تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے منجمد اثاثوں سے متعلق بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر کو اپنے اس جارحانہ مؤقف کی پہلے سے کہیں زیادہ بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے ضبط کرکے انہیں مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی ادائیگی کے لیے استعمال کرنا نہایت خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قائم کرنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ ایسے ضبط شدہ فنڈز پر خوشی مناتے ہیں یا ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب حکومتیں اثاثے ضبط کرنے کو معمول بنا لیں تو پھر کسی کے بھی اثاثے محفوظ نہیں رہتے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس طرزِ عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والا انتشار نہ خوشگوار ہوگا اور نہ ہی پُرامن۔

ایک اور پوسٹ میں عباس عراقچی نے کہا کہ صدر ٹرمپ جس بے سوچے سمجھے جارحانہ رویے کی حمایت کر رہے ہیں، وہ صرف اس بات کو یقینی بنائے گا کہ انہیں اس کی پہلے سے کہیں زیادہ بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔