واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی حکومت کے بعض ارکان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے امریکی پالیسی اور رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکی پوڈ کاسٹر جو روگن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ اسرائیلی حکومت کے اندر ایسے عناصر موجود ہیں جو امریکا کو موجودہ پالیسی سے ہٹانا چاہتے ہیں تاکہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی جاری رکھی جا سکے۔

انہوں نے گزشتہ ماہ ایران کے ساتھ طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارت کاری ہی مؤثر راستہ ہے، نہ کہ مزید فوجی کارروائیاں۔

جے ڈی وینس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیلی حلقوں نے امریکا میں ایک منظم مہم چلائی جس پر بھاری اخراجات کیے گئے تاکہ ایران سے متعلق امریکی مؤقف تبدیل کیا جا سکے۔ ان کے مطابق اسرائیلی حکومت معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انٹرویو کے دوران نائب صدر نے یہ بھی کہا کہ امریکا ایران میں زمینی فوج نہیں اتارے گا اور ایران تنازع کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی مذاکرات میں ہے۔

نوٹ: خبر میں شامل الزامات اور دعوے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے انٹرویو سے منسوب ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔