انسانوں کے بعد اب روبوٹس بھی دنیا کی بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنے لگے ہیں۔ 'پیمبا' نامی ایک ہیومینائیڈ (انسان نما) روبوٹ نے ایکواڈور کے بلند ترین آتش فشاں چمبورازو پر چھ ہزار میٹر سے زائد بلندی تک پہنچ کر روبوٹکس کی دنیا میں نئی تاریخ رقم کر دی۔
رپورٹس کے مطابق روبوٹ پیمبا نے انتہائی دشوار گزار برفانی راستوں، آکسیجن کی شدید کمی اور سخت موسمی حالات کے باوجود کامیابی سے یہ مہم مکمل کی، جسے روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور روبوٹکس کے شعبے میں نئی پیش رفت کی علامت ہے اور مستقبل میں ایسے روبوٹس کو خطرناک، دشوار گزار اور جان لیوا ماحول میں ریسکیو آپریشنز، سائنسی تحقیق اور دیگر اہم ذمہ داریوں کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے گا۔
ماہرین کے مطابق اس کامیابی سے ثابت ہوتا ہے کہ جدید روبوٹ مستقبل میں انسانوں کے شانہ بشانہ انتہائی مشکل حالات میں بھی مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔




