نیویارک: امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایران پر امریکی حملوں کے بعد تیل کی سپلائی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 85.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 0.5 فیصد اضافے کے ساتھ 80.02 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔

ماہرین کے مطابق حالیہ ہفتے کے دوران قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز سے تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات ہیں۔ تنازع سے قبل عالمی سطح پر تیل اور ایل این جی کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد حصہ اسی اہم آبی گزرگاہ کے ذریعے انجام پاتا تھا۔

دوسری جانب عالمی مالیاتی ادارے گولڈمین سیکس نے خبردار کیا ہے کہ اگر خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات محدود رہیں تو رواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔