کراچی: بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری (BBSUL) میں رجسٹرار کی تقرری کا معاملہ ایک بار پھر تنازع کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ حکومتِ سندھ کے محکمہ جامعات و بورڈز نے وائس چانسلر کو ہدایت جاری کی ہے کہ رجسٹرار کی مستقل تقرری کا عمل یونیورسٹی ایکٹ، متعلقہ قوانین اور ضابطوں کے مطابق جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ شفافیت، میرٹ اور قانونی تقاضے یقینی بنائے جا سکیں۔

9 جولائی 2026 کو جاری کیے گئے سرکاری مراسلے کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر مجاز اتھارٹی نے رجسٹرار کی تقرری کا عمل مکمل قانونی طریقہ کار کے تحت انجام دینے کی ہدایت کی ہے۔ مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ تقرری ہر مرحلے پر قانون اور مقررہ ضابطوں کے مطابق ہونی چاہیے۔

یہ معاملہ 4 مارچ 2025 کو جاری ہونے والے اس تقرری نامے سے جڑا ہوا ہے جس کے تحت ایک بیرونی امیدوار کو رجسٹرار مقرر کیا گیا تھا۔ اس تقرری پر مختلف حلقوں کی جانب سے قانونی اعتراضات سامنے آئے تھے۔ اعتراضات میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ یونیورسٹی ایکٹ کے تحت رجسٹرار جیسے آئینی عہدے پر تقرری کے لیے باقاعدہ اشتہار، کھلا مقابلہ، سلیکشن بورڈ، متعلقہ قانونی فورمز اور جہاں ضروری ہو سندیکیٹ اور چانسلر کی منظوری لازمی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ متعلقہ افسر نے مبینہ طور پر باضابطہ تقرری نامہ جاری ہونے سے تقریباً ایک ماہ قبل ہی عہدے کا چارج سنبھال لیا تھا، جس پر بھی قانونی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ادھر قانونی و انتظامی ماہرین نے اس امر پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ موجودہ قائم مقام رجسٹرار کیپٹن رضا حیدر، جو خود بھی اس عہدے کے امیدوار بتائے جاتے ہیں، تقرری کے عمل، امیدواروں کی اسکرونٹی اور دیگر انتظامی مراحل کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسی صورتحال مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) کا تاثر پیدا کر سکتی ہے، اس لیے شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تقرری کا عمل کسی غیرجانبدار مجاز افسر کی نگرانی میں مکمل ہونا چاہیے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر سندیکیٹ کے رکن اور رکنِ سندھ اسمبلی یوسف بلوچ نے بھی وزیراعلیٰ سندھ کے سامنے اعتراض اٹھایا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب قائم مقام رجسٹرار خود امیدوار ہوں تو ان کی نگرانی میں تقرری کا عمل دیگر امیدواروں کے لیے مساوی مواقع اور شفافیت کے اصولوں پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔

دوسری جانب بعض اساتذہ اور متعلقہ حلقوں نے رجسٹرار کی تقرری اور دیگر انتظامی فیصلوں سے متعلق مزید بے ضابطگیوں کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ تاہم ان الزامات پر تاحال کسی عدالت یا مجاز فورم کی جانب سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا، اس لیے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری جامعات میں رجسٹرار سمیت تمام آئینی اور انتظامی عہدوں پر تقرریاں متعلقہ قوانین اور ضابطوں کے مطابق ہونا ہی ادارہ جاتی خودمختاری، شفافیت، میرٹ اور اچھی حکمرانی کی ضمانت ہے۔

خبر کی اشاعت تک بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کی انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔