعودی عرب ماضی کی طرح آئندہ بھی یمنی عوام اور ان کی قانونی حکومت کی حمایت جاری رکھے گا، یہاں تک کہ یمن میں امن، سلامتی اور استحکام بحال ہو جائے۔




