تہران: ایران نے امریکا پر آبنائے ہرمز میں غیر قانونی راستہ بنانے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات سے خطے کے امن و سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ایرانی بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمنیہ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں ایک ایسا راستہ بنانے کے لیے مداخلت کر رہا ہے جو بین الاقوامی قوانین کے مطابق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی شرائط کا احترام کرنا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی مسلح افواج آبنائے ہرمز اور ملک کے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گی اور کسی بھی خلاف ورزی کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
دوسری جانب ایرانی چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر اپنے بیان میں کہا کہ یک طرفہ معاہدوں کا دور ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وعدوں کی پاسداری کی جائے، بصورت دیگر وعدہ خلافی کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔
قالیباف نے اپنی پوسٹ کے ساتھ "اسلام آباد مفاہمتی یادداشت" کے آرٹیکل 5 کی تصویر بھی شیئر کی، جس میں آبنائے ہرمز سے متعلق انتظامات کا حوالہ دیا گیا ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور خطے میں سیکیورٹی صورتحال بدستور تناؤ کا شکار ہے۔




