کراچی: سندھ میں ایچ آئی وی (HIV) کے بڑھتے ہوئے کیسز پر متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رکن سندھ اسمبلی معاذ محبوب نے سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع کرا دی، جس میں بیماری کے پھیلاؤ، صحت کے بجٹ کے استعمال اور متعلقہ قوانین پر عملدرآمد کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

معاذ محبوب نے اپنی قرارداد میں مؤقف اختیار کیا کہ 392.16 ارب روپے کے صحت بجٹ، 368 ملین روپے کے سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام اور 268 ملین امریکی ڈالر سالانہ گرانٹ کے باوجود سندھ میں HIV کے کیسز میں مسلسل اضافہ تشویشناک ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ بھر میں HIV کے پھیلاؤ کی وجوہات جاننے کے لیے پارلیمانی انکوائری کمیٹی قائم کی جائے، جو 30 روز کے اندر اپنی رپورٹ سندھ اسمبلی میں پیش کرے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ صحت کے شعبے کے اربوں روپے کے بجٹ اور HIV کی روک تھام کے لیے مختص فنڈز کا مکمل آڈٹ کیا جائے، جبکہ سیکریٹری صحت 2010 سے اب تک ڈسپوزیبل سرنجوں کی خریداری، معائنوں، خلاف ورزیوں اور درج مقدمات کی تفصیلی رپورٹ اسمبلی میں پیش کریں۔

معاذ محبوب نے کہا کہ کراچی، سکھر، لاڑکانہ، شکارپور سمیت متاثرہ اضلاع میں HIV کے پھیلاؤ کی وجوہات، ممکنہ غفلت اور ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جائے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ ریگولیشن اینڈ کنٹرول آف ڈسپوزیبل سرنجز ایکٹ 2010 پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث بیماری کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 2010 سے اب تک خریدی گئی تمام ڈسپوزیبل سرنجوں کی خریداری، سپلائی اور تقسیم کا مکمل ریکارڈ اسمبلی میں پیش کیا جائے، جبکہ قانون کے سیکشن 3 اور 5 کے تحت عام ڈسپوزیبل سرنجوں کے استعمال پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ مزید برآں، تمام سرکاری و نجی اسپتالوں میں آٹو ڈسیبل (AD)، آٹو لاک اور ون ٹائم سرنجوں کے استعمال کو لازمی قرار دینے اور سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن ایکٹ سمیت متعلقہ قوانین پر عملدرآمد کی مکمل رپورٹ طلب کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

رکن سندھ اسمبلی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ HIV کے مزید پھیلاؤ کو روکنے اور سندھ کے تمام 32 اضلاع میں محفوظ طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔