سکھر: سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ کی ڈویژنل بینچ نے سندھ کے RHCs اور ہیلتھ فسیلیٹیشن سینٹرز کا انتظام PPHI کے حوالے کرنے کے خلاف دائر آئینی درخواست کی سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس ارباب علی ہکڑو اور جسٹس عثمان علی ہادی شامل تھے۔
آئینی درخواست سماجی رہنما ابوذر غفاری کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے نامور قانون دان شبیّر شر ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کی گئی ہے، جس میں سندھ حکومت کے بنیادی صحت مراکز کا انتظام نجی ادارے PPHI کے حوالے کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران PPHI کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید علی جاگیرانی اور ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز سندھ کی جانب سے اپنے جوابات عدالت میں جمع کرا دیے گئے۔
عدالت نے PPHI کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید علی جاگیرانی کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کردی، جبکہ متعلقہ حکام کو بھی عدالت کے روبرو موجود رہنے کا حکم دیا گیا۔
درخواست گزار ابوذر غفاری کا مؤقف ہے کہ بنیادی صحت کی سہولیات عوام کا بنیادی حق ہیں، اس لیے سرکاری صحت مراکز کا انتظام نجی ادارے کے حوالے کرنے کے بجائے محکمہ صحت کی انتظامی اور فنی صلاحیتوں کو بہتر بنایا جائے تاکہ عوام کو مؤثر، شفاف اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت یکم ستمبر 2026ء تک ملتوی کردی۔ آئندہ سماعت میں PPHI کے چیف ایگزیکٹو کی ذاتی پیشی اور عدالت کے سامنے پیش کیا جانے والا مؤقف اہمیت کا حامل ہوگا۔




